تحفظات کے باوجود تقرری کیوں؟

تحفظات کے باوجود تقرری کیوں؟

خیبر پختونخوا کے سات تعلیمی بورڈز میں مستقل چیئر مینوں کی تقرری کی انتظامی ضرورت تو پوری کردی گئی ہے لیکن ان تقرریوں پر وزیر اعلیٰ کے تحفظات کی وجہ سے یہ فیصلہ متنازعہ بھی بنا دیا گیا ہے۔ اگر وزیر اعلیٰ ہی کو ان تقرریوں پر تحفظات ہیں تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان تقرریوں کی اصابت ہی مشکوک بلکہ ناقابل قبول ہے۔ یاد رہے صوبے کے 7تعلیمی بورڈز میں ان کے سربراہوں کی آسامیاں ایک عرصہ سے خالی پڑی تھیں جس کی وجہ سے ان اداروں کے انتظامی امور تاخیر کا شکار ہو رہے تھے۔ چنانچہ ان آسامیوں کو پر کرنے کے لئے درخواست طلب کی گئیں۔ ان کی جانچ پڑتال ہوئی اور پھر 54افراد کے ان خالی آسامیوں کے لئے باقاعدہ انٹرویوز کئے گئے جن میں ایک اطلاع کے مطابق 21امیدواروں کو شارٹ لسٹ کردیاگیا۔ تاہم محکمہ تعلیم کی جانب سے تیار کی گئی سمری میں کچھ ایسے منظور نظر لوگوں کو بھی شامل کردیاگیا جو شارٹ لسٹ میں موجود ہی نہ تھے۔ وزیر اعلیٰ نے اس پر شدید تحفظات کااظہارکیا اور کچھ عرصے تک محکمہ تعلیم کی سمری پر فیصلہ روکے رکھا۔ لیکن گزشتہ دنوں جب تحریک انصاف کے چیئر مین وزیر اعلیٰ ہائوس تشریف لائے تو وزیر تعلیم ان کے ذریعے مبینہ طور پر وزیر اعلیٰ سے سمری منظور کرانے میں کامیاب ہوگئے اوراس طرح بورڈز کے چیئر مینوں کی حیثیت سے ان منظور نظر افراد کی تقرری بھی ممکن ہوگئی جن کے نام شارٹ لسٹ میں موجود ہی نہ تھے۔وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کی جانب سے تحفظات کا اظہار کافی نہ تھا بلکہ ان کو اس ضمن میں اپنا اختیار اور اپنی صوابدید کا تحفظ اور اس کو یقینی بنانے کی ضرورت تھی اور اس ضمن میں کسی دبائو میں آنے کی بجائے میرٹ پر فیصلہ کرلینا چاہئے تھا ۔ بہر حال تعلیمی بورڈز کے سربراہوں کی تعیناتی میں اس نوع کے خلاف ضابطہ فیصلوں سے ایک اچھی مثال قائم نہیں کی گئی۔ بالخصوص تحریک انصاف کی صوبائی حکومت جو ہمیش گڈگورننس کے دعوے کرتی ہے اس کے لئے میرٹ کو نظر انداز کرنے کی بجائے انصاف کے اصولوں کو پیش نظر رکھنا زیادہ ضروری ہو جاتا ہے۔ چنانچہ بورڈز کے چیئر مینوں کی تقرری کے متنازعہ فیصلے پر نظر ثانی ہونی چاہئے تاکہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کیا جاسکے۔
ناقص دودھ کی جانچ پڑتال
ملک کے دوسرے حصوں کی طرح پشاور میں بھی ناقص اور مضر صحت دودھ کی کھلے عام فروخت کو روکنے کے لئے ضلعی انتظامیہ نے دودھ کی جانچ پڑتال کے لئے لیبارٹری قائم کی ہے جبکہ اب مزید دو لیبارٹریوں کے قیام کا عندیہ دیتے ہوئے ضلعی ناظم نے گزشتہ روز محکمہ لائیو سٹاک کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لئے اجلاس طلب کیا جس میں فیصلہ کیاگیا کہ پنجاب سے درآمد ہونے والے دودھ کی جانچ پڑتال کے لئے بڈھ بیر اور جی ٹی روڈ پر مزید دو لیبارٹریاں قائم کی جائیں گی تاکہ پنجاب سے شہر میں داخل کئے جانے والے دودھ کے کنٹینرز کو باقاعدگی سے چیک کیا جاسکے۔ اس کے علاوہ اندرون شہر اور دور دراز علاقوں میں دودھ کے تجزئیے کے لئے موبائل لیبارٹری قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا تاکہ اندرون شہر اور مضافاتی علاقوں میں دودھ کا تجزیہ ہوسکے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ جب سے دودھ میں ملاوٹ اور خاصی طور پر ڈیٹر جنٹ پائوڈر' یوریا'گنے کا رس اور دوسرے کیمیکلز کی ملاوٹ سے مصنوعی دودھ بنانے کا دھندہ شروع ہوا ہے جو انسانی صحت کے لئے انتہائی مضر ہے اور اس حوالے سے سپریم کورٹ میں اس معاملے کو زیر بحث لاکر اس صورتحال کے تدارک کے احکامات صادر کئے گئے ہیں۔ اگرچہ متعلقہ انتظامیہ خاصی الرٹ ہو چکی ہے اور پشاور میں بھی مناسب اقدام اٹھائے جا رہے ہیں تاہم دو چار لیبارٹریوں کے قیام سے اس مسئلے کو مکمل طور پر حل کرکے منطقی انجام تک نہیں پہنچا یا جاسکتا کیونکہ بڑھتی ہوئی آبادی کے تناسب سے خالص دودھ کی پیداوار کو تسلی بخش قرار نہیں دیا جاسکتا اور یقینا ملاوٹ کرنے والے ناقص ' غیر معیاری بلکہ کیمیکل سے بنا ہوا مصنوعی دودھ عوام کو فروخت کرکے خطرناک بیماریاں بانٹ رہے ہیں جبکہ اصل مسئل یہ بھی ہے کہ اس ملک میں تجزیہ کرنے والی سرکاری لیبارٹریوں کی کارکرگزاری پر ہمیشہ سے اعتراضات کئے جاتے ہیں اور ان لیبارٹریوں میں کام کرنے والے اہلکاروں میں کالی بھیڑوں کی موجودگی کو خارج از امکان بھی قرارنہیں دیا جاسکتا۔ درست ہے کہ حکام لیبارٹریاں تو قائم کرنے کے لئے ضروری اقدام اٹھا لیں گے فنڈز بھی فراہم کر دیں گے لیکن متعلقہ عملے کا قبلہ درست کرنا تو ضمیر کا سودا ہے جس کا ضمیر زندہ ہو وہ یقینا عوام کو ناقص اور مضر صحت دودھ کی فراہمی کو روکنے کے لئے کسی لالچ یا تحریص کا شکار نہیں ہوں گے۔ تاہم اگر ان میں کالی بھیڑیں موجود ہوں تو مٹھی گرم کرنے کے عوض وہ پھسل جائیں گے اور یوں ناقص' غیر معیاری اور مضر صحت دودھ عوام کا مقدر بنتا رہے گا۔ اس لئے لیبارٹریوں کے قیام کے ساتھ ایماندار اوردیانتدار عملے کو مقرر کرنا بھی حکام کی بنیادی ذمہ داری ہے تاکہ عوام ملاوٹ کرنے والوں کے شر سے محفوظ رہ سکیں او ان کی صحت سے کھلواڑ کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچایاجاسکے۔

متعلقہ خبریں