سنگین غلطی کا ازالہ

سنگین غلطی کا ازالہ

قومی اسمبلی میں کاغذات نامزدگی میں ختم نبوت پر ایمان کا حلف نامہ اصل حالت میں بحال کرنے کی ترمیم اتفاق رائے سے منظور کر کے اس غلطی کا ازالہ کر دیا ہے جو سرزد ہوگئی تھی۔ سیاسی جماعتوں اور حکومت کی طرف سے تردید اور وضاحتوں کے باوجود ختم نبوت کے سلسلے میں حلف نامے کی ہیئت تبدیل کرنے کی کوشش کو ناکام بنا کر حکومت کو الیکشن ایکٹ میں فوری طور پر ترمیم پر مجبور کرنا ختم نبوت کے پروانوں کیلئے یقینا اطمینا ن کا لمحہ ہے ۔ اس ضمن میں دینی و دیگر سیاسی جماعتوں کا بالا تفاق یکساں موقف اختیار کرنا اس امر پر دال ہے کہ خواہ وہ جس بھی سیاسی نظریے اور نکتہ نظر کے حامل ہوں ختم نبوت ان کے دین و ایمان کا بنیادی حصہ ہے جس پر کوئی مصلحت ممکن نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کی زیر ک قیادت سے اس قسم کی غلطی کی توقع تو نہیں لیکن بہر حال اگر اس کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیا ہے اور وہ اس کے فوری ازالے پر تیار ہے تو اس معاملے کو یہی طے کرتے ہوئے ختم کرنا اس لئے بہتر ہوگا کہ یہ سیاسی مسئلہ نہیں لیکن بہر حال ایک دانستہ و نا دانستہ سعی کا بار مدتوں مسلم لیگ (ن) کی گردن پر پڑا رہنا اور عوام کا اسے نا پسند یدگی کے ساتھ یا درکھنا فطری امر ہوگا ۔ کسی بھی سیاسی جماعت کو دین اور عقید ے کے بارے میں حد درجہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے ۔ ان تمام معاملات سے قطع نظر ا س سہوا کا یہ فائدہ بہر حال سامنے آیا جس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ وطن عزیز کے عوام اور سیاستدان اسلام کے بنیادی عقائد پر پختہ ایمان رکھتے اور گزرتے وقت اور بدلتے زمانے کے ان کے عقیدے پر کسی قسم کے اثرات مرتب نہیں ہوئے ۔شمع رسالت کے پروانوں نے جب بھی کسی قسم کی کوئی نا پاک جسارت دنیا کے کسی کونے میں کی گئی ہو ہمیشہ سے پروانوں کی طرح جل کر فوری اور مسکت جواب دیا ہے اور انہوں نے ایک مرتبہ پھر یہ ثابت کردیا ہے کہ خواہ وہ جس شکل و صورت حیلے ذات اور برادری سے تعلق رکھتے ہوں یا ان کا مسلک جو بھی ہو ختم نبوت پر ان کا ایمان یکساں مضبوط اور متفقہ ہے جس کے حوالے سے وہ کوئی غلطی بھی برداشت کرنے پر تیار نہیں ۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں نواز شریف کا ختم نبوت کے حوالے سے حلف نامہ میں تبدیلی کی تحقیقات کا حکم ، وزیر قانون زاہد حامد سے وضاحت طلبی اور سپیکر ایاز صادق کو رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت اطمینان کا باعث اقدام ہے۔ جامع تحقیقاتی رپورٹ میں وزیر قانون سمیت جو بھی قصوروار پایا جائے اس کو عہدے سے الگ کیا جائے بلکہ زیادہ بہتر یہ ہوگا کہ بل کی تیاری میں جس درجے اور مرحلے میں غلطی ہوئی ہے اس کے ذمہ دار از خود مستعفی ہو جائیں ۔
ڈبلیو ایس ایس پی کی مایوس کن کار کردگی
ڈبلیو ایس ایس پی کی شہر میں صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے اور شہر کی صفائی کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات توقعات کے برعکس ہیں۔ معروضی حقائق بہر حال اس امر پر دال ہیں کہ واٹر اینڈ سینی ٹیشن کمپنی کی کارکردگی اور سابقہ میونسپل کارپوریشن کے شعبہ صفائی سے زیادہ مختلف نہیں۔ ہماری تجویز ہوگی کہ صوبائی وزیر بلدیات شہر کا اچانک دورہ کرکے صحت و صفائی کی صورتحال کاجائزہ لیں۔ اگر وہ اندرون شہر کی گلیوں میں جانے کے متحمل نہیں ہوسکتے تو نسبتاً بہتر علاقوں ہی کا دورہ کرکے دیکھیں تو شنیدہ کے بودمانند دیدہ کے مصداق ان کو صورتحال کا از خود علم ہوگا۔ اس کے بعد بھی اگر وہ کمپنی سے باز پرس کی بجائے ان کی کارکردگی کا دفاع کریں تویہ اس کی صوابدیدہوگی ۔ صوبائی وزیر بلدیات کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو سہولیات کی فراہمی کیلئے اربوں روپے وصول کرنے والی کمپنی کی انتظامیہ سے باز پرس کرے اور صوبائی خزانے سے خرچ ہونے والی اس خطیر رقم کے استعمال اور عوامی مفاد میں بروئے کار لائے جانے کو یقینی بنانے پر توجہ دے ۔ توقع کی جانی چاہیئے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویزخٹک شہر میں صفائی و نکاسی آب کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا خود بھی نوٹس لیں اور محکمہ بلدیات کے اعلیٰ حکام اور ڈبلیو ایس ایس پی کی انتظامیہ سے رپورٹ طلب کر کے کوتاہی کے مرتکبین کے خلاف کارروائی کرے اور صوبائی خزانے سے بھاری رقوم کے اخراجات کے باوجود صفائی کا مسئلہ حل نہ ہونے پر شہر کے بعض حصوں کو لیکر پی ڈی اے کے حوالے کرنے اور بعد میں باقی ماندہ حصوں کو بھی کمپنی سے واپس لیکر صفائی کا معقول انتظام یقینی بنوائیں ۔

متعلقہ خبریں