بے نظیر بھٹو!!!! کہیں نہیں ہے کہیں بھی نہیں لہو کا سراغ

بے نظیر بھٹو!!!! کہیں نہیں ہے کہیں بھی نہیں لہو کا سراغ

دس سال بعد انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے بے نظیر بھٹو قتل کیس کا فیصلہ ''مٹی پائو '' کے تاریخی اصول کے تحت سنادیا ۔اس میں عدالت کا کیا قصور جب حالات فیض کے اس شعر کی تصویر ہوں 

نہ مدعی نہ شہادت حساب پاک ہوا
یہ خون ِخاک نشیناں تھا رزقِ خاک ہوا
''بے نظیر بھٹوکا قاتل افراد نہیں ایک سوچ ہے ہمیں اس سوچ سے لڑنا ہے ''بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد دہرائے گئے آصف علی زرداری کے اس قولِ فیصل میں تھوڑا سا ترمیم و اضافہ کیا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ بے نظیر کے قاتل وہی نہیں جنہوں نے ان کے قتل کی منصوبہ بندی کی اور گولیاں چلائیں بلکہ وہ سب ہیں جو انہیں ایک خونیں دلدل میں دھکیل کر تماشا ئی بن بیٹھے ۔ بڑے کھیل کی زد میں آئے ہوئے خانہ جنگی اور تشدد در تشدد کا شکار ملکوں میں ایسے قتل ہمیشہ اندھے رہتے ہیںیا پھر عدالتیں اور ریاستیں قاتل کا سراغ نہ پاکر شلجموں سے یونہی مٹی جھاڑ کر ایک چیختے چنگھاڑتے کیس اور بولتے لہو کی بے زبان اور تیزی سے بوسیدہ ہوتی ہوئی فائل کو داخل دفتر کر دیتے ہیںاو ریوں معاملہ تاریخ کے سپرد ہوجاتا ہے ۔بے نظیر بھٹو کے بیٹے کو شاید تاریخ کا یہ شعور حاصل تھا اسی لئے بلاول نے اپنی توجہ دائیں بائیں لگانے کی بجائے ''جمہوریت بہترین انتقام ہے'' کا نعرہ لگا کر اپنا مقدمہ تاریخ اور وقت کے حوالے کر دیا تھا۔بے نظیر بھٹو کے قاتل وہ سب ہیں جو ان کی حفاظت سے غافل ہو کر ملک کے ایسے فوجی حکمران پر تکیہ لگا کر سو گئے جسے خود ان دنوں جان کے لالے پڑے تھے ۔جنرل پرویز مشرف کئی قاتلانہ حملوں کا شکار ہو چکے تھے ایک حملہ تو جی ایچ کیو سے تھوڑے سے فاصلے پر جھنڈا چیچی میں ہوا تھا۔اس کا حل سخت سیکورٹی اورروٹ لگانے میں یوں تلاش کیا جاچکا تھا کہ پرویز مشرف کی راولپنڈی سے اسلام آباد روزانہ آمد ورفت کے باعث گھنٹوں سیکڑوں اہل کار میلوں تک پھیل جاتے شاہی سواری کی آمد سے آدھ گھنٹہ پہلے ٹریفک رک جاتی مریض تڑپتے بلکتے ،مسافر بڑبڑاتے رہ جاتے مگر روٹ لگنا ریاست کا اٹل فیصلہ تھا ۔کم وبیش یہی دن تھے جب نہایت مہارت اور تربیت کے حامل دہشت گردوں نے جی ایچ کے اندر داخل ہو کر مورچہ بندی کر لی تھی اور بعد میں پتا چلا کہ ان کا منصوبہ اس وقت کے فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کو یرغمال بنانا تھا ۔یہ وہ زمانہ تھا جب پاکستان پر شبِ دہشت طاری تھی اور طلوع ِسحر محض ایک خواب بن کر رہ گیا تھا۔جنرل پرویز مشرف کی دریا دلی کے باعث دنیا کی طاقتور ایجنسی سی آئی اے کے اونٹ نے مملکت کے جس خیمے میں سر پھنسایا تھا اب وہ اس خیمے کو پوری طرح سر پراُٹھائے پھر رہا ہے ۔