سفارتی تنہائی کے اس موسم میں

سفارتی تنہائی کے اس موسم میں

بیجنگ میں منعقدہ دنیا کی ابھرتی ہوئی 5معیشتوں ''بریکس'' کے سربراہی اجلاس کا اعلامیہ ہماری ناکام خارجہ پالیسی اور ''منتخب مخلوق'' کے زعم کا نتیجہ ہے۔ تین پڑوسی ممالک سے کشیدہ تعلقات اور حالیہ امریکی پالیسی کے جواب میں یہ کہہ کر جی کو بہلاتے تھے کہ '' چین ہمارا یار ہے'' سیاسیات و صحافت کے سنجیدہ فہم طلباء گاہے گاہے پالیسی سازوں کی خدمت میں عرض کرتے رہے کہ ملکوں کے مفادات کاروباری ہوتے ہیں۔ لکھ بال دوستیاں دیہی سماج کی پرانی روایات کا حصہ ہیں۔ مگر یہاں سنتا کون ہے۔ عقل اعلیٰ کے مالک ہیں وہ صاحبان جن کا خیال ہے کہ بلڈی سویلین کو کسی بات کا شعور نہیں۔ قابل غور بات یہ ہے کہ بریکس کے پچھلے سر براہی اجلاس میں جو بھارت میں منعقد ہوا تھا چین نے مشترکہ اعلامیہ میں یہ نکات شامل نہیں ہونے دئیے تھے بلکہ چینیوں کا موقف تھا کہ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہے مگر سال بھر میں نجانے ایسا کیا ہوگیا کہ ہمالیہ سے بلند اور سمندر کی گہرائی سے زیادہ گہری دوستی کی ''برف'' پگھل گئی۔ بریکس کے سوموار کو جاری ہونے والے اعلامیہ میں لشکر طیبہ اور جیش محمد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیاگیا ہے۔ ظاہر ہے یہ مطالبہ پاکستان سے ہے جس کی سر زمین پر ان دونوں تنظیموں کا وجود ہے' لاکھ انکار کیا جائے لیکن تلخ ترین حقیقت یہی ہے کہ دعوت الارشاد' جماعت الدعوة اور اب ملی مسلم لیگ یہ لشکر طیبہ کے نقاب ہی ہیں۔ جہاد کشمیر اور افغانستان میں طالبان کی اعانت کی دعویدار جیش محمد کا مرکز جنوبی پنجاب کے شہر بہاولپور میں ہے۔ دانتوں سے انگلیاں کاٹنے اور یہود و ہنود کے ساتھ ملحدین کو کوسنے اور سازشوں کی کہانیوں سے جی بہلاتے رہنے سے نجات حاصل کرنا ہوگی۔ 43صفحات کے بریکس اعلامیہ کا اہم ترین حصہ وہ ہے جس میں بریکس سربراہان نے اس امر پر اتفاق کیا ہے کہ دہشت گردی میں ملوث ان تنظیموں کا انتظام کرنے یا حمایت کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جانا چاہئے۔ اعلامیہ میں افغانستان میں فوری جنگ بندی پر زور دیاگیا ہے بریکس ممالک نے خطے میں بد امنی اور طالبان' داعش' القاعدہ اور اس کے ہم خیال گروہوں بشمول ترکمانستان اسلامک موومنٹ' ازبکستان اسلامک موومنٹ' حقانی نیٹ ورک' لشکر طیبہ' جیش محمد' ٹی ٹی پی' جماعت الاحرار اور حزب التحریر کی وجہ سے ہونے والے فسادات کی مذمت کی ہے۔ٹھنڈے دل سے تسلیم کرنے کی ضرورت ہے کہ اولاً تو ہماری کوئی خارجہ پالیسی ہے ہی نہیں اور اگر کہیں ہے بھی تو محض خوش فہمیوں اور پدرم سلطان بود سے عبارت۔ لولی لنگڑی سیاسی حکومتوں میں تو خیر خارجہ پالیسی کے گھاٹ پر اترنے کی ہمت ہی نہیں لے دے کرایک بار ذوالفقار علی بھٹو نے غیر جانبدارانہ خارجہ پالیسی کی بنیاد رکھی تھی لیکن یہ جرأت رندانہ ان کی جان لے گئی۔ ان کے بعد سمجھوتوں کے تحت اقتدار میں آنے والی سول قیادت میں سے کسی کو یہ جرأت ہی نہیں ہوئی کہ وہ اس بھاری پتھر کو اٹھائے۔ آگے بڑھنے سے قبل عرض کردوں کہ مسلم لیگ(ن) کے کچھ ''طرح دار'' دوست بریکس اعلامیہ کو نواز شریف کی بد دعا قرار دے رہے ہیں ان کا دعویٰ ہے کہ پاک چین دوستی کی معراج نواز شریف کی بدولت ہی ممکن ہوئی چین نے اپنا وزن بھارت کے پلڑے میں ڈال کر '' جواب'' دیا ہے۔ ان متوالوں کی خدمت میں دوست بدستہ عرض ہے کہ اس وقت بھی وفاق پاکستان' پنجاب' بلوچستان' گلگت اورآزاد کشمیر میں نو ن لیگ کی حکومتیں ہی ہیں اور وزیر خارجہ سیالکوٹ والا خواجہ آصف' لیگی حکومت ہمت کرتی بریکس کانفرنس سے قبل اپنا وزیر خارجہ چین بھجواتی اور چینی وزارت خارجہ کو اعتماد میں لیتی۔ اس نے ایسا نہیں کیا' کیا لیگی حکومت خود بھی یہی چاہتی تھی کہ حالیہ بریکس کانفرنس کا اعلامیہ نئی دہلی کے سرکاری موقف کی غمازی کرتا ہو؟ اعلامیہ میں جن کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کی بات کی گئی ہے ان میں سے 2 تو بہر طور پاکستان بیس ہیں۔ نام بدل لینے سے کچھ نہیں ہوتا اور میں نہ مانوں سے بھی۔ قبل ازیں بھی ان سطور میں عرض کرچکا کہ پڑوسیوں سے پنگے لے کر بندہ سکھی نہیں رہتا ممالک کو تو پھر دانش مندی سے معاملات کرنے چاہئیں۔ ریاست کے اصل مالکان کی خدمت میں دست بدست گزارش ہے حضور ہماری پچھلی نسلوں اور خود ہم نے بہت عذاب بھگت لئے۔ ہماری آئندہ نسلوں پر کرم کیجئے محض جوشیلے بیانات اور پھڑکیلی ریلیوں سے امن و استحکام آتا ہے نا کوئی مرعوب ہوتا ہے۔ بد قسمتی یہ ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب ہم سفارتی طور پر بند گلی میں آن کھڑے ہوئے ہیں اسلام آباد میں صدارتی طرز نظام حکومت اور تین سال کے انقلابی ایجنڈے پر صلاح مشورے ہو رہے ہیں۔ خود کو سقراط ثانی سمجھنے والے چند بونے اچھلتے کودتے پھرتے ہیں جیسے مستقبل کے نظام حکومت کی عمارت ان کے کاندھوں پر کھڑی ہوگی۔ حرف آخر یہ ہے کہ انجمن سیاپا فروشان کے جو پیرا شوٹرز کل شام سے ٹی وی چینلوں پر اودہم مچائے ہوئے ہیں ان کی خدمت میں عرض ہے کہ بھارت کو کوستے چلے جانے کی بجائے کبھی اپنی ادائوں پر غور کا مشورہ بھی دیجئے۔ یہ 22کروڑ پاکستانیوں کاملک ہے کسی کی کالونی نہیں کہ یہ توقع کی جائے کہ غلام بولیں گے نہیں۔ ہماری مائوں نے ہمیں آزاد جنا ہے ہمیں آزادی ہی پسند ہے۔

متعلقہ خبریں