میانمار کے مسلمانوں کی داد رسی کیسے؟

میانمار کے مسلمانوں کی داد رسی کیسے؟

برما کے روہنگیا مسلمانوں پر ان دنوں جو مظالم ڈھائے جا رہے ہیں ان پر اب تک تو پورے عالم اسلام سے کوئی موثر آواز نہیں اٹھی تھی البتہ سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا ہوتا ہوا آسانی سے دیکھا جاسکتا ہے اور بالآخر مجبور ہو کر ترجمان دفتر خارجہ نے گزشتہ روز یہ اعلان کیا کہ برما میں مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے پاکستان عالمی برادری خصوصاً اسلامی تعاون کی تنظیم کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔ اسلامی تعاون کی تنظیم جس کے نام کا ایک عرصے سے تمسخر اڑانے میں لوگ پیش پیش رہتے ہیں اسے او آئی سی کہا جاتا ہے جو کبھی اس قدر فعال تھاکہ اس کے پلیٹ فارم سے اٹھنے والی کسی آواز' کسی تشویش بھرے شکوے' کسی مطالبے کو پوری دنیا میں ہمیشہ انتہائی سنجیدگی کے ساتھ سنا اور لیا جاتا تھا مگر بالآخر عالمی طاقتوں نے اسے اس قدر بے وقعت کردیا کہ یہ تنظیم خود بھی او آئی سی کی بجائے '' اوہ آئی سی'' کی سطح پر آچکی ہے اور جب بھی عالم اسلام میں کوئی سانحہ' کوئی حادثہ رونما ہوتا ہے یا اس پر عالمی طاقتوں کی جانب سے کوئی افتاد پڑتی ہے تو یہ ادارہ گہری اور طویل نیند سے جاگ کر اور خمار آلود آنکھوں سے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کہتا ہے ' اوہ آئی سی! اور اگر کوئی ان مسلم ممالک کی اس بے توقیری پر بات کرتا ہے تو ان ممالک کے بیشتر رہنمائوں کی خشمگیں نگاہیں غیظ و غضب میں بھری ہوئی معترض کی جانب یوں نگراں ہو جاتی ہیں گویا کہہ رہی ہوں

حد ادب گستاخ یوں ہم سے نہ بات کر
دیوار میں چنوا دیئے کتنے ہی سر پھرے
اب یہی دیکھ لیجئے کہ ایک انتہائی چھوٹے اور کمزور ملک میانمار( برما) کی بظاہر بے وقعت حکومت کی فوج اور بدھ بھگشو مل کر حکومت کی سرپرستی میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف نہ صرف ظلم و جور کا بازار گرم کئے ہوئے ہے بلکہ اگر کسی ملک کی جانب سے کوئی وفد وہاں جا کر مسلمانوں کے حالات معلوم کرنے کی کوشش کرتا ہے تو وفد کے اراکین کو یہ کہہ کر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جاتی کہ ہمارے اندرونی معاملات میں دخل دینے کی کسی کو اجازت نہیں ہے۔ اب تک تو نہ صرف وہی '' اوہ آئی سی'' کی تنظیم جس کے ساتھ پاکستان مل کر اس مسئلے کو حل کرنا چاہتا ہے پر سکوت مرگ طاری تھا اور بہ مشکل یہ تنظیم اس وقت جاگی جب اقوام متحدہ نے بھی اس مسئلے پر تشویش کا اظہار کیا کیونکہ وہ مغربی ممالک جن کے اپنے ہاں کتوں' بلیوں اور دیگر جانور وں کے بھی حقوق کو تسلیم کیا جاتا ہے اور یہ سبق بھی در اصل اسلام کے اس آفاقی سبق کا حصہ ہے جس میں بے رحمی حیوانات کا درس موجود ہے اور شاید آپ کو یہ معلوم کرکے حیرت ہوگی کہ کتوں اور بلیوں کے لئے بسکٹ اور دوسری خوراک تیار کرنے والی صنعت کو فروغ کے لئے ہر سال ٹی وی اور اخباری اشتہارات پر اربوں ڈالر خرچ کئے جاتے ہیں جبکہ ان مخصوص خوراکوں کے ساتھ مجموعی طور پر کروڑوں افراد کا رزق وابستہ رہتا ہے۔ اور اگر کسی نے گھر میں بلی پالی ہو تو وہ اپنے گھر کے دروازے پر بلی کی تصویر کا چھوٹا سا سٹکر لگا کر اپنے آنے والے مہمانوں کی توجہ مبذول کرادیتا ہے ساتھ ہی دروازے پر کتے کو باندھنے کے لئے کنڈیاں بھی لگا کر رکھتا ہے تاکہ کتوں کو فلیٹ کے دروازے پر ہی باندھ کر گھر کی ''مکین'' بلی کے لئے کوئی مسئلہ نہ بن سکے۔ یہ تمام مغربی اقوام اپنے باشندوں کے لئے بھی (جو بے روز گار ہوں) گزر اوقات کا بندوبست معقول و ظائف کی صورت میں کرتے ہیں تاکہ یہ لوگ ضروریات زندگی کے حصول میں کسی مشکل کا شکار نہ ہوں۔ تاہم یہ تمام سہولیات اور آسانیاں ان کے اپنے باشندوں کے لئے ہوتی ہیں جبکہ دنیا بھر کے مسلمانوں سے شدید نفرت کا اظہار ان کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف ہر قسم کے نفرت انگیز اقدامات کے ذریعے ہوتا ہے۔ اسی لئے دنیا میں کہیں بھی مسلمانوں کے خلاف کوئی ملک اقدام کرتا ہے تو ان کی زبا نیں گنگ ہو جاتی ہیں۔ اس کا نظارہ فلسطین' کشمیر' شام' عراق اور اب میانمار میں آسانی کے ساتھ دیکھا جاسکتا ہے یا پھر ماضی میں مسلمانوں سے ہٹ کر ویت نام اور کمبوڈیا میں عالم انسانیت نے دیکھا۔
بے وجہ تو نہیں ہیں چمن کی تباہیاں
کچھ باغباں ہیں برق و شرر سے ملے ہوئے
اس صورتحال کی وجہ سے میانمار کی وزیر اعظم آنگ سانگ سوچی سے نوبل انعام کی واپسی کے مطالبات سامنے آرہے ہیں جبکہ عالمی سطح پر یہ آواز بھی اٹھنی چاہئے کہ اس خاتون کے خلاف جنگی جرائم کے حوالے سے مقدمہ چلانا چاہئے اور اگر یہ کام او آئی سی کردے تو اس ادارے کی کچھ نہ کچھ ساکھ بن جائے گی۔ ہمیں یاد ہے کہ ویت نام میں اسی قسم کے مظالم کے خلاف دنیا کے دو عظیم فلسفیوں انگلستان کے برٹرینڈرسل اور فرانس کے ژاں پال سارترے نے مل کر ایک عالمی ٹریبونل کااعلان کرکے اس وقت کی امریکی حکومت کے خلاف مقدمہ چلایا تھا جس میں دنیا کے بہترین قانون دانوں کو شامل کیا تھا جس میں پاکستان سے میاں محمود قصوری شامل تھے۔ اس لئے انسانی حقوق تنظیم اگر ایسا ہی کوئی ٹریبونل قائم کردے تو اس قسم کے مظالم کا خاتمہ بہت حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔ مگر اتنی ہمت کون کرے؟
کبھی تو بیعت فروخت کردی
کبھی فصیلیں فروخت کردیں
مرے وکیلوں نے میرے ہونے کی
سب دلیلیں فروخت کردیں

متعلقہ خبریں