تاریخ کے بدترین بھنور میں پھنسا پاکستان

تاریخ کے بدترین بھنور میں پھنسا پاکستان

اس برس ہم نے پاکستان کی سترھویں سالگرہ منائی۔ستر سال کسی بھی ملک کے عوام کو ایک قوم بنانے کے لئے کافی ہوتے ہیں لیکن مارشل لائوں کی'' برکت'' سے ہم آج بھی ایک ہجوم کی مانند ہیں۔ستر سال بعد بھی ہماری حالت یہ ہے کہ جس منزل کا تعین قائد اعظم نے کیا تھا وہ کہیں نظر نہیں آتی۔ستر سال بعد بھی ہم کسی واضح نظام کے بغیر زندگی گزار رہے ہیں۔کہنے کو جمہوریت ہے لیکن یہ جمہوریت کتنی آزاد ہے اس کی خبر عامتہ الناس کو نہ سہی لیکن ان لوگوں کو ضرور ہے جو نظام کی باریکیوں کو سمجھنے کی قدرت رکھتے ہیں۔

ملک کے اندر تقسیم در تقسیم ہے۔ایک زمانے میں کہا جاتا تھا کہ سنی شیعہ تقسیم ملک کے لئے خطرناک ہے لیکن جس تقسیم کی ابتدا چند برس پہلے ہوئی یہ اس سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔سیاسی بنیادوں پر نظر آنے والی اس تقسیم کے ''موجد'' عمران خان ہیں جنہوں نے پہلے سیاست سے شائستگی کے عنصر کو ختم کیا اور دوسروں کی پگڑی اچھالنے کا کلچر متعارف کرانے کے بعد مخالفین پر اس بری طرح کیچڑ اچھالا کہ اب یہ کلچر ان کی جماعت سے نکل کر دوسری جماعتوں میں بھی سرایت کر گیا ہے اور پورے کا پورا سیاسی نظام ہی پراگندہ ہو گیا ہے۔سیاسی نظام کا گالی بن جانا ان قوتوں کے لئے باعث اطمینان ہے جنہوں نے جمہوریت کو مسموم کرنے کے لئے پورے ستر سال تک اسکی بیخ ماری۔نوابزادہ نصر اللہ خان ان قوتوں کو طالع آزما کہا کرتے تھے۔یہ طالع آزما ہر جمہوریت پسند کوبے وقوف اور جاہل سمجھتے ہیںاور اپنی حماقتوںپر پردہ ڈالنے کے لئے اپنے گناہوں کو بھی سیاسی لوگوں کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں مثال کے طور پر سانحہ مشرقی پاکستان میں مغربی پاکستان کی سیاسی قیادت کا کوئی عمل دخل نہ تھا لیکن عشروں تک اس سانحے کو بھٹو کے سر منڈھا جاتا رہا اور دائیں بازو کے لوگوں کو بائیں بازو کے بھٹو پر دشنام طرازی کے لئے استعمال کیا جاتا رہا۔طاقت کے تمام مراکز چونکہ طالع آزمائوں کے قابو میں تھے اس لئے دائیں بازو کے لوگ طویل عرصے تک بھٹو کو غدار کے طور پر پیش کرتے رہے اور وہ بے چارہ اس الزام کا داغ سینے پر لئے دار پر جھولا تو پھر اس موذی الزام سے اس کی جان چھوٹی۔
بھٹو خاندان اس کے بعد بھی معتوب رہا۔بے نظیر بھٹو عوام کی مقبول راہنما تھیں۔دو بار عوام نے انہیں مینڈیٹ دیا لیکن وہ اس وقت تک وزارت عظمیٰ کا حلف نہ اٹھا سکیں جب تک کہ انہوں نے طالع آزمائوں کے ساتھ سمجھوتہ کر کے مشروط اقتدار پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔مشروط اقتدار کے بعدبھی ان کی حکومت کو دو اڑھائی سال سے زیادہ چلنے نہ دیا گیا اور وہ جلاوطنی پر مجبور ہوئیں۔ان کے شوہر آصف علی زرداری کو گیارہ سال اس جرم میں پابند سلاسل رکھا گیا کہ اس نے بینظیر بھٹو سے شادی کی تھی۔ بہن کی حکومت میں اس کے بھائی میر مرتضیٰ کو سر عام روڈ پرمار دیا گیا۔دوسرا بھائی پر اسرار طور پر پیرس میں مردہ پایا گیا۔