سیاست و معاشرت اور نمود و نمائش

سیاست و معاشرت اور نمود و نمائش

اسلام میں تکبر' خود نمائی اور ریا و نمود و نمائش کی سخت مذمت کی گئی ہے۔ کیونکہ اسلام میں سارے امور و اعمال کا دار و مدار خلوص نیت پر ہے۔ یہاں تک اگر کوئی کسی نیک اور اچھے کام کا ارادہ کرتا ہے لیکن کسی بھی وجہ سے وہ کام ہو نہیں پاتا تب بھی نیت کرنے الے کو ثواب مل جاتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ جب تک مسلمان کے معاشرے میں یہی جذبہ کار فرما رہا تب تک لوگ خیر خواہی و بھلائی کے کام ا یسے انداز سے کرتے تھے کہ بہت کم لوگوں کو معلوم ہوتا تھا کہ عوام کی بھلائی کا فلاں کام فلا ں صاحب نے کیا ہے۔ اسلام میں تو زکواة و خیرات جیسے فریضے کی ادائیگی میں اس بات کی ہدایت موجود ہے کہ دائیں ہاتھ سے صدقہ و خیرات کرتے وقت بائیں ہاتھ کو معلوم نہیں ہونا چاہئے کہ کتنا صدقہ کس کو دیا؟ اسی طرح اسلام میں اپنی دولت و امارت کی نمود و نمائش اور اسراف پر سخت پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ ہاں بعض اوقات و مقامات پر اس بات کی اجازت دی گئی ہے ' نیکی ' بھلائی اور عوام کے خیر کو فلاح کے کاموں میں مثبت مقابلہ کرنے کے لئے اگر عطیات یا عمارات' مساجد اور آب رسائی کے منصوبوں وغیرہ کی اگر نمائش کی جائے تاکہ دوسرے اہل ثروت کو ترغیب و تشویق ملے تو مضائقہ نہیں۔

