ایران کے ایٹمی تجربات

ایران کے ایٹمی تجربات

حال ہی میں ایران نے بیلسٹک اورجدید ٹیکنالوجی کے حامل کئی قسم کے میزائل کے تجربات کیے ہیں۔جس کے بعد دنیا میں ایک مرتبہ پھرہرجگہ ایران موضوعِ سخن بنا ہواہے۔ان میزائل تجربات کے بعد دنیا بھر میں ایران کے زیربحث آنے کی اصل وجہ ایران کامتنازع ایٹمی پروگرام ہے۔ ایران کے اس متنازع ایٹمی پروگرام کی تاریخ1957 سے شروع ہوتی ہے۔1968میں ایران نے ایٹمی ہتھیاروں کی دیکھ بھا ل اور دنیا میں پرامن ایٹمی توانائی کوفروغ دینے والی NPTنامی تنظیم کے ساتھ معاہدہ کیا۔ امریکا،فرانس،روس،جرمنی اورسوئزرلینڈ سمیت بین الاقوامی طاقتوں نے ایران کے ایٹمی پروگرام کی اُ س وقت نہ صرف کھل کر حمایت کی،بلکہ بلین ڈالرز کی انویسمنٹ بھی کی۔1979ء کے ایرانی انقلاب تک ایران کا ایٹمی پروگرام بڑی تیزی سے چلتا رہا۔چنانچہ سی آئی اے نے اس وقت اپنی رپورٹ میں کہا اگر1980 تک ایرانی بادشاہ محمدرضا شاہ پہلوی زندہ رہا اور بھارت کی طرح دیگر ملک اسلحہ سازی میں آگے بڑھتے رہے تو کوئی شک نہیں کہ ایران ایٹمی ہتھیاروں میں ان پر سبقت لے جائے۔لیکن ایرانی انقلاب کے بعد ایران کا ایٹمی پروگرام اچانک رُک گیا۔بین الاقوامی کمپنیوں نے ایران کے جوہری پلانٹوں پر کام کرنا بند کردیا۔1990ء میں ایران نے روس کی ایک ایٹمی تنظیم کے ساتھ ایٹمی پروگرام میں تعاون کا معاہدہ کیا۔چنانچہ ایران نے روسی ایٹمی سائنسدانوں سے بھرپوراستفادہ کیا۔روس کی پانچ ایٹمی تنظیمیں بشمول روس کی وفاقی حکومت کے ماتحت کام کرنے والی Roscosmosنامی سپیس سائنس کی تنظیم نے ایران کو میزائل اور دیگر ایٹمی ٹیکنالوجی میں بھرپور تعاون فراہم کیا۔اس دوران روس کی طرح فرانس،ارجنٹائن اور چین بھی ایران کو جوہری توانائی کے لیے مدد دیتے رہے۔1992ء میں ایران نے پہلی مرتبہ دنیا میں ایٹمی توانائی کی دیکھ بھال کرنے والی بین الاقوامی تنظیم((IAEAکو اپنے ایٹمی پروگرام کا وزٹ کروایا۔اس تنظیم نے اپنی رپورٹ میں ایران کے ایٹمی پروگرام کو پرامن قراردیا۔لیکن پھر 2003ء میں پہلی مرتبہ اس تنظیم نے ایران کے ایٹمی پروگرام پرتحفظات کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے مکمل طورپر اپنے ایٹمی پروگرام کو ظاہر نہیں کیا۔ایران پرامن ایٹمی پروگرام کی آڑ میں خطرناک ایٹمی ہتھیار بنارہاہے۔ایران نے اس کی تردید کی۔بعدازاں اقوام متحدہ نے ایران کو ہرقسم کا ایٹمی پروگرام معطل کرنے کا حکم دیدیا۔یاد رہے ایران کے ایٹمی پروگرام پر اقوام متحدہ اب تک آٹھ کے قریب بڑی قراردادیں پاس کرچکا ہے۔جن میں ایران کو ایٹمی پروگرام معطل کرنے سمیت دیگر ملکوں کو ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کے میزائل یا ایٹمی ٹیکنالوجی وغیرہ میں تعاون سے روکا گیا،تجارتی پابندیاں اس کے علاوہ لگائی گئیں۔دوسری طرف ایران عالمی ادارہ برائے نیوکلئیر توانائی((IAEAسمیت بین الاقوامی طاقتوں کو پرامن ایٹمی پروگرام کے لیے قائل کرتارہا۔اس دوران درجنوں مذاکراتی ملاقاتوں میں ایران نے دنیا کو باور کروایا کہ وہ پرامن ایٹمی پروگرام پرکام کررہاہے۔لیکن اس کے باوجود ایران ایٹمی ہتھیار لے جانے والے بیلسٹک میزائلوں پر کام کرتا رہا۔جس کااندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ جولائی 2015 میں اقوام متحدہ کی ایران کے ساتھ جوہری ڈیل ہونے کے بعد ایران نے پے درپے میزائل تجربات کیے۔جن میں1700 سے 2000 کلومیٹر تک مارکرنے والے میزائل بھی ہیں اورایٹمی ہتھیار لے جانے والے بیلسٹک میزائل بھی ہیں۔جب کہ سائنسدانوں کے مطابق ایران''شہاب5''نامی میزائل پربھی کام مکمل کرچکا ہے،جس کی رینج 3500کلومیڑ تک ہے۔3500کلومیٹر کی رینج کا مطلب ہے کہ چین،روس،مصر سمیت یورپ اور افریقہ کا بیشتر حصہ ایران کے ایٹمی حملے کی زد میں ہے۔دوسری طرف حیرت انگیز طور پرایران ماضی کی طرح آج بھی یہ دعویٰ کررہاہے کہ بیلسٹک میزائل سمیت دیگر میزائل ایٹمی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت کے حامل نہیں ہیں،بلکہ یہ صرف اپنے دفاع کے لیے محض ٹیکنالوجی کا حصول ہیں۔اسلحہ کی اس خوفناک دوڑ سے انسانیت واقعی تباہی کے دہانے پر جاپہنچی ہے۔پھر ایران کے امریکا کے ساتھ بگڑتے ہوئے تعلقات نے مشرق وسطیٰ کے امن کو مزید متزلزل کردیاہے۔دیکھا جائے توایران اور امریکا کے تعلقات میں تناؤ کی اصل وجہ ایران کا ایٹمی پروگرام نہیں بلکہ دونوں ملکوں کے باہمی مفادات کامختلف ہوناہے۔کیونکہ ایک طرف ایران مشرق وسطیٰ میں بالادستی چاہتا ہے تودوسری طرف امریکا مشرق وسطیٰ کے وسائل پر چودھراہٹ کا دعویدارہے۔جب کہ دنیا جانتی ہے کہ یہ امریکا ہی تھا جس نے ایران کے ایٹمی پروگرام کو شروع کروایا اور اس میں بھرپور مدد کی اور امریکا عراق جنگ میں ایران کو عراق میں کھلے عام مداخلت کا موقع دیا۔بہرحال ایران نے ٹرمپ کے آنے کے بعد بیلسٹک میزائل(ballistic missile) کے تجربات سے اس تناؤ کو مزید گہر ا کردیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ نے ان میزائل تجربات کے بعدایران پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔دوسری طرف سعودی عرب اور دبئی کے بادشاہوں سے ٹرمپ نے ایک گھنٹے تک طویل ٹیلیفونک گفتگو کی۔ جس میں باہمی تعلقات کو مضبوط کرنے کے علاوہ ایران کو مشرق وسطیٰ میں باز رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔

متعلقہ خبریں