معاشرے کی تشکیل میں اساتذ ہ کا کردار

معاشرے کی تشکیل میں اساتذ ہ کا کردار

خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جن کی زندگی میں اچھے استاد میسر آجاتے ہیں، ایک معمولی سے نوخیز بچے سے لے کر ایک کامیاب فرد تک سارا سفر اساتذہ کا مرہون منت ہے۔ وہ ایک طالب علم میں جس طرح کا رنگ بھرنا چاہیں بھر سکتے ہیں۔ استاد قوموں کی تعمیر میں بڑا اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اچھے لوگوں کی وجہ سے اچھا معاشرہ تشکیل پاتا ہے اور اچھے معاشرے سے ایک بہترین قوم تیار کی جا سکتی ہے۔ اساتذہ اپنے آج کو قربان کر کے بچوں کے کل کی بہتری کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ دیگر معاشروں اور مذاہب کے مقابلے میں اگر اسلام میں استاد کے مقام کے بارے میں ذکر کیا جائے تو اسلام اساتذہ کی تکریم کا اس قدر قائل ہے کہ وہ انہیں روحانی باپ کا درجہ دیتا ہے۔کسی بھی انسان کے اصلی والدین اس کو آسمان سے زمین پر لے کر آتے ہیں لیکن استاد اس کی روحانی اور اخلاقی تربیت کے نتیجے میں اسے زمین کی پستیوں سے اٹھا کر آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دیتا ہے۔ طالب علم کو آسمانوں کی بلندیوں تک پہنچانے میں اساتذہ بہت نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی لیے اللہ کے نبیۖ نے بے شمار جگہوں پر اساتذہ کے احترام کا حکم دیا۔ نبی رحمت کا ارشاد ہے کہ '' مجھے معلم بنا کر معبوث کیاگیا ہے ''۔ اسلام میں علم کے حصول کے لیے کئی مقامات پر تاکید کی گئی ہے۔اساتذہ علم کے حصول کا براہ راست ذریعہ ہیں اس لیے ان کے احترام کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ اساتذہ کا احترام اسلامی نقطہ نظر سے دو اعتبار سے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک تو وہ منبع علم ہونے کے ناطے ہمارے روحانی اساتذہ ہوتے ہیں۔ ہماری اخلاقی اور روحانی اصلاح کے لیے اپنی زندگی صرف کرتے ہیںاور دوسرا وہ طلبہ سے بڑے ہوتے ہیں اور اسلام بڑوں کے احترام کا حکم بھی دیتا ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اکثر کہتے تھے کہ '' جس نے مجھے ایک لفظ بھی پڑھایا وہ میرا آقا بن گیا۔'' طلبہ کی اپنے اساتذہ سے محبت کی مثالیں تاریخ کے اواراق میں جا بجا ملتی ہیں ۔ ہارون الرشید کے بیٹوں کا واقعہ ہو یا علامہ اقبال کا واقعہ۔جو طلبہ اپنے اساتذہ کا احترام کرتے ہیں ان کو عزت دیتے ہیں۔ ان کی تکریم کا خیال رکھتے ہیں اور پڑھائی مکمل ہونے کے بعد اپنے اساتذہ کی عزت اور وقار کا خیال رکھتے ہیں۔ہمیشہ کامیابی اور کامرانی ان کے قدم چومتی ہے۔ امام ابو حنیفہ' امام محمد' امام احمد بن حنبل اور امام شافعی اسلامی تاریخ کے نمایاں اساتذہ میں شامل ہیں۔ جبکہ ان کی ا پنی زندگی اساتذہ کے ساتھ خوب صورت تعلق سے عبارت تھی۔

ان کی زندگی کے بارے میں جا بجا ہمیں ایسی مثالیں ملیں گی جو روشنی کے ایسے مینار کی مانند نظر آتی ہیں جن سے انسانیت آج بھی مستفید ہو رہی ہے۔اگر علم کی اہمیت اور افادیت کے بارے میں غور کیا جائے تو اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ آج کے جدید دور کی بنیاد علم پر ہے۔ باشعور اور پڑھی لکھی قومیں عروج کی منازل طے کرتی ہیں۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کی ساری ترقی کے پیچھے اساتذہ کا بڑا اہم کردار ہے۔ عموماً ایسا ہوتا ہے کہ اساتذہ اپنے طلبہ کو بھول جاتے ہیں لیکن یہ کبھی ممکن نہیں کہ طلبہ اپنے اساتذہ کو یاد نہ رکھیں۔ طلبہ اپنے اساتذہ کو ہمیشہ یاد رکھتے ہیں لیکن اس کے باوجود اچھے طالب علم ہمیشہ اساتذہ کو یاد رہتے ہیں۔ ایک اچھے طالب علم کی نشانی ہے کہ وہ سکول ' کالج اور یونیورسٹی کے اندر پڑھائی کے دوران اپنے اساتذہ کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھے اور جب وہ ان تعلیمی اداروں کو چھوڑ دے تب بھی اپنے اساتذہ کو نہ بھولے۔ چند ممالک میں اس دن سرکاری طور پر تعطیل کا اعلان بھی کیا جاتا ہے۔
اس دن کو منانے کا مقصد اساتذہ کی اقوام عالم کے لیے خدمات کا اعتراف کرنا ہے۔ یہ ایک حیران کن بات ہے کہ مختلف ممالک میں یوم اساتذہ مختلف دن کو منایا جاتا ہے مگر تمام ممالک میں ایک بات مشترک ہے کہ اساتذہ کا دن انتہائی خلوص، محبت اور عقیدت سے منایا جاتا ہے اور اس عزم کی تائید کی جاتی ہے کہ آنے والی نسل کی پرورش کے لیے بھی اساتذہ کے کلیدی کردار کی ضرورت ہے۔آج بھی کئی مغربی ممالک میں اساتذہ ٹریفک کے سگنلز کی پابندی سے مستثنیٰ ہیں ۔ انہیں حکمرانوں جیسا پروٹوکول دیا جاتا ہے معروف دانشور اشفاق احمد مرحوم نے ایسے ایک واقعہ کا تذکرہ کیا کہ روم میں گاڑی کے ایک چالان کے سلسلہ میں عدالت میں پیش ہونا پڑا لیکن جب جج کو انکا تعارف بطور استاد ہوا تو وہ احتراماً اپنی کرسی سے اٹھ کر ایک طرف کھڑا ہوگیا۔ کوئی بھی مہذب و ترقی پسند قوم ملک معاشرہ استاد کے مقام و مرتبہ اور اہمیت سے انحراف نہیں کرسکتا خصوصاً اسلامی معاشرہ میں تو اساتذہ و علماء کو جو ادب و احترام حاصل ہے اسکی نظیر کوئی دوسرا مذہب و معاشرہ دینے سے قاصر ہے۔

متعلقہ خبریں