ماں ذہنی صدمے سہہ سہہ کر مستقل مریض بن کر رہ گئی اورایک روز راولپنڈی کے مری روڈ کی ذیلی شاہراہ پر بی بی بھی اس طرح قتل ہوئیں کہ قاتل کا کوئی نشان ملا اور نہ ماسٹر مائینڈ کا کوئی سراغ۔ دس سال تک یہ اندھا قتل بی بی کے بچوں کو خون کے آنسو رلاتا رہا اور جب اس مقدمے کا طویل عرصے بعد فیصلہ آیا تو سزا ان دو افسروں کو ہوئی جو اس سسٹم کے معمولی کل پرزے تھے۔قتل کو اس وقت کے ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے بیت اللہ محسود کے کھاتے میں ڈالا جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مارا گیا تو کہانی ختم ہو گئی۔
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو
ستر سالوں سے ملک کو اپنے ڈیزائینز کے مطابق چلانے والوں نے شاید جو سوچا تھا ظاہر ہے کہ دنیا تو اس کی پابند نہیں تھی سو آج ہمارے ارد گرد جو نقشہ بنا ہوا ہے اس پر نظر ڈالیں تو مشرق میں بھارت ہمارا دشمن اور مغرب میںافغانستان ہمارے درپے آزار۔ایران کے ساتھ بھی ہمارے تعلقات خراب جبکہ امریکہ جسے ہمارے سسٹم میں ستر سال تک کلیدی حیثیت حاصل رہی آج سب سے بڑے دشمن کے طور پر ابھر کر سامنے آرہا ہے۔ایوب خان کے دور میں جب امریکی صدر نے پاکستان کا دورہ کیا تو اونٹوں کے گلوں میں ویلکم امریکہ کی تختیاں لٹکا کرجس رومانس کی ابتدا کی گئی اس کا زور بھٹو نے اپنے چند سال کے دور اقتدار میں توڑا لیکن بھٹو کا تختہ الٹنے والے ضیا الحق نے روس کے افغانستان داخلے کے بعد امریکہ کو اس جنگ میں شامل کر کے اس رومانس کو بام عروج پر پہنچا دیا اور ایک ایسے خطرناک اونٹ کو خیمے میں گھسنے کا موقع فراہم کر دیاجو ایک بار کہیں گھس جائے تو اسے نکالا نہیں جا سکتا۔اس جنگ کا تنورایک عشرے سے زیادہ گرم رہا اور جب ٹھنڈا پڑا تو اسے دوبارہ گرمانے کا بندوبست پرویز مشرف جیسے ڈکٹیٹر کی صورت میں کیا گیا۔اس بار ہدف وہ لوگ تھے جو روس امریکہ جنگ میں امریکہ کے لاڈلے تھے۔ان لوگوں کی پاکستان سے کوئی دشمنی نہیں تھی۔ پاکستان کے بے تنخواہ سپاہی سمجھے جانے والے یہ لوگ امریکہ کا ہدف بنے تو قوم کو مکے دکھانے والا ڈکٹیٹربش کی ایک ٹیلی فون کال پر ڈھیر ہو گیا اور یوں پچاس سال کی پاک افغان رفاقت راکھ کا ڈھیر بن گئی۔ نصف صدی کے دوست دشمن بن گئے اور بھارت نے کابل میں اپنے پائوں جما لئے۔جس پر طالع آزمائوں کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ اہل سیاست کی بری خارجہ پالیسی کی وجہ سے کابل اور اسلام آباد ایک دوسرے سے دور ہوئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔
کبھی کبھی یوں لگتا ہے کہ ہم اپنی ستر سالوں کی خطائوں کے منطقی نتیجے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ٹرمپ نے حال ہی میں جو پالیسی بیان دیا وہ مہیب خطرات کی جانب اشارہ کر رہا ہے۔مجھے تو یہ بھی ڈر ہے کہ کہیں امریکہ حملہ آور ہونے سے پہلے عربوں پر دبائو ڈال کر ہمارا تیل ہی نہ بند کرا دے۔عرب اس وقت امریکہ سے خوفزدہ ہیں کیونکہ اس نے لیبیا،عراق اور شام کو کھنڈر بنا کر رکھ دیا ہے۔کوئی شام کی تباہ کاری کو دیکھ کر سوچ بھی سکتا ہے کہ یہ حافظ الاسد کا خوبصورت شام ہے؟

متعلقہ خبریں