یہ زندگی ہے یا کسی کا انتظار

یہ زندگی ہے یا کسی کا انتظار

کسی مشکل وقت میں اگر اپنے ہی ساتھ چھوڑ جائیں تو نظریں غیروں کو ڈھونڈنے لگتی ہیں۔ ایسے میں پھر ہم ہم نہیںرہتے اور تم تم نہیں رہتے ۔زندگی اگر ساتھ رہ کر گزاری جائے تو بہت کم لگتی ہے ۔لیکن اپنوں کے انتظار میںگذارنی پڑ جائے اور پھر کسی کے ملنے کی امید بھی نہ ہونے کے برابر ہو تو ایک ایک پل پہاڑ کی طرح بھاری ہو جاتا ہے۔ ہم جن کے ساتھ وفا کرتے ہیںاور جن کے ساتھ خوشی سے زندگی گزارنا چاہتے ہیں اگر وہی ہمارے ساتھ نہ ہوںیا پھر ہم میںنہ ہوں تو پھر ان کو کہاںسے ڈھونڈ کرلائیں گے۔پھر کوئی غیر آدمی دوست بن کر سامنے آ جائے تو ہم ساری محبتیں اور وفائیں اُسی میں تلاشنے لگتے ہیں ۔ ہمارے تحت الشعور میں ہمارے اپنوں کی یادیں محفوظ رہتی ہیں جو نہ چاہتے ہوئے بھی ہماری نیند میں خواب کی طرح یاد بن کر دماغ سے جڑی رہتی ہیں۔پھر ان سے جڑے منفی پہلو جب ہمیںیاد آتے ہیں تو ہم نیند میں ڈر کر نیند کے لئے ترسنے لگتے ہیں ۔پھر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ عورت ذہنی مریضہ ہے مگر ایسی کوئی بات نہیں ہوتی۔بعض سانحے ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو ہم بھلا کر بھی نہیں بھلا سکتے۔مگر وہ مرتے دم تک ہماری زندگی کے ساتھی رہتے ہیں ۔ان گنت واقعات ہمارے لئے طرح طرح کے امراض کا سبب بنتے ہیں ۔خوشی کے مواقع زیادہ ہوں تب بھی دکھ ہی حاوی رہتا ہے ۔ایسے میں ہم اپنے آپ سے بھی دور ہونے لگتے ہیں ۔جس کی وجہ سے ہمیں نشہ آور گولیوں کاسہارا لینا پڑتا ہے۔کبھی کبھی تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم دن کے چکاچوند اجالے میںبھی اپنے آپ سے ہی ڈر جاتے ہیں۔وہ ہمارے اپنے جو اس دنیا سے ہمیشہ کے لئے رخصت ہو چکے ہیں وہ دوبارہ واپس نہیں آ سکتے۔مگر جو لوگ زندہ ہیں اور ہم سے دور ہیں اور ناراض ہیںہم انہیں کیسے منائیں اور کس طرح انہیں اپنے پاس لائیں۔بعض لوگ تو ساری زندگی کے لئے رشتوں کی ڈور توڑ دیتے ہیں۔پھر مرتے دم تک ایک دوسرے کا چہر ہ دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے۔ہم میں سے زیادہ تر لوگ اپنوں کی سچی باتوں کا اعتبار کرناتو دور کی بات ان کو سننا تک بھی گوارانہیں کرتے۔پھر غیروں کی لگائی ہوئی آگ سے اپنا گھر جلابیٹھتے ہیں ۔اگر پھر کبھی خوش قسمتی سے سچائی ہمارے سامنے آ جائے تو ہاتھ پہ ہاتھ ملتے رہتے ہیں مگر اُس وقت تک پانی سر سے گزر چکا ہو تاہے ۔ہم اچھی سے اچھی زندگی بھی گزار لیں اورہمارے گھروں میں ہر سہولت کی چیز میسر ہوسب کچھ ہمارے اختیار میںہوہم اپنی مرضی سے سوئیں جاگیں ہم پر کسی چیز کی پابندی بھی نہ ہومگر غم ہمارے تعاقب میں رہتے ہیں ۔ زندگی ایک تلخ حقیقت ہے جسے نہ چاہتے ہوئے بھی قبول کرنا پڑناہے۔