سیکورٹی اداروں ،این جی اوز اور کنٹریکٹرز کے نام پر ایک نامعلوم مخلوق چہار سو ڈیرے ڈالے ہوئے تھی۔درجن بھر غیر ملکی ایجنسیاں اپنے انداز سے پاکستان میں سٹریٹجک ڈیپتھ تلاش کر نے میں مصروف تھیں ۔ہر علاقے اور صوبے میں دہشت گردی اور عسکریت کی صورت اپنا عارضہ لاحق تھا۔اس ماحول میں بے نظیر بھٹو کے کچھ'' دوست نما'' لوگوں نے امریکہ میں یہ فلسفہ فروخت کرنا شروع کیا کہ جنرل مشرف امریکہ کے ساتھ ڈبل گیم کھیل رہے ہیں ان کی سیاسی بنیاد کمزور ہے اور قاف لیگ عوام میں جڑیں نہیں رکھتی جس کی وجہ سے پرویز مشرف امریکہ کی زیادہ خدمت کرنے سے قاصر ہیں اگر مشرف ملک کی حقیقی سیاسی قوتوں کے ساتھ مفاہمت کریں اور انہیں شریک اقتدار کریں توان کی استعداد کار میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے اور مشرف کے اقتدار میں حقیقی جمہوریت کی کلغی بھی لگ سکتی ہے ۔ جب یہ فلسفہ امریکیوں کے دل کو بھاگیا تو انہوں نے جنرل مشرف اور پیپلزپارٹی کے درمیان مذاکرات کے لئے مڈل مین کا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ۔پیپلزپارٹی اور جنرل مشرف دونوں اس سکیم کو نہ سمجھ سکے ۔جنرل مشرف پر اس وقت مصر کے حسنی مبارک کی طرح تاحیات حکمران بننے کی دھن سوار تھی اور ان کا خیال تھا کہ وہ فوج کے سرپرست اعلیٰ کا کردار ادا کرکے بار بار وردی میں حکمران منتخب ہوتے رہیں گے ۔جنرل مشرف کی آنکھوں میں حسنی مبارک بننے کا خواب اس وقت بکھر کر رہ گیا جب راولپنڈی کے ریس کورس گراونڈ میں انہیں پرنم آنکھوں سے اپنی طاقت اور دبدبے کی علامت ڈھائی فٹ کی چھڑی کمانڈ سٹک اپنی جانشین جنرل اشفاق پرویز کیانی کے حوالے کرنا پڑی۔ پاکستان بلاشبہ اس وقت عالمی ،علاقائی اور ملکی قوتوں کی کھینچا تانی کا شکار تھا ۔ہر کوئی اسے اپنی سمت کھینچ رہا تھا اور اس زورا زوری میں اس کا انجر پنجر ہو رہا تھا۔ریاست کے بیٹھ جانے اور دیوالیہ ہوجانے کی پیش گوئیاں کرنے والوں کا کاروبار بھی عروج پر تھا۔یہ یقین پختہ تھا کہ نیٹو ڈیورنڈ لائن کی دوسری سمت میں بیٹھ جانے یا پکنک منانے نہیں آئی بلکہ اس کی حتمی منزل اور تمام تر دلچسپی کا محور حالات کی رسی پر ڈولتی ہوئی ریاست پاکستان کا کہوٹہ شہر ہے۔ایسے میں جنگجو اور بھٹوز کی ایک جذباتی بیٹی کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کا بیانیہ تھما کر کراچی کے قائد اعظم انٹرنیشنل پر لاکر چھوڑ دیا گیا۔اس انداز سے حامد کرزئی بھی افغانستان میں اترے تھے مگر ان کے گرد امریکی کمانڈو حصار در حصار بنے رہے امریکہ نے ان کی حفاظت انسانی سرمائے کی طرح کی مگر بے نظیر بھٹو کو پاکستان کے خار زار میں مشکل ایجنڈے کے ساتھ پاکستان واپس تو لایا گیا مگر ان کی حفاظت کی ذمہ دا ری ایک معمہ ہی رہی۔وہ کس گولی کا نشانہ بنیں ؟بس یہ معلوم ہونا باقی تھا اور اب شاید ہمیشہ باقی ہی رہے کیونکہ سب کی بقا ''مٹی پائو '' اصول میں ہے۔

متعلقہ خبریں