'' بادشاہ سلامت''

'' بادشاہ سلامت''

دھرنوں، تحریکوں کا دبائو ہٹتے ہی اسحاق ڈار نے چاقو چھریاں تیز کر لی ہیں۔ پٹرول کی قیمتوں میں متواتر اضافہ ہو رہا ہے۔تین بار اضافہ ہو چکا ہے اور شنید ہے کہ ابھی اور اضافہ ہوگا۔

مسلم لیگی حکومت کی یہی روایت رہی ہے کہ جب دبائو ہوتا ہے تو عوام کو ریلیف دیا جاتا ہے اور جب دبائو ختم ہوتا ہے تو یہ عوام کش پالیسی اختیار کر لیتی ہے۔ترقی کا بینڈ بجانے والوں کو یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ مارکیٹ تیل کے اتار چڑھائو کے ساتھ چلتی ہے اور تیل کی قیمتوں میں متواتر بڑھوتری کا رجحان ہو تو مہنگائی آسمان سے باتیں کرتی ہے لیکن سچ تو یہ بھی ہے کہ آف شور کمپنیاں بنانے اور اپنی جیبیں بھرنے والوں کو اس بات سے کیا سروکار کہ غریب کی دال روٹی کیسے چل رہی ہے؟
سڑکیں بننی چاہییں ، انفرا سٹرکچر کو بہتر ہونا چاہئے لیکن اس کے ساتھ ساتھ طبی سہولتوں کو بھی بہتر ہونا چاہئے کہ ہسپتالوں کی موجودہ گنجائش ناکافی ہو کر رہ گئی ہے۔ کہیں وینٹی لیٹرز کی کمی نومولود بچوں کی ہلاکت کا باعث بن رہی ہے۔ کہیں مریض ہسپتالوں کے برآمدوں میں پڑے نواز شریف کی ترقی کا ماتم کر رہے ہیں اور کہیںوسائل کی کمیابی کی وجہ سے لوگ گھروں میں ہی بے بسی کی موت مر رہے ہیں۔
تخت لاہور کے '' شیر شاہ سوری'' کو سڑکوں کے علاوہ بھی اگر کچھ نظر آتا ہو توان کو یاد رکھنا چاہئے کہ بیس کروڑ کی آبادی میں چودہ کروڑ سے زائد لوگوں کی ماہانہ آمدنی آج اس ہوشربا مہنگائی کے دور میں بھی بیس ہزار روپے سے کم ہے۔ خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والی یہ ساری آبادی کم خوراکی کی وجہ سے نیم مردہ حالت میں زندگی کے دن پورے کر رہی ہے۔ اس طبقے کے لوگوں پر اگر کسی بڑی بیماری کا بوجھ آن پڑے تو ان پر گویا قیامت ہی ٹوٹ پڑتی ہے۔یہ لوگ ہرگز اس بات کا مطالبہ نہیں کرتے کہ '' بادشاہ سلامت'' اپنی طرح ان کا علاج بھی برطانیہ سے کرائیں،یہ تو فقط اس بات کے طلبگار ہیں کہ انہیں وہ طبی سہولتیں تو دیں جو بھارت یا سری لنکا کے لوگوں کو حاصل ہیں۔ بخدا پاکستان اگر واقعی ''اسلامی جمہوریہ پاکستان '' ہوتا تو اتنی بڑی آبادی کو ذلیل و رسوا کرنے والے حکمران انصاف کے کٹہرے میں کھڑے اپنے ظلم کا حساب دے رہے ہوتے۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز خلافت سے پہلے شہزادوں جیسی زندگی گزار رہے تھے ۔ قیمتی سے قیمتی لباس ایک بار پہن کر دوبارہ نہیں پہنتے تھے۔ مہنگی سے مہنگی خوشبو استعمال کرتے تھے چاہے سینکڑوں میل دور کسی شہر سے منگوانی پڑے۔ خوش خوراکی اورعیش وعشرت کی زندگی کی وجہ سے رخسار وں سے سرخی چھلکتی تھی۔
خلافت کا بوجھ سر پر پڑا تو چہرے پر زردی کھنڈ گئی۔ تن پر پیوند لگے کپڑے نظر آنے لگے،قیمتی خوشبوئیں قصہ پارینہ ہوئیں۔ اور ایک عجیب سے خوف کی کیفیت آنکھوں سے چھلکنے لگی۔ اعزاء فکر مند ہوئے، دوستوں کوپریشانی دامنگیر ہونے لگی،وفادار تشویش میں مبتلا ہوئے۔ ہمت کر کے پوچھا، کیا غم، کیا پریشانی ہے کہ جان کو روگ لگا رکھا ہے؟
