بڑھتا ہو ا بجٹ اور پتلی دال

بڑھتا ہو ا بجٹ اور پتلی دال

بھارتی وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے لوک سبھا میں دو سو چودہ کھرب ستر ارب کا مجموعی بجٹ پیش کیا جس میں دو لاکھ چوہتر ہزار کروڑ کا دفاعی بجٹ بھی شامل ہے جو گزشتہ سال کے دفاعی بجٹ کے مقابلے میں دس فیصد زیادہ ہے ۔اس دفاعی بجٹ میں پنشن کی چھیاسی ہزار کروڑ کی رقم شامل نہیں ۔بھارت ہر سال اپنے فوجی بجٹ میں کچھ تو اعلانیہ اضافہ کرتا جا رہا ہے اور کچھ اضافہ غیر اعلانیہ ہوتا ہے ۔کالے دھن سے بھی بھارت اپنی دفاعی ضروریات پوری کرتا ہے بلکہ کئی خفیہ آپریشن جن میں ہمسایہ ملکوں میں دہشت گردی اور جاسوسی نیٹ ورکس کی توسیع شامل ہے اسی کالے دھن سے جاری رکھے جاتے ہیں۔بھارت کا بڑھتا ہوا دفاعی بجٹ اس کے عزائم اور ارادوں کا عکاس ہے ۔بھارت کے اس جنونی رویے سے اس کے ہمسایہ ملکوں کا چونک کر رہ جانا فطری امر ہے ۔خطے میں پاکستان اور چین کے ساتھ بھارت نے اعلانیہ کشیدگی جاری رکھی ہے ۔بظاہر تو بھارت اپنی دفاعی اور فوجی سرگرمیوں کے لئے چین کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت کا بہانہ بناتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ چین کے ساتھ جنگ لڑنے کا پہلا اور آخری تجربہ ہی بھارت کو اس قدر مہنگا پڑا تھا کہ وہ دوبارہ اس حماقت کا تصور بھی نہیں کرسکتا ۔آج بھی چین لداخ اور ہماچل کے علاقوں میں بھارت کو للکارتا ہے تو بھارت کے فوجی مونچھ نیچی کرکے اور نظریں چرا کر گزر جاتے ہیں۔لے دے کر بھارت کی جنگی تیاریوں کا ہدف پاکستان ہی معلوم ہوتا ہے ۔اب تو بھارت میں نریندر مودی کی صور ت میں ایک ایسی مجنوں قیادت ہے جس کے دامن پر گجرات کے پانچ ہزار مسلمانوں کے خون کے چھینٹے ہیں ۔مودی کی باتوں سے ہی ذہنی عدم توازن کی بُو آتی ہے ۔بی جے پی بھارت کی انتہا پسند جماعت ہے اور مودی بی جے پی کی اندرونی سیاست میں ایڈوانی جیسے اعتدال پسندوں کے مقابلے میں انتہا پسند سمجھے جاتے ہیں ۔ایسے انتہا پسند کا ہاتھ نیوکلیر بٹن پر آنا کسی المیے کو جنم دے سکتا ہے۔ایک طرف بھارت کا دفاعی بجٹ ہر سال بڑھتا جا رہا ہے تو دوسری طرف فوجی دال پتلی ہوجانے کا شکوہ کررہے ہیں ۔حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک بھارتی فوجی کی فریاد اور دکھ بھری وڈیو کلپ تیزی سے وائرل ہو گئی تھی۔جس میں دوردراز سرحدی اور برفانی علاقے میں موجود تیج بہادر یادو نامی فوجی ایک وڈیو میں فریاد کر رہا تھا کہ ہمارے افسر راشن بازار میں بیچ دیتے ہیں اور ہمیں کھانے کے لئے جلی ہوئی روٹی اور پتلی دال ملتی ہے ۔ہم گھروں سے دور سر حد پر یہ مشکل حالات دیکھتے ہیں ۔ایسا کھانا کھا کر ہم کیا ڈیوٹی دیں گے ۔اس برفیلے موسم میں گیارہ گھنٹے کھڑے رہ کر ڈیوٹی کرنا آسان نہیں ۔اب یہ کھانا کھا کر ڈیوٹی کرنا مشکل ہوگیا ہے ۔یہ وڈیولاکھوں کی تعداد میں دیکھی اور ہزاروں کی تعداد میں شیئر ہوئی ۔