اسلام کے لئے ساز گار عالمگیر ماحول

اسلام کے لئے ساز گار عالمگیر ماحول

اسلام کی دعوت و تبلیغ کاکام مختلف صورتوں میں جاری ہے اور اس کے بہت گہرے علاقائی اور عالمی اثرات ہیں لیکن مسلمان ممالک کی سیاسی' معاشرتی اور معاشی ابتر حالات کی وجہ سے دنیا کے عوام پر وہ اثرات مرتب نہیں ہو رہے ہیں جو آج کی تیز ترین مواصلاتی نظام کے طفیل ہونا چاہئے تھے۔ آج کی میڈیا کی وہ حیثیت اور کردار ہے جو کبھی داستانوں میں یا تصورات میں ہوتا تھا۔ لیکن اس کے باوجود دنیا کی آبادی کی اکثریت اسلام کی طرف متوجہ نہیں ہوتی۔ فطری طور پر ہر صاحب محفل و دانش مسلمان کے ذہن میں یہ سوال کیوں پیدا نہیں ہوتا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ دلیل و منطق اور تحقیق و اصول کی بنیاد پراسلام کاکوئی ثانی و مقابل نظام دنیا میں موجود نہیں۔ لیکن اس کے باوجود مغرب و امریکہ اور جدید ذہن کو بحیثیت مجموعی اپیل کیوں نہیں کرتا۔