کم کلامی اور فکرمندی کے پیکر نے کہا تو فقط یہ جملہ،''رعایا کی فکر ہے، کوئی بھوک اور بیماری سے مر گیا اور روز محشر حساب مانگ بیٹھا تو کہیں کا نہیں رہوں گا۔''
بچپن کا ایک دوست بہت زمانے بعد ملنے آیا تو محل کی بجائے پائیں باغ میں متفکر بیٹھے عمر نے دوست کو وہیں بلا لیا۔ دوست پہلے تو پہچان ہی نہ پایا کہ اس نے ایک صحت مند اور خوش پوشاک عمر ہی کو دیکھا ہوا تھا۔اور جب قریب ہو کر پہچانا تو چیخ اٹھا عمر یہ اپنا کیا حال بنا رکھا ہے؟ ایک کمزور سی مسکراہٹ عمر کے لبوں پہ اتری اور نحیف آواز میں کہا۔'' رعایا کا دکھ جان کا روگ بن گیا''
میں ایک ادارے میں کچھ عرصہ تک بطورایڈ منسٹریٹر کام کرتا رہا، بیس کے لگ بھگ لوگ میرے زیر سایہ کام کرتے تھے ۔دو چار ایسے لوگوں کو چھوڑ کر جن کی تنخواہ اچھی تھی باقی سارے عملہ کو آئے روز کوئی نہ کوئی مسئلہ درپیش رہتا تھا۔ لگ بھگ سبھی لوگوں کے گھروں میں کوئی نہ کوئی بیماری گھسی ہوئی تھی۔تنخواہ لینے کے پندرہ دن بعد ہی ایڈ وانس کی درخواستیں موصول ہونا شروع ہو جایا کرتی تھیں۔
میری کوشش ہوتی تھی کہ جو بھی ملازم کوئی ضرورت بیان کرے اسے پورا کروں کیونکہ دس سے پندرہ ہزار کے درمیان تنخواہ لینے والا اتنے پیسوں میں پورا مہینہ کیسے گزار پورا کرے۔جب کبھی ایسا ہوا کہ میں ان میں سے کسی کی ضرورت پوری نہ کرسکا تو رات کو سوتے میں بھی بے چینی ہوتی تھی۔
سوچتا ہوں کہ مجھ پر بیس بندوں کا بوجھ تھا جسے میں باقاعدہ محسوس کرتا تھا لیکن جس پر بیس کروڑ لوگوں کا بوجھ ہے وہ کتنا مطمئن اور شاداں نظر آتا ہے۔ عمران خان خم ٹھونک کر میدان میں کھڑا ہو تو چہرہ لٹک جاتا ہے۔آواز پست ہو جاتی ہے لیکن خان کا دبائو ہٹ جائے تو چہرے پر سرخی دوڑنے لگتی ہے۔ آواز بلند ہونا شروع ہو جاتی ہے۔
سو جس کو یہ احساس ہی نہ ہو کہ یہ بیس کروڑ اس کی ذمہ داری ہیں۔جسے جلتے بلتے ،سسکتے تڑپتے،گرتے اٹھتے بیمار، لاچار نظر نہ آتے ہوں وہ سب کچھ ہو سکتا ہے،ان فرش نشینوں کا حامی ،مددگار اور غمگسار نہیں ہو سکتا۔اور وہ کاسہ لیس وزیر و مشیر جو ''بادشاہ سلامت'' کی پارسائی کا ڈھول پیٹتے نہیں تھکتے اتنے بودے،خود غرض اور چشم پوش ہیں کہ عوام کے بنیادی مسائل کا علم ہونے کے باوجود شہنشاہ معظم کے سامنے جا کر گونگے بن جاتے اور سب اچھا کی نوید سناتے ہیں کہ مبادا بادشاہ سلامت کا موڈ خراب ہو جائے۔سو اے چودہ کروڑ سے زائد بدقسمت پاکستانیو انہیں ہر الیکشن میں ووٹ دے کر اقتدار کے ایوانوں تک پہنچاتے رہو تاکہ یہ تمہارے ساتھ ساتھ تمہاری آنے والی نسلوں کو بھی خون کے آنسو رلاتے رہیں اور تمہاری رگوں سے خون نچوڑ نچوڑ کر اپنے اور اپنے بچوںقکے رخساروں کی لالی بڑھاتے رہیں۔

متعلقہ خبریں