تانت باجی راگ بوجھا

تانت باجی راگ بوجھا

ہر آمر نے خاص طور پر فوجی آمر وں نے حقیقی عوامی قیادت کی راہ پر روک لگانے کے لیے ایسے ضابطے وضع کیے تاکہ ان کی آمرانہ حکمرانی کے مقابل کوئی سچی وکھری عوامی طاقت نہ آسکے۔ یہ صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دنیا کے ہر اس ملک میں ہوا ہے جہاں آمر آئے۔ ان آمروں کو جہاں آمرانہ قوتو ں سے نبرد آزما ہونا پڑا ہے اس کے ساتھ ہی عدالتو ں کے دکھ بھی اٹھانا پڑ ے ہیں جس کی ایک مثال ترکی میں حالیہ فوجی انقلاب کی ناکامی ہے، جہا ں عوام نے سڑکو ں پر نکل کر فوجی آمریت کا راستہ کھوٹا کر دیا، ترکی میں ایسی کشمکش کئی عشروں سے جاری ہے جس کی وجہ سے کئی کو پھانسی کے پھند ے بھی پڑے۔اگر دنیا کے حالات وواقعات کا جائزہ لیا جائے تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ دنیا میں کہیں بھی اصل طاقت عوام نہیں ہیں بلکہ کوئی غیر مرئی طاقت ہے۔ امریکا کو ہی دیکھ لیں جہاں کے بارے میں یہ رائے ہے کہ طاقت کا سرچشمہ مقننہ یا انتظامیہ نہیں پینٹاگان ہے اور اس کے ساتھ شریک سی آئی اے اور عدالتیں ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو اوباما جو منشور لے کر وائٹ ہاؤس میں وارد ہوئے تھے اپنے اس منشور پر عمل کرنے میں کامیاب ہو جاتے مگر ان کو وہ کچھ کرنا پڑا جو پینٹاگان نے چاہا۔ طیب اردگان کو ترکی کی جمہوریت کو بچانے کے بعد نہ صرف انقلاب کی مساعی ناکا م کرنے والو ں کے خلاف کارروائی کرنا پڑی بلکہ عدالتو ں میں بھی جھاڑو پھیرنا پڑی۔ میاں نواز شریف اب جب کہ نااہلیت کے مرحلے سے گزرنے کے بعد ازسر نو مسلم لیگ کے صدر منتخب ہوئے تو انہوں نے اپنی تقریر میں چند سیدھے سیدھے الفاظ میںکہہ دیا براہ راست تنقید نہیں کی مگر انہو ں نے پہلی بار عدلیہ کی طرف اشارہ کیا کہ پہلے تو آمروں کو جواز دیا گیا، آمروں کی آئین شکنی کو جائز قرار دے کر وفاداری کے حلف اٹھائے گئے آئین کی خلاف ورزی کرنے والے صادق وامین ٹھہر ے، گویا سیدھے سے الفاظ ہیں مگر مارشل لا کو قانونی تحفظ دینے کے بارے میں اس سے زیادہ کڑوے الفاظ نہیں ہو سکتے۔ایک غلغلہ آفت خیز برپا ہے کہ حکومت نے ایک شیخ کے لیے آئین میں تبدیلی کی ہے۔ عجب سا لگتا ہے شور مچانے والوں میں وہ سیاست دان ہیں جن کو کل اس تبدیلی سے فائدہ پہنچنے والا ہے اور پہنچ سکتا ہے۔ جیسا کہ محولہ بالا کہاگیا کہ سیاسی قیادت کو روکنے کے لیے راہیںکھدر کی جاتی رہی ہیں۔ پاکستان میں سب سے پہلے یہ قبیح حرکت فوجی آمر ایوب خان نے ایبڈو کے نام پر کی تھی۔ تحریک پاکستان کے کئی رہنماؤں کو کرپشن کے نام پر سیاست کے لیے نااہل کر دیا گیا تھا ان میں قیوم خان اورممتاز دولتانہ، ایوب کھوڑو، جن کو نااہل نہیںکیا ان کو کنونشن لیگ کے لیے خریدا گیا، گویا سیاست کرنے کے لیے ایوب خان سے پہلے کوئی قانون نہ تھا۔ جب بھٹو مرحوم برسر اقتدار آئے تو انہوں نے اس قانون کو کتابوں میںسے مٹا دیا، بعد ازاں پرویز مشرف نے اپنی راہ سے نواز شریف اور بے نظیر کو ہٹانے کے لیے نااہلی کا آرٹیکل نافذ کیا، آئین میں ترمیم کا اختیار سپریم کورٹ نے فوجی آمر کو بن مانگے عطاکیا تھا۔ یہ بھی دنیا کی تاریخ کا عجب واقعہ ہے کہ جس کے لیے رجوع ہی نہیںکیا وہ خود ہی عدلیہ نے کرم فرمائی کر دی، چنانچہ یہ کہنا مناسب نہیں ہے کہ ایک شخص کے لیے آئین میں ترمیم کی گئی ہے بلکہ یہ درست ہے کہ آمر کی ترمیم عوام کے منتخب ادارے نے آمر کے منہ پر واپس مار دی ہے۔جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے کہ ہر ملک کے نظام میںطاقت کا منبع دیکھا جاتا ہے جیسا کہ ایران میں ہے کہ وہاں صدر بھی ہے اور وزیراعظم بھی ہے مگر طاقت کا منبع رہبر کو قرار دیا جاتا ہے۔ اگر اسی سوچ کے ساتھ دیکھا جائے تو پاکستان کے آئین کے مطابق پارلیمنٹ کو طاقت کا منبع ہونا چاہئے کیوں کہ پاکستان ایک پارلیمانی جمہوری ملک ہے اور اس کے ساتھ ہی اسلامی کا سابقہ بھی لگا ہوا ہے مگر جب عمران خان نے دھرنا نمبر ایک دیا تھا تو اس وقت انہوں نے بار بار امپائر کی انگلی کا ذکر کیا تھا عوام ششدر تھے کہ حکومت سے ہٹ کر بھی کوئی طاقت ہے جس کو عمران خان امپائر کے نام سے تشبیہ دے رہے ہیں مگر عوام نے سیاست دانوں کی ماضی کی مو شگافیوں کی بنا پر عمران خان کے اس جملے کو ایک تڑی سے زیادہ اہمیت نہ دی مگر گزشتہ روز احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نوازشریف کی پیشی کے وقت جو واقعہ ہوا اس نے امپائر کی پول پٹی کھول دی۔ اب عوام کو ایقان ہو چلا ہے کہ نہیں مقننہ ،انتظامیہ اور عدلیہ کے علاوہ بھی کوئی غیر مرئی طاقت کا سر چشمہ ہے۔جب رینجرز نے کارروائی کرتے ہوئے کمرہ عدالت سے بااجازت صحافیوں سے عدالت کا کمرہ خالی کرا لیا تو وہاں موجود کئی صحافیوں کو گمان تھا کہ جب عدالت لگے گی تو جج صاحب صحافیوں کی غیر حاضری کو محسوس کریں گے اور حالات کا ادراک کرنے کے بعد صحافیوں کو عدالت میں داخلے کی اجازت ازسر نو مل جائے گی مگر صحافی حضرات کمرہ عدالت کے دروازے کا منہ تکتے رہ گئے۔ جب سماعت ہو گئی تو انہیں مدعو کیا گیا اور جج صاحب نے صحافیوں سے اس واقعہ پر کہا کہ آئندہ پیشی پر ان کو روکا گیا تو وہ خود دروازے پر لینے آئیںگے۔ گمان تو صحافیوں کو یہ بھی تھا جب وہ جج صاحب کو بتائیں گے کہ صحافیوں کے ساتھ کیا ہا تھ کیا گیا ہے کہ کمرہ عدالت میں گھس کر ان کو نکالا گیا تو وہ ضرور کوئی ایکشن لیں گے مگر جج صاحب نے جو فیصلہ لکھا ہے اس میں رینجرز کی جانب سے کنٹرول سنبھالنے کی تعریف کی ہے اور حکومت کا شکریہ ادا کیا گیا کہ اس نے رینجرز کو حفاظتی اقدام کے لیے تعینات کیا، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جج صاحب کے علم میں ہی نہیںآیا کہ حکومت نے ایسا کوئی عمل نہیںکیا ہے بلکہ وہ خود رینجرز کے اس اقدام سے متاثر اور عجز انکسار کا نشانہ ہے، اب توقع ہے کہ حالات سے جج صاحب باخبر ہو گئے اور وہ احاطہ عدالت میں بلاجواز اور بلااجازت داخل ہونے کا نوٹس لیںگے۔ اس کے علاوہ عدالت کے کمرے سے صحافیوں کو نکالنے کا بھی نوٹس لیا جائے گا۔