اب بریکس ممالک کی جانب سے مطالبہ

اب بریکس ممالک کی جانب سے مطالبہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خطاب کے بعد دنیا کی پانچ اہم ابھرتی ہوئی معیشتوں کی تنظیم بریکس کی جانب سے پہلی مرتبہ اپنے اعلامیے میں پاکستان میں پائی جانے والی شدت پسند تنظیموں لشکرِ طیبہ اور جیشِ محمد کا ذکر شامل کرنا پاکستان کے لئے ایسی نئی صورتحال ہے جس میں وہ ممالک بھی ہمیں وہی مشورہ دے رہے ہیں جن پر ہمارا بڑی حد تک انحصار ہے۔بریکس کے ارکان میں انڈیا، چین، برازیل، روس جنوبی افریقہ شامل ہیں۔ چین میں ہونے والی تنظیم کی کانفرنس کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دہشتگردی کے واقعات میں ملوث، ان کا انتظام کرنے یا حمایت کرنے والوں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جانا چاہیے۔اس اعلان کو انڈیا کی سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ پانچوں ممالک کے سربراہان نے مشترکہ اعلامیے میں ایسے تنظیموں کی سخت مذمت کی ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کو جاری رکھنے کا اعادہ کیا گیا۔43 صفحات پر مشتمل اعلامیے میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ افغانستان میں فوری طور پر جنگ بندی ہونی چاہیے۔بریکس ممالک نے خطے میں بدامنی اور طالبان، دولتِ اسلامیہ، القاعدہ اور اس کے ساتھی گروہوں بشمول مشرقی ترکستان اسلامک موومنٹ، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان، حقانی نیٹ ورک، لشکرِ طیبہ، جیشِ محمد، ٹی ٹی پی اور حزب التحریر کی وجہ سے ہونے والے فساد کی بھی مذمت کی۔یہ تنظیم کا نواں اعلی سطح کا اجلاس تھاجس میں ہر قسم کی دہشتگردی کی مخالفت کا بھی اعادہ کیا۔تنظیم نے اس بات کو دہرایا ہے کہ دہشتگردی کا خاتمہ کرنا اولین طور پر ریاست کی ذمہ داری ہے اور بین الاقوامی معاونت کو خود مختاری اور عدم مداخلت کی بنیادوں پر فروغ دینا چاہیے۔یاد رہے کہ اس اجلاس سے پہلے چینی وزیرِ خارجہ نے کہا تھا کہ ہمیں معلوم ہے کہ انڈیا کے پاکستان کی جانب سے انسدادِ دہشتگردی کے حوالے سے خدشات ہیں تاہم ان کے خیال میں بریکس اس پر بحث کرنے کا درست فورم نہیں ۔ لیکن بعد میں جو اعلامیہ سامنے آیا اس میں بھارت کے تحفظات کو خاصی حد تک شامل کیاگیا جو خاصے اچنبھے کی بات ہے۔واضح رہے کہ گذشتہ بریکس اجلاسوں میں چین نے پاکستان میں پائے جانے والے گر وہوں کو اعلامیے میں شامل نہیں ہونے دیا تھا۔ حالانکہ گذشتہ اجلاس اوڑی حملے کے ایک ہفتے بعد ہی ہورہا تھا۔اب دیکھنا یہ ہوگا کہ چین اقوام متحدہ کی جانب سے جیشِ محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو اقوام متحدہ کی جانب سے عالمی دہشتگرد قرار دینے کی کوشش پر کیا ردِ عمل ظاہر کرتا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خطاب اور امریکی پالیسیوں میں پاکستان کے حوالے سے تبدیلی کے بعد خطے کے ممالک کی جانب سے پاکستان کی ڈھارس ضرور بندھائی گئی۔ چین نے خاص طور پر سخت بیان جاری کیا ماسکو کی جانب سے بھی پاکستان کے حوالے سے موافقانہ بیان دیاگیا مگر اب اچانک یہی ممالک بھی کم و بیش وہی مطالبہ دہرانے لگے ہیں جس پر غور کرنے اور اس امر کے حقیقی وجوہات کا معروضی اور حقیقت پسندانہ انداز میں جائزہ لینے کی ضرورت ہے اور ایسے اقدامات پر توجہ کی ضرورت ہے کہ ہمیں محولہ قسم کی صورتحال مزید درپیش نہ رہے اور دنیا ہم پر اعتماد کرنے لگے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ تازہ صورتحال میں وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کے چین اور روس کے طے شدہ دوروں کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنوبی اشیاء کے بارے میں پالیسیوں کے اعلان کے پس منظر میں برکس کے مخصوص دہشت گرد تنظیموں سے متعلق ژیامن ڈیکلیئریشن کی روشنی میں اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ برکس کے اجلاس میں جن دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیاگیاہے وہ پہلے ہی پاکستان میں کالعدم قرار دی جا چکی ہیں اور ان کو کام کرنے کی اجازت نہیں۔ یہ تنظیمیں کالعدم قرار دئیے جانے کے بعد بڑی حد تک غیر موثر ہوگئی ہیں اور ان کی سرگرمیاں نظر نہیں آتیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے محولہ تنظیموں کے نام واضح طور پر نہیں لئے تھے مگر برکس اعلامیہ داعش' حقانی نیٹ ورک' لشکر طیبہ' تحریک طالبان پاکستان اور حزب التحریر کے باقاعدہ نام لئے گئے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ برکس ممالک کی جانب سے جن تنظیموں کا نام لیا گیا ہے ان میں سے کوئی بھی تنظیم کا بظاہر پاکستان میں کوئی وجود نہیں داعش کی پاکستان کے کسی علاقے میں موجودگی کا کوئی ثبوت نہیں البتہ پاک فوج نے حال ہی میں راجگال میں اس تنظیم کے پاک افغان سرحدی علاقے کے دشوار گزار ترین علاقے میں اس کی موجودگی کی اطلاعات میں بھرپور موثر اور کامیاب آپریشن کیا جس کے بعد راجگال کے گھنے جنگلات اور سنگلاخ پہاڑوں کی چوٹیوں تک پاک فوج کی دسترس حاصل ہوگئی ہے اور پورا علاقہ مکمل طور پر کلیئر ہو کر پاک فوج کی موجودگی اور نگرانی میں آیا ہے۔ حقانی نیٹ ورک کا وجود شاید ہی پاکستان میں باقی ہو بلکہ اگر دیکھا جائے تو داعش اور حقانی نیٹ ورک کے ساتھ ساتھ تحریک طالبان کے بچے کچھے عناصر افغانستان جا چکے ہیں جہاں ان کے ٹھکانوں کے خاتمے کی ضرورت ہے جبکہ لشکر طیبہ کی پاکستان میں موجودگی صرف چندے اور افرادی قوت کے حصول کی سعی کی حد تک ماضی میں ضرور رہی ہے مگر اب اس کا بھی کوئی وجود یہاں موجود نہیں۔ حزب التحریر کے حوالے سے اس قدر سخت موقف اور اس کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے جواز کی ٹھوس بنیاد اس لئے نہیں کہ اولاً اس پر بھی پاکستان میں پابندی عائد ہے اور یہ بھی کالعدم تنظیموں میں شمار ہوتا ہے اس کے باوجود کہ حزب التحریر مسلح جدوجہد پر یقین ہی نہیں رکھتی اور نہ ہی تنظیمی طور پر یہ دہشت گردی کے کسی واقعے میں ملوث رہی ہے اس کے باوجود اس کی سرگرمیوں پر نہ صرف کڑی نظر رکھی جاتی ہے بلکہ اس کے ارکان کی گرفتاریاں بھی ہوتی رہیں جس کے باعث اس تنظیم کے وجود اور بقاء کے حوالے سے کسی تشویش کا اظہار یا اس کے خلاف کارروائی کا مطالبہ سمجھ سے بالا تر ہے۔ بہر حال ان تمام حقائق کے باوجود امریکہ کے بعد برکس ممالک کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کی روشنی میں ان تمام وجوہات کا از سر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے جو اس طرح کے مطالبات کا محرک بنتے ہیں۔ وزیر خارجہ کے اپنے دورے میں اس حوالے سے خاص طور پر ان ممالک کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے اور ان کو اس امر پر قائل کرنے کی سعی کی ضرورت ہے کہ اب ان عناصر کا پاکستان میں کوئی وجود نہیں اور اگر زیر زمین ان عناصر کی کوئی سرگرمیاں ہوں تو اطلاع ملنے پر ان کے خلاف کسی کارروائی سے گریز نہیں کیاجائے گا تاکہ غلط فہمی کاامکان باقی نہ رہے۔

متعلقہ خبریں