ایک مولانا صاحب جیسے میرے بارے میں کہہ رہے تھے۔ٹی وی پرتقریر تھی۔انہو ں نے کہا زندگی ایک جاب ہے اور موت سب ذمہ داریوں اور دکھوں غموں سے چھٹی کا نام ہے ۔ان کی باتیں سن کر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ صبح شام کے ہونے میں زندگی جیسے برف کے باٹ کی طرح پگھل رہی ہے ۔جب کبھی اپنوں کی ضرورت ستاتی ہے تو کلیجہ منہ کو آتا ہے ۔مگر دل کو صبرسے کام لینا پڑتا ہے ۔کیونکہ اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی تو نہیں ہوتا۔کئی بھولی بسری یادو ں کو دامن میں لپیٹ کر جینا پڑتا ہے۔پھر اپنے ہی چمکتے ہوئے آنسوؤں کو اندر اندر سمونا پڑتا ہے جو دل کی گہرائیوں میں جا کر گرتے ہیں۔پھر ان کی روشنی کہاں سے کہاں تک جاتی ہے۔یہی روشنی ہمارے باطن کو بھی منور کردیتی ہے ۔ذرا سا صبر و برداشت کرنے اور اپنے آپ میںاستحکام پیدا کرنے سے ہمارے دونوں جہانوں میں اجالا ہو جاتاہے۔کبھی کبھی تو ہمارے اپنے ہاتھوں کی لگائی ہوئی گانٹھ اپنے دانتوں ہی سے نہیں کھل پاتی۔لیکن پھر بھی ہم اپنا قصور نہیں مانتے اور اپنی ہی تباہی کا قصوروار دوسروں کو ٹھہراتے ہیں ۔ایک روز ہمارے گھر میں کچھ مہمان تھے۔ چائے کے موقع پرانہوں نے مجھ سے سوال کیا کہ تم یا تو شاعری کرتی ہو یا پھر کالم لکھتی رہتی ہو۔ میں نے ایسے میں ان کو ایک سوال کے دو جوابات دیئے۔ ایک تو یہ کہ میں تو عام عورتوں سے ذرا ہٹ کے ہوںان محفلوں میں بیٹھنا پسند کرتی ہوں جہاں سے کچھ سیکھوں ۔ ایک دوسرے کے پیچھے باتیں کر کے ٹائم ضائع نہیںکرنا چاہتی۔اس پر وہ خاموش ہوگئے۔اصل میں لکھنے پڑھنے سے ہم اپنے ماضی کے دکھوں اور غموں کو بھلا سکتے ہیں اور اپنے وقت کو کسی مثبت باتوں میں خرچ کرسکتے ہیںوگرنہ تو یہ ہمارے لئے او رہمارے مستقبل کے لئے بہتر نہیں ہوتا۔اسی طرح فضول کی باتوں سے بچ کرگناہوں سے بھی کسی حد تک بچے رہیں گے اور آگے معاشر ے میں تھوڑا بہت مقام بھی حاصل کر لیں گے ۔ انسان اپنے آپ کو بہتر سے بہتر بنا سکتا ہے ۔لیکن اس کے لئے ہمیں تھوڑی سی محنت کرناپڑے گی ہمیںماضی سے لڑ کر جیتنا ہوگا۔ہمیں اچھے حال اوربہتر کل کو ڈھونڈناہوگا۔اسی طرح ہم اپنے بچوں اور آنے والی نسل کو بہترین مستقبل دے سکتے ہیں ۔جوکچھ ماضی میں ہمارے ساتھ اپنوں نے کیا ہے ہم اپنے بچوں کے ساتھ ایسا کبھی ہونے نہیں دیں گے۔یہ مضبو ط تہیہ ہی ہمیں اپنی منزلِ مقصود تک پہنچا سکتا ہے۔کیوں نہ ہم کچھ ایسا کر جائیں جس سے ہماری آنے والی پود اور ہمارے بچے ہمیں اچھے الفاظ میںیاد کریں۔دوسروں کے پروں پر اڑ کر زندگی گزارنے سے بہتر ہے کہ اپنی ٹپکتی ہوئی چھت کے نیچے زندگی بسر کی جائے۔اقبال کا سبق آموز شعر جیسے کہ 

وہی جہاں ہے ترا جس کو تو کرے پیدا
یہ سنگ و خشت نہیں جو تری نگاہ میں ہے

متعلقہ خبریں