چترال میں پے درپے سانحات

چترال میں پے درپے سانحات

گزشتہ موسم سرماکی طرح اس سال کے موسم سرما میں بھی ضلع چترال کے علاقہ لوٹ کوہ کے علاقے میں برفانی تودے گرنے سے قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا ۔ایک دوسرے واقعے میں بھی برفانی تودہ سکائوٹس پوسٹ پر گرنے کے باعث ایک سپاہی جاں بحق ہوگیا۔ برفباری کے باعث خیبر پختونخوا کے دوسرے حصوں میں بھی ہنگامی صورتحال بنی ہوئی ہے۔ برفباری کو دیگر قدرتی آفات کی طرح اچانک او غیر متوقع آفت کے زمرے میں نہیں لایا جاسکتا بلکہ اگر دیکھا جائے تو موسمی شدائد کے باعث پیش آمدہ سارے واقعات ہی تقریباً غیر متوقع نہیں ہوتے بلکہ محکمہ موسمیات پہلے ہی شدید بارشوں اور برفباری کے امکانات سے متعلقہ اداروں کو آگاہ کرچکا ہوتا ہے اور ان اداروں کے اپنے پاس بھی موسمی صورتحال کا اندازہ انٹرنیٹ سے لگاسکتے ہیں۔ گوکہ موسم کی درست پیشگوئی کے لئے محکمہ موسمیات کے پاس جدید آلات کی کمی ضرور ہے لیکن دستیاب وسائل کے اندر رہتے ہوئے واضح علامات کے باعث امکانی صورتحال کا اندازہ نا ممکن نہیں ماحولیاتی اور موسمیاتی ماہرین موسم کی صورتحال بارے جس تبدیلی اور ممکنہ صورتحال کا مہینوں پہلے بتاتے ہیں وہی صورتحال کم و بیش سامنے آتی ہے۔ اس ساری صورتحال میں چترال میں پیش آمدہ واقعات کسی طور غیر متوقع نہیں بلکہ اس کی باقاعذدہ نشاندہی کے بعد شیرشال کے علاقے سے زیادہ تر خاندانوں کو منتقل بھی کیاگیا تھا۔جو بدقسمت خاندان باقی رہ گئے ایسا لگتا ہے کہ ان گھرانوں کے مرد موجود نہ تھے اورکوئی مناسب متبادل انتظامات نہ ہونے کے باعث خواتین اور بچے منتقل نہ ہوسکے ۔ اگر ضلعی انتظامیہ ان کے لئے متبادل بندوبست کرکے ان کو منتقلی پر مجبور کرتی تو آج وہ شاید برف کے پہاڑ تلے نہ دب چکے ہوتے۔ جن خاندانوں کو منتقل کیاگیا ان کی منتقلی میں سوائے تنبیہہ اور اطلاع کے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کیا مدد کی گئی۔ ایسا لگتا ہے کہ منتقل ہونے والے خاندانوں کے پاس کوئی نہ کوئی متبادل تھا جبکہ رہ جانے والے خاندان بے یار و مدد گار تھے۔ گائوں کے لوگوں کی منتقلی کی ضرورت صرف افراد کی منتقلی سے پوری نہیں ہوتی بلکہ ان کے مال مویشیوں کی منتقلی اور ان کے رکھنے کا بندوبست بھی ساتھ کرنا ہوتا ہے۔ جہاں کی انتظامیہ انسانی جانوں کے تحفظ کی زحمت گوارہ کرنے میں تامل کا شکار ہو وہاں جانوروں کے تحفظ کی توقع ہی عبث ہے۔ چترال کی ضلعی انتظامیہ محض اس بات پر بری الذمہ نہیں ہوسکتی کہ متاثرہ علاقوں کے لوگوں کو بروقت مطلع کیا گیا تھا۔ چترال میں گزشتہ دو تین سالوں میں موسمی تبدیلی کے جس طرح کے اثرات سامنے آئے ہیں ماہرین بار بار اسکے امکانات ظاہر کرتے آئے ہیں مگر نہ تو ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس بارے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے کوئی سنجیدہ رابطے سامنے آئے نہ ہی عوامی نمائندوں نے اس بارے اپنی ذمہ داریوں کو سمجھا اور نہ ہی این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے کو پیشگی تیاری اور ضروری و بروقت انتظامات کا خیال آیا۔ صوبائی حکومت کی جانب سے چترال میں ریسکیو ون ون ٹو ٹو کے قیام کا بلند بانگ دعویٰ کیا گیا تھا اور حکمران جماعت کی خاتون ایم پی اے نے بغلیں بجاکر اس کا کریدڈٹ لینے کی کوشش کی تھی مگر بیل منڈھے کیا چڑھتی آکاس بیل ہی ثابت ہوئی۔ چترال کی ضلعی انتظامی اور مقامی حکومت کی کارکردگی پر تنقید اور ارتکاب غفلت کا ذمہ دار ٹھہرانا مسئلے کاایک پہلو ہے مسئلے کا اصل پہلو یہ ہے کہ چترال کی ضلعی حکومت' ڈپٹی کمشنر چترال' چترال پولیس اور چترال سکائوٹس سبھی اس بارے تہی دست ہیں۔ کیونکہ اس طرح کی صورتحال سے خصوصی تیاری ' خصوصی انتظامات' آلات' ساز و سامان ' تربیت اور تجربہ کے بغیر نمٹا نہیں جاسکتا۔ چترال پولیس' چترال سکائوٹس اور ضلعی حکومت و انتظامیہ کو علاقے تک رسائی میں کن مشکلات کاسامنا کرنا پڑا ہوگا اس کا درست اندازہ لگانا شاید یہاں ممکن ہی نہیں۔ علاقے تک رسائی کے بعد مقامی رضا کاروں کے ساتھ برف کے تودے ہٹانے کے لئے اور خاص طور پر دبے ہوئے افراد کا کھوج لگانے کا ان کے پاس کوئی ذریعہ نہیں۔ گزشتہ سال بھی اس طرح کے واقعے کے جاں بحق فراد کی نعشیں تین ماہ بعد برف پگھلنے کے بعد ہی ملیں۔ چترال ہر قسم کی ہنگامی صورتحال میں ناقابل رسائی علاقہ ہے۔ لواری ٹنل اور لواری ٹاپ دونوں بند ہیں۔ ہیلی کاپٹر اور اگر سی ون تھرٹی کا بھی استعمال ممکن ہو تب بھی موسم کے شدائد حائل رہتے ہیں۔ ان معاملات کے جائزے کے بعد چترال میں این ڈی ایم اے' پی ڈی ایم اے اور ریسکیو اداروں کے باقاعدہ دفاتر اور ضروری عملہ موجود ہونا چاہئے۔ ضروری آلات کی موجودگی یقینی ہونی چاہئے۔ مقامی رضا کاروں ' چترال سکائوٹس اور چترال پولیس کے جوانوں کی اس حوالے سے مناسب تربیت پر توجہ دی جائے تاکہ وقت آنے پر ماہرین کی ٹیم کی نگرانی اور مشاورت سے یہ افراد اپنی مدد آپ کے تحت موثر طور پر صورتحال سے نمٹ سکیں۔ حکومت متاثرہ افراد کے خاندانوں کی فوری اعانت اور بے گھر ہونے والے خاندانوں کی کفالت کا معقول بندوبست یقینی بنایا جائے۔

متعلقہ خبریں