اس نظام کا تجربہ کرنے میں حرج نہیں

اس نظام کا تجربہ کرنے میں حرج نہیں

خیبرپختونخوا میں علاج معالجے کی سہولتوں کی بہتری اور ہسپتالوں میں مریضوں کے اژدھام میں کمی لانے کے لئے برطانوی نظام صحت میں جنرل پریکٹیشنر سروس کے اجراء کی پیشکش کو قبول کرنے میں اس لئے بھی قباحت نہیں کہ تجرباتی بنیادوں پر اس نظام کے متعارف کرانے کے اخراجات خود برطانیہ برداشت کرنے کو تیار ہے۔ ہمارے تئیں ہمارے ہاں اس سہولت کی سب سے زیادہ ضرورت اس لئے بھی ہے کہ ہمیں بیماریوں اور اس کی تشخیص اور علاج کے حوالے سے زیادہ آگہی نہیں جس کے باعث مریض کئی کئی جگہوں پر بھٹکتا رہتا ہے اس دوران ان کے مر ض کی شدت میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور اخراجات بھی کافی آتے ہیں۔ کسی بڑے ہسپتال سے رجوع پر بھی مریض کو کئی کاونٹر مارے مارے پھیرنے پڑتے ہیں۔ ان ساری مشکلات کے باعث مریض مرض کے بگڑنے تک ڈاکٹر سے رجوع کرنے سے بھی کتراتے رہتے ہیں ایسے میں اگر ایک سہل نظام وضع کیاجائے جس میں مریض ابتداء ہی میں بہ آسانی ڈاکٹر سے رجوع کرسکے اور مستزاد جو ٹیسٹ ایکسرے لئے جائیں وہ کمپیوٹرائزڈ طریقے سے متعلقہ ڈاکٹر کو منتقل کیا جائے تو آسانی ہوگی۔ اس وقت غیر ضروری اور قسم قسم کے ٹیسٹوں اور دیگر تشخیصی کام کا معیار ایسا نہیں ہوتا جیسے بڑے ہسپتالوں میں ماہر ڈاکٹر قبول کریں یا پھر اس میں ڈاکٹروں کا کوئی مفاد وابستہ ہے اس نئے نظام میں متعلقہ ڈاکٹر کے پاس تمام تفصیلات ایک نظام اور طریقہ کار کے تحت جائے گا جسے نظر انداز کرنا ان کے لئے مشکل ہوگا۔ بہر حال اس میں کیا خامیاں اور خوبیاں سامنے آتی ہیں اس کا صحیح علم تو اس طریقہ کار کے اجراء کے بعد ہی ہوگا باوجود اس کے یہ طریقہ کار موزوں اور مفید نظر آتا ہے جس کا ایک ترقی یافتہ ملک میں تجربہ ہوچکا ہے اس طریقہ کار کو اختیار کرنے میں مضائقہ نہ ہوگا سوائے اس کے کہ اسے مکمل طور پر اختیار کیا جائے اور جو طریقہ کار دیا جائے اس پر سو فیصد عملدرآمد کو یقینی بھی بنایا جائے۔
عید قرباں یا باربی کیو پارٹی؟
عیدالاضحی کے موقع پر سنت ابراہیمی کی یاد تازہ کرتے ہوئے اپنی استطاعت کے مطابق جانوروں کی قربانی ایک دینی فریضہ ہے جس کی ادائیگی ہر مسلمان کی کوشش رہتی ہے۔ قربانی کے گوشت کی تقسیم میں کچھ بے احتیاطی کا مظاہرہ ضرور ہونے لگا ہے جس کی بڑی وجہ ریفریجریٹرز اور خاص طور پر ڈیپ فریزرز کی سہولت کا ملنا ہے جس کے باعث قربانی کے گوشت کی تقسیم کم اور ذخیرہ اندوزنی زیادہ ہے۔ قربانی کا سارے کا سارا گوشت رکھنے کی عیالدار شخص کے لئے گنجائش تو موجود ہے لیکن اس طرح سے قربانی کا حقیقی مقصد اور روحانی برکت کا حصول ممکن نہیں۔ عیدالاضحی مذہبی تہوار اور مسلمانوں کی خوشیوں کا دن ضرور ہے لیکن فی زمانہ قربانی کے مقاصد اور پس منظر کو ایک طرف رکھتے ہوئے جس طرح اسے باربی کیو' تکہ کڑاہی اور سیخ کباب کھانے کی محفل سجانے اور ہلہ گلہ کرنے کا موقع بنا دیا ہے جو ہر گز اس عید سعید کا مقصد نہیں۔ اس کا مقصد غریب اور نادار افراد سے خصوصی ہمدردی اور ان کا خیال رکھنا ہے۔ اگر ہمارے بعض علاقوں میں قربانی کا گوشت دینے کو مستحق افراد دستیاب نہیں تو کیا صاحب حیثیت افراد کچی بستیوں اور دیہات میں جا کر گوشت کی تقسیم سے ثواب نہیں کما سکتے۔ جن لوگوں نے فریزر بھر رکھے ہیں ان کو چاہئے کہ وہ اب بھی غریبوں کا حصہ نکالیں اور ان کو پہنچائیں بھی۔

متعلقہ خبریں