اس کی کئی ایک وجوہات ہوسکتی ہیں لیکن میرے نزدیک اس کی دو اہم وجوہات ہیں۔ ایک یہ کہ اس وقت امت مسلمہ سیاسی و مذہبی لحاظ سے سخت انتشار کا شکار ہے اور پھر کسی اسلامی ملک میں کہیں بھی اسلام بطور قانون ملکی (Law of the Land) کے طور پر نافذ نہیں۔
دوسری اہم وجہ یہ ے کہ اب اسلام کو بن الاقوامی معاشروں میں عمل کے ذریعے متعارف کرانے کے لئے ہمارے پاس وہ داعیان حق دستیاب نہیں جو ایک بہترین' ماہر اور دیانتدار وکیل کی طرح اسلام کا مقدمہ عالمی فورم پر لڑتے ہوئے جیت کرد کھائے۔
اسلامی ملکوں اور معاشروں کی معاشی اور سیاسی کمزوریوں نے بین الاقوامی طور پر اسلام کو کمزورکیا اس لئے اس نظام کے مقابلے میں دنیا میں کبھی ایک نظام آگے بڑھ کر بے چین انسانوں کو متوجہ کرلیتا ہے اور کبھی دوسرا نظام۔ بقول شخصے
چلتا ہوں تھوڑی دور ہرایک راہرو کے ساتھ
یہاں تک اکیسویں صدی کا انسان مذہب سے ہی بیزار ہوگیا اور مذہب کی جگہ ''ازم'' نے لے لی۔ آج امریکہ اور یورپ میں ہیومنزم مذہب کی جگہ لے چکاہے۔ اب کوئی پوچھنے والا یا بتانے والا ہے کہ جناب انسان اور انسانیت کا درس تو بنی نوع انسان کو مذہب (دین اسلام) نے دیا ہے۔ لہٰذا اگر کوئی واقعی انسانیت نواز ہے تو انسانیت نوازی کے سارے اصولوں کو اپناتا کیوں نہیں؟ اس کا جواب یہی ملے گا کہ جب اسلام' انسانیت نوازی کا داعی ہے تو مسلمان معاشروں میں انسانیت کے بخیے کیوں ادھڑتے ہیں؟ اس کا جواب ہم عام طور پر یوں دیتے ہیں کہ دیکھیں جی! اسلام تو محبت' امن اور سلامتی کا دین ہے۔ اگر کوئی فرد یا گروہ مسلمان ہو کر انسانیت کے خلاف کام کرتے ہیں تو اس میں اسلام کا تو کوئی قصور نہیں۔ باتصحیح ہے لیکن وہ پھر سوال کرتے ہیں کہ جب اسلام انسانیت کے لئے بہترین نظام حیات ہے( اوراس میں کوئی شک بھی نہیں) تو آپ لوگ بطور نظام نافذ کیوں نہیں کرتے تاکہ دنیا اس کی کامیابی' خوشحالی' امن و سلامتی اور معاشرتی و معاشی اور سماجی شائستگی سے متاثر ہوجائے۔ بس یہاں ہمارے پائوں سے زمین سرکنا بلکہ نکلنا شروع ہو جاتی ہے اور اسلام کے دشمنوں اور مخالفین کو اسلام کے خلاف مذموم پروپیگنڈا کرنے کاموقع میسر آجاتا ہے اور یہ اسلام مخالف پروپیگنڈا اتنا منظم' مسلسل اور سائنسی بنیادوں پر ہوتاہے کہ غیر تو غیر بہت سے اپنے بھی ان سے متاثر ہو کر ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے حق نمک ادا کرتے ہیں۔
لیکن وہ جو کہا جاتا ہے نا کہ ''جادو وہ جو سرچڑھ بولے'' امریکہ' یورپ اور باقی دنیا سے وقتاً فوقتاً ' گاہے بگاہے اسلام کی حقانیت اور معجزانہ کردار و عمل کے ایسے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں کہ دنیا حیران رہ جاتی ہے۔
کاسس کلے جب محمد علی کلے بنے تو ایک دنیا حیران ہوئی لیکن بعض نے کہا کہ اس نے سیاہ فاموں کے ساتھ امتیازی سلوک کے خلاف احتجاج کے طور پر اسلام قبول کیا۔ (جوکہ پورا سچ نہیں ہے) لیکن جب کٹ سٹیونز' یوسف اسلام بنے تو یورپ میں ہلچل مچ گئی۔ اس طرح ماضی قریب میں برطانوی صحافیہ یوان ریڈلے جب مریم ریڈلے اور اب بالکل تازہ ہالی ووڈ کی مقبول ترین اداکارہ لنڈسے لوہن نے اسلام قبول کیا تو تہلکہ مچ گیا۔مغرب میں لوگ بالخصوص خواتین اسلام کی طرف تیزی سے مائل ہو رہی ہیں۔ شراب نوشی ترک کرکے نماز پڑھنے سے ان کی دنیا بدل جاتی ہے۔ مغرب اور امریکہ میں ہالی ووڈ' فلمی دنیا' نائٹ کلبوں اور پانچ ستارہ ہوٹلوں میں عورتوں کا جس بری طرح استحصال ہوتا ہے اس سے وہ بیزار ہوچکی ہیں اور وہ صبح و شام یہ نظارہ دیکھتی ہیں کہ یہ سب چمک دمک اور ہوں ہاں تب تک ہے جب تک ان کے چہرے اور بدن میں کشش ہے۔ یہ کشش ختم ہوتے ہی وہ مکھن میں سے مکھی کی طرح نکال کر پھینک دی جاتی ہیں۔ مغرب کی خواتین یہ دیکھ کر اپنے مستقبل بالخصوص ڈھلتی عمر کے لئے پریشان ہو جاتی ہیں اور روحانی سکون کی تلاش شروع کرتی ہیں۔ ایسے میں وہ قرآن کریم کے ترجموں کا مطالعہ شروع کردیتی ہیں اور یوں پڑھتے پڑھتے انہیں مقصد حیات نظر آنے لگتا ہے اور پھر وہ اسلام کے حلقہ عافیت و سکون میں پناہ لینے لگتی ہیں۔ لنڈسے لوہن بھی ایسی ہی ایک خاتون ہے کیا عالم اسلام کے علمائ' زعماء اور فقہاء و حکمران اپنے بکھیڑوں سے کچھ وقت نکال کر مغرب کے ایسے افراد کی مدد کی کوئی تدبیر کریں گے۔ ہم جیسے عامی تو دعا ہی کرسکتے ہیں اور وہ کرتے رہیں گے۔

متعلقہ خبریں