پشاور میں منی اسلام آباد؟

پشاور میں منی اسلام آباد؟

خیبر پختونخوا کے سینئر وزیر بلدیات و دیہی ترقی کی جانب سے ریگی للمہ ٹائون شپ کو منی اسلام آباد قرار دے کر اس کی جلد تکمیل کے عزم کا اظہار نیک خیالات کے اظہار کے زمرے کی حد تک تو درست ہے لیکن ریگی للمہ کے منی اسلام آباد بننے اور جلد تکمیل کا خواب نہ صرف موجودہ دور حکومت بلکہ آئندہ ادوار میں بھی اس کا خواب ہی رہنے کا خدشہ ہے۔ ریگی للمہ ٹائون شپ کے دو زونز کی اراضی کا مسئلہ سالوں سے طے نہیں ہو رہا کجا کہ اس پر کام شروع کیا جائے اور اگر حکومت کی جانب سے زمین کے مالکان اور قبائلی بھائیوں سے معاملات طے کئے بغیر ترقیاتی کام شروع کرنے کی غلطی کی کوشش کی گئی تو یہ قانونی طور پر ہی نہیں اس سے ریگی للمہ کے غیر متنازعہ زونز میں قائم آبادی کے بھی غیر محفوظ ہونے کا خطرہ پیدا ہوگا۔ وزیر بلدیات بار ہا دعویٰ کرچکے ہیں کہ متنازعہ اراضی کا مسئلہ حل کرلیا جائے گا لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شد کے مصداق یہ حسرت ہی ہے اور حسرت ہی رہ جائے گی۔ صوبائی وزیر کے دعوے کو اگر حقیقی قرار دے کر پرکھا جائے تو صوبائی وزیر نے ایسے کیا اقدامات کئے ہیں کہ ریگی للمہ منی اسلام آباد بن چکا ہے۔ بجلی اور گیس کا مسئلہ اپنی جگہ موجود ہے ریگی للمہ کے لئے ٹرانسپورٹ کا کوئی بندوبست نہیں سکول کالج ہسپتال اور دیگر شہری سہولیات ناپید ہیں۔ ابھی یہاں حالات اس قدر موافق نہیں کہ لوگ یہاں اگر گھر بنائیں اور گھر بنا کر کرایہ پر دے کر آمدنی حاصل کرسکیں۔ ریگی للمہ ٹائون شپ کی ناکامی صوبائی حکومتوں اور پی ڈی اے کی کارکردگی پر ہی سوال نہیں بلکہ اب لوگ سرکاری سکیموں میں پلاٹ حاصل کرنے سے قبل بار بار یہی سوال کرتے ہیں کہ کہیں اس نئی سکیم کا حشر بھی ریگی للمہ جیسا تو نہیں ہوگا۔ کیا حکومتی اداروں کے پاس اتنی استعداد باقی ہے کہ وہ ایک نیا شہر بسا سکیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ حکومت مجوزہ پشاور ماڈل ٹائون اور دیگر رہائشی منصوبوں کا تعمیراتی کام فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے حوالے کرنے پر مجبور ہے۔ کسی معیاری کمپنی کو سرکاری ٹھیکے ملنے پر اعتراض نہیں اس امر کی جانب توجہ دلانا ہے کہ حکومتی ادارے اب اس قابل نہیں رہے کہ کسی بڑے منصوبے کے حوالے سے ان پر اعتماد کیا جاسکے۔ ہر آنے والی حکومت کی طرف سے پی ڈی اے کو ایک مضبوط ادارہ بنانے یک بجائے مذاق بنا دینے کارویہ بھی اعتماد کی شکستگی کا باعث ہے۔ پی ڈی اے کو کبھی سی ڈی ایم ڈی بنا دیا جاتا ہے' کبھی پی ڈی اے کی بحالی ہوتی ہے' کبھی صفائی و آبنوشی اور نکاسی آب کی خدمات اس سے لے کر کسی کمپنی کے حوالے کی جاتی ہیں اور کبھی واپس یہی خدمات پی ڈی اے کے حوالے کی جاتی ہیں۔ خدمات کی واپسی کے بعد بجائے اس کے کہ حکومت پی ڈی اے اور ٹائونز کو مطلوبہ سامان گاڑیاں وغیرہ فراہم کرے۔ صرف ایک کاغذ کے پرزے پر اکتفا کیا گیا ہے جس کے باعث کوڑا کرکٹ اٹھانے والی وہ متروک گاڑیاں دوبارہ سڑکوں پر نظر آنے لگی ہیں۔ کیا ان وسائل اور اقدامات سے حکومت پشاور کو دوبارہ پھولوں کاشہر بنانا چاہتی ہے۔ جہاں حیات آباد جیسے علاقے میں اب شہری سہولیات صحت و صفائی آبنوشی اور نکاسی آب کا معیار قدیم شہر کے برابر آتا جا رہا ہے وہاں حکومت ریگی للمہ کو منی اسلام آباد بنا سکے تو یہ معجزہ ہی ہوگا۔ اسباب و وسائل اور اقدامات سے کسی طور نہیں لگتا کہ شہر میں بلدیاتی نظام اور سہولیات میں خوشگوار تبدیلی آئی ہو۔ کم و بیش معاملات جوں کے توں چل رہے ہیں مگر اصرار تبدیلی اور پھولوں کے شہر پشاور کی بحالی کے کئے جاتے ہیں۔
مینگورہ میں موبائل چھیننے کی پہلی واردات
کچھ جرائم بڑے شہروں کے جرم سمجھے جاتے ہیں جس کی وجوہات میں بے پناہ آبادی اور واردات کے بعد با آسانی بھیڑ میں ناقابل شناخت طور پر گم ہونے کی آسانی بنایا جاتا ہے لیکن اب اگر پشاور میں جدید بستی حیات آباد میں آئے روز موبائل چھین لئے جاتے ہیں۔ گنجان آباد مرکزی شہر ی علاقہ گلبہار سے رکشے میں جانے والی خواتین سے پشاور ہائیکورٹ کے سامنے سڑک پر موٹر سائیکل سوار موبائل اور پرس چھین کر با آسانی فرار ہوسکتا ہے۔ اسی طرح اب مینگورہ میں بھی موبائل چھیننے کی وارداتیں شروع ہوچکی ہیں۔ ہمارے بیورو رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز مینگورہ شہر میں پہلی بار تراویح سے واپس آنے والے نوجوان سے موٹر سائیکل سواروں نے موبائل فون چھین لیا۔ موبائل فون چھیننے والوں نے مینگورہ میں بھی واردات کرکے اس لعنت کا آغاز کردیا ہے جس کی دیکھا دیکھی اب وہاں کے جرائم پیشہ افراد کا بھی سٹریٹ کرائمز کی طرف متوجہ ہونا فطری امر ہوگا۔ مینگورہ پولیس اگر اپنی نوعیت کی اس پہلی واردات میں ملوث موٹر سائیکل سواروں کو جلد سے جلد گرفتار کرکے پیش نہ کرے تو اس وباء کے پھیلنے اور بے قابو ہونے میں وقت نہیں لگے گا۔

متعلقہ خبریں