جس کے بعد بھارتی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کو کہنا پڑا تھاکہ انہوں نے وڈیو دیکھی ہے اور متعلقہ حکام کو اس کا نوٹس لینے کا بھی کہہ دیا ہے ۔بظاہر تو یہ پاک بھارت کشیدگی کے ہاتھوں عاجز آئے ایک فوجی کی داستان َغم تھی درحقیقت یہ اس خطے کے لوگوں کا مشترکہ المیہ ہے ۔پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی نے دونوں ملکوں کے درمیان دنیا کا بلند ترین محاذ جنگ کھول کر رکھا ہے ۔جو کم وبیش چار عشروں سے انسانوں اور انسانی وسائل کے لئے برمودہ ٹرائی اینگل بن کر رہ گیا ہے ۔جہاں ہر سال درجنوں فوجی برفانی تودوں اور گلیشئروں کی زد میںآکر جاں سے گزر جاتے ہیں ۔ہزاروں زخمی ہو کر ناکارہ ہوجاتے ہیں ۔اس بلندی پر سامان خوردو نوش اور اسلحہ پہنچانا جاں جوکھوں سے کم نہیں اور اس پر عام رسد سے ہزاروں گنا زیادہ اخراجات اُٹھتے ہیں۔کشمیر کی پوری کنٹرول لائن بلند و بالا پہاڑوں ،برفانی چوٹیوں ،خوفناک کھائیوں اور جنگلات پر مشتمل ہے ۔ چند دن پہلے بھی کنٹرول لائن پر دس بھارتی فوجی برفانی تودے تلے دب کر ہلاک ہوگئے تھے ۔دونوں طرف کی افواج اس لکیر پر ہمیشہ حالت جنگ میں رہتی ہیں ۔جنگ ہویا امن بداعتمادی اس قدر زیادہ ہے کہ دونوں طرف کی فوجوں کو ہر لمحہ چوکس اوربیدار رہنا پڑتا ہے ۔کشمیر کی تحریک آزادی بھارت کے لئے ایک مستقل عذاب ہے ۔جس نے کیمپوں میں بیٹھے بھارتی فوجیوں کا سکون بھی چھین رکھا ہے ۔ میزائلوں کی ایک نہ ختم ہونے والی دوڑ جاری ہے اور جب وسائل اسی طرح بہہ رہے ہوں تو دور سرحد پر بیٹھے فوجی کے حصے میں جلی ہوئی روٹی اور پانی نما دال ہی آتی ہے ۔دہلی سے چلنے والے وسائل جب کنٹرول لائن تک پہنچتے ہیں تو ان کا حلیہ کچھ اسی طرح بگڑ چکا ہوتا ہے کیونکہ بھارت غربت کی طرح بدعنوانی میں بھی خود کفیل ہے ۔اس صورت حال سے نکلنا چنداں مشکل نہیں اگر بھارت مسئلہ کشمیر کا طوق اپنے گلے سے اتار پھینکے اور مسئلے کے حل کے لئے کسی معقول اور قابل عمل تجویز پر آمادہ ہوجائے تو پاکستان اور بھارت دونوں برسوں سے چلی آنے والی کشیدگی کی قید سے آزاد ہو سکتے ہیں اور جو وسائل سیاچن کے برف زاروں اور کشمیر کی کنٹرول لائن سمیت دوسرے فوجی مقاصد کے لئے استعمال ہو رہے ہیں وہ عوام کی فلاح وبہبود پر خرچ ہو سکتے ہیں ۔ یہ ایک عجیب اور دلچسپ تضاد ہے کہ ایک طرف بھارت سوپر پاور بننے کے خواب دیکھ رہا ہے تو دوسری طرف سوپر پاور کا ایک محافظ پتلی دال اور جلی ہوئی روٹی لے کر قومی عظمت کا گیت گا رہا ہے۔اس سے بڑی جگ ہنسائی اور کیا ہوگی؟خود کردہ را علاج نیست کے مصداق یہ بھارت کاخود چنا ہوا راستہ ہے ۔کشمیر پر لچک دکھا کر بھارت اس جگ ہنسائی سے بچ سکتا ہے اور برصغیر کے ایک ارب سے زیادہ انسانوں کو سکون اور امن کی زندگی بھی فراہم کر سکتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں