اسلامی ممالک بحران کے حل میں کردار ادا کریں

اسلامی ممالک بحران کے حل میں کردار ادا کریں

عراق اور شام کی تباہی اور مشرقی وسطیٰ کا مجموعی طور پر متاثرہ صورتحال کے بعد خلیجی ملک قطر کے ساتھ عرب ممالک یکا یک سفارتی روابط اور معمول کے تعلقات توڑ کر اسے تنہا کرلینا ایک اور سنگین صورتحال کے جنم دینے کا باعث ہوگا۔ گو کہ اس بحران کے پس پردہ محرکات کا ابھی درست اندازہ ممکن نہیں لیکن مشرق وسطی پر نظر رکھنے والے عالمی سیاسی ماہرین کے مطابق ممکنہ طور پر سعودی حکومت نے قطری امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی کے گزشتہ ماہ دیئے گئے بیان کے رد عمل میں انتہائی فیصلہ کیا گیا۔ابھی گزشتہ عشرہ ہی ریاض میں عرب-امریکا-اسلامک سمٹ کا پہلا اجلاس منعقد ہوا تھا، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ایران پر خطے میں فرقہ وارانہ فسادات پھیلانے کا الزام عائد کیا تھا۔اس اجلاس میں قطر نے بھی شرکت کی تھی۔ کیونکہ وہ بھی 35 رکنی اس عسکری اتحاد کا حصہ تھا، جب کہ قطر یمن جنگ میں بھی سعودی عرب کا اتحادی ہے۔لیکن بعد ازاں وہ متنازعہ بیان سامنے آیا تھا جس سے قطری حکومت نے لا تعلقی بھی ظاہر کی تھی۔اس ساری صورتحال میں نظر یہی آتا ے کہ سعودی عرب اور دیگر ممالک کو قطر کا ایران کے ساتھ تعلقات اور ایران ک معاملات و مفادات سے متعلق قطر کی جانب سے حمایت اور سہولت کاری ہے۔ سعودی عرب سمیت سات ملکوں کا قطر کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے کے قطر کی معیشت' تجارت اور یہاں تک کہ شہریوں کو روز مرہ کے استعمال کی اشیاء کے حصول میں بھی مشکلات کا سامنا فطری امر ہوگا۔ فضائی روٹس اور بندر گاہ کی بندش سے قطر ائیر ویز کی پروازیں بری طرح متاثر ہوں گی اور ان کا فاصلہ بڑھے گا ۔ اس صورتحال کو اگر قطر کا دنیا سے رابطہ منقطع ہونے سے تشبیہہ دی جائے تو غلط نہ ہوگا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ایک جانب عرب اتحاد تشکیل دی جاتی ہے اور سعودی فوجوں کے ساتھ قطر کی فوج بھی لڑائی میں شانہ بشانہ حصہ لیتی ہے مگر دوسری جانب اچانک ہی ایک ایسا فیصلہ سامنے آتا ے جس سے خلیج کی ایک اور اسلامی ملک کی بقاء خطرے میں پڑ گئی ہے۔ اس صورتحال پر پاکستان کی جانب سے محتاط بیان جاری کیا گیا ے جبکہ ترقی نے ثالثی کی پیشکش کی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ برادر اسلامی ملک ہونے کے ناطے پاکستان اور ترک خلیج میں ایک نئے بحران کو شدت اختیار کرنے سے روکنے میں اہم کردارادا کرسکتے ہیں۔ اسلامی ممالک کی تنظیم کو اس صورتحال کو سنبھالنے کے لئے فوری طور پر آگے آنے کی ضرورت ہے۔ قطع نظر اس کے کہ سعودی عرب اور قطر کے درمیان اختلافات کی شدت کتنی ہے ایران کے ساتھ قطر کی قربت سعودی عرب کے لئے اس قدر نا قابل برداشت ہونا کسی کے مفاد میں نہیں۔ کسی خطے میں اس قسم کی محاذ آرائی میں آس پاس کے ممالک کا بھی بری طرح متاثر ہونا فطری امر ہوگا۔ سعودی عرب نے امریکہ کے ساتھ ہتھیاروں کی خریداری کا جو سودا طے کیاہے ان ہتھیاروں کا سعودی عرب کے دفاع کے لئے استعمال کی تو حمایت کی جاسکتی ہے لیکن اگر یہ ہتھیار کسی اور تنازعے میں استعمال ہوئے تو اس سے بڑی بد قسمتی کیاہوگی کہ اس کے نتیجے میں سعودی عرب اور خلیجی ممالک کا نقشہ ہی بدل جائے ۔ مشرق وسطیٰ کے ممالک کا امن ایک دوسرے سے وابستہ ے۔ اس کا تجربہ کویت' عراق ' یمن اور شام کی صورتحال کے تجربات کے بعد سبھی کو بخوبی ہونا چاہئے۔ سعودی عرب اور قطر کو اپنے اختلافات اس حد تک نہیں لے جانا چاہئے تھا جو صورتحال اس وقت پیداہوئی ہے اور اب جبکہ مشرق وسطیٰ کے امن کو ان کے اقدام سے دھچکہ لگا ہے اور مشرق وسطیٰ میں استحکام کاتوازن بگڑ رہا ہے اب بھی وقت ہے کہ وہ بصیرت کا مظاہرہ کریں امریکہ کی جانب سے معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی تجویز معقول ضرور ہے لیکن اسے صرف اس حد تک نہیں رکھنا چاہئے۔ قطر اور سعودی عرب بیک وقت امریکہ کے اتحادی ممالک ہیں جنکے درمیان مذاکرات شروع کرانے میں واشنگٹن کا کردار از خود اہم ہوگا۔ دوسری جانب پاکستان اور ترکی خاص طور پر ان ممالک میں ثالثی کاکردار ادا کرتے ہوئے دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز تک لانے میں کردار ادا کرنا چاہئے۔ ایران سمیت کسی بھی اسلامی ملک کو اس تنازعے میں شدت لانے کے باعث بیانات اور اقدامات سے پرہیز کرنا چاہئے ۔ جن ممالک نے سعودی اقدام کے ساتھ اس معرکے میں کودنے کی غلطی کی ہے ان کو ان کی غلطی کا احساس دلایا جائے اور جتنا جلدہوسکے رابطوں کی بحالی کا عمل شروع کیا جائے۔ اسلامی ممالک کے درمیان جہاں اتحاد و اتفاق کی ضرورت ہے اور عالمی سطح پر مسلمانوں کے ساتھ پیش آنے والے حالات اور مسلمانوں کے اندر سے اور اسلام کے نام پر جس قسم کے دہشت گرد اور انتہا پسند گروپ سامنے آرہے ہیں بجائے اس کے کہ مسلم ممالک اس مشکل صورتحال کے مقابلے میں متحد ہوں ایک دوسرے سے الجھنا امت مسلمہ کا شیرازہ اپنے ہاتھوں مزید بکھیرنے کا سبب بنے گا۔ مسلم ممالک کو اس امر کا ادراک ہونا چاہئے کہ یکے بعد دیگرے وہ جس طرح سازشوں کاشکار ہو رہے ہیں اگر اس سازش کا مقابلہ کرنے کی بجائے وہ خود اس میں شریک ہوگئے تو خدانخواستہ ایک قوت ایسا آئے گا کہ کوئی بھی اسلامی ملک محفوظ نہیں رہ پائے گا۔

متعلقہ خبریں