اسلامی تہذیب و معاشرے کے اعلیٰ اقدار و اخلاقیات کے دور میں یہی چلن رائج تھا کہ صاحبان ثروت و دولت اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کے لئے سب کچھ کرتے تھے اور قرآن کریم کی اس آیت کریمہ کے مصداق کہ '' ہم تو اللہ کے مکھڑے( کی خاطر) کھلاتے ہیں۔ تم سے کسی بدلے اور شکریہ( ادا کرنے) کا بھی ارادہ نہیں رکھتے''۔لیکن جب اسلامی معاشروں میں ملکویت ( بادشاہت) اور پھر سیاست داخل ہوئی تو پورا نظام تلپٹ ہو کر رہ گیا۔ مشہور واقعہ ہے کہ جب ہارون الرشید کی بیوی ملکہ زبیدہ نے حاجیوں کے لئے حجاز تک ''نہر زبیدہ'' بنوائی تو بہت خوش تھی کہ میں نے مسلمانوں کے لئے بہت بڑا کارنامہ سر انجام دیا ہے اور اگر آج کے دور میں یہ واقعہ ہوتا تو یقینا حکومت اس کا دن رات اشتہار کرتی اور نہ جانے اس پر کتنی تختیاں لگواتیں۔ لیکن جب زبیدہ کو خواب میں دکھایاگیا کہ اس پر زیادہ اترانے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس میں آپ کا کوئی زیادہ کمال اس لئے نہیں کہ پیسہ سرکاری خزانے کا تھا اور کام راج ترکان اور مزدور نے کیا۔ تب وہ بہت گھبرائی کہ جس کام کو میں ذریعہ نجات سمجھنے لگی تھی وہ اللہ کے دربار میں شرف قبولیت شاید حاصل نہ کرسکے۔قیام پاکستان سے قبل بر صغیر پاک و ہند میں شاید بادشاہوں کے ہاں بھی ایسی صورتحال نہ تھی کہ سرکاری خزانے سے عوامی فلاح کا کوئی منصوبہ پایہ تکمیل پہنچے تو اس کے اشتہار کے لئے بار بار افتتاح اور انتساب اپنے اپنے دور کے بادشاہ اور شہزادے یا سردار وغیرہ الگ الگ سے کریں۔
قیام پاکستان کے ابتدائی عشرے میں بھی ایسی چیزیں نہیں تھیں۔ لیکن جب سے پاکستان آمریت اور جمہوریت کی آنکھ مچولی شروع ہوئی تو مارشل لاء ایڈمنسٹریٹرز اور سیاسی وزرائے اعظم جو منصوبے اپنے دور میں شروع کراتے یا مکمل کراتے تو ان پر اپنا نام اور دور اقتدار کی تاریخ اور '' مبارک ہاتھوں'' پر مشتمل عبارت کی تختی لگوانا کبھی نہیں بھولے۔ ان تختیوں پر بھی سرکاری خزانے کے سو کے بجائے دو سو روپے کی شرح سے اخراجات الگ ہوتے ہیں۔
اس حوالے سے بہت دکھ کی بات یہ ہے کہ ہماری سیاسی جماعتوں کے درمیان دشمنیوں کی حد تک اختلافات کے سبب ملک و قوم کو ناقابل تلافی معاشرتی اور سماجی نقصانات کے علاوہ جو مالی و معاشی نقصانات و خسارے کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس سے اندازہ یہی لگایا جاسکتا ہے کہ ہماری ایک حکومت کے دور میں موٹر وے کا بڑا پروجیکٹ شروع ہوا لیکن جب وہ حکومت بوجوہ اپنے مقررہ میعاد سے پہلے ختم ہوئی تو اس کے بعد کی مخالف سیاسی جماعت کی حکومت نے اس منصوبے کے فنڈز روک کر موخر کئے رکھا یہاں تک کہ دوبارہ پانچ سال بعد جب وہ جماعت اقتدار میں آئی تو منصوبہ مکمل تو ہوا لیکن اخراجات میں معمولی اضافے کے علاوہ پاکستان کی ترقی بھی متاثر ہوئی۔ حالانکہ اصولی بات یہ ہے کہ ایک دفعہ جب کوئی منصوبہ عوام کی فلاح اور ملکی ترقی کے لئے شروع کیا جائے تو ہر حکومت کا فرض بنتا ہے کہ اسے پایہ تکمیل تک پہنچائے۔ کیونکہ یہ ایک قومی منصوبہ ہوتاہے اور اس کے موخر کرنے یا ترک کرنے سے قومی خزانے کو کروڑوں اربوں کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں کہیں بھی ایسا نہیں ہوتا اور نہ ہوسکتا ہے کیونکہ ان کے پڑھے لکھے با شعور عوام پھر اپنے سیاستدانوں کا ووٹ کے ذریعے محاسبہ کرتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے قائدین اور لیڈران کا قومی و ملکی منصوبوں کو اپنے یا اپنے قائدین کے نام سے منسوب کرنے میں ایک بڑی قباحت اور نقصان یہ بھی ہے کہ اکثر ان کے بعد کوئی آنے والی حکومتوں کے سیاستدان سیاسی عناد و مخالفت کی بنیاد پر ان منصوبوں' اداروں اور سکیموں کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک روا رکھ کر تباہ حال اور ویران کردیتے ہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو چاہئے کہ وہ وفاق کی سطح پر بھی اور صوبائی سطح پر بھی ملکی اور علاقائی بزرگوں' اسلاف' علمائ' ہیروز' سیاستدانوں اور علاقائی و قومی شخصیتوں کے ناموں پر اداروں اور منصوبوں کو منسوب کریں تاکہ چاروں صوبوں کے درمیان تعلقات مضبوط سے مضبوط تر ہو کر ملکی یکجہتی میں اہم کردار ادا کریں۔

متعلقہ خبریں