ہمیں تماش بینی پسند ہے

ہمیں تماش بینی پسند ہے

ایک بار پھر اس قوم نے امیدیں وابستہ کرلی ہیں۔ ایک بار پھر اس خواہش نے ہمارے دلوں کو اپنی مٹھی میں جکڑ رکھا ہے کہ اب کی بار شریفوں میں سے کسی ایک کو سزا ہو جائے گی۔ خواہشات کا کیاہے یہ تو منہ زور گھوڑوں کی مانند ہوتی ہیں اور مجھے بار بار وہ بات یاد آتی ہے کہ If wishes were horses , beggers would ride (اگر خواہشات گھوڑے ہوتیں تو فقیر ان کے سوار ہوتے) خواہشات کا کمال ہی یہ ہے کہ کسی بھی عقل کی کسوٹی پر پرکھے بنا ہی کسی بھی قسم کی خواہش کو اپنا مہمان کیا جاسکتا ہے۔ ہر بار جب احتساب کی بات کا آغاز ہوتاہے اور یہ قوم منہ اٹھائے انتہائی اشتیاق سے اس بات کی منتظر ہوتی ہے کہ اب ان سیاستدانوں میں سے کسی کو ضرور سزا ہو جائے گی۔ ان کے ہاتھوں ان کے جسموں میں اضطراب کی جو کیفیت دکھائی دیتی ہے ان کی آنکھوں سے جو خواہش ٹپکتی محسوس ہوتی ہے ان کے چہروں پر جو عجلت ہوتی ہے اسے دیکھ کر ہم ایک عرصے سے یہ محسوس کرتے ہیں کہ یہ قوم اب لٹ لٹ کر تھک چکی ہے۔ اب یہ لوگ انصاف چاہتے ہیں۔ اب وہ اپنے لٹیروں کو کٹہروں میں کھڑا دیکھنا چاہتے ہیں۔ اب وہ خود چاہتے ہیں کہ انصاف کی بالا دستی ہو اور انہیں انصاف ملے۔ یہ حکمران' یہ سیاستدان ایک طریل عرصے سے جونکوں کی مانند اس قوم کے جسم کو چپکے ہوئے اس کاخون پی رہے ہیں اب خلاصی کی کوئی صورت دکھائی دینی چاہئے۔ حسن اور حسین نواز کی پیشیوں تک بھی یہی خیال اپنی پوری صحت کے ساتھ میری سوچ پر حاوی رہا۔ یہاں تک کہ میں نے حسین نواز کی وہ تصویر دیکھی جس میں جے آئی ٹی کے سامنے پیشی کے دوران وہ ایک بنچ پر بیٹھے ہیں۔ مجھے اس معاملے میں حسین نواز سے کسی قسم کی کوئی ہمدردی نہیں' میں کسی صورت بھی میاں صاحبان سے کسی قسم کی کوئی وابستگی نہیں رکھتی بلکہ ان کی سیاست اور بد عنوانی کے طریقوں سے میرا ایک اصولی اختلاف ہے لیکن اس تصویر کی اشاعت کے بعد ایک احساس ہوا ہے' ایک بات سمجھ میں آئی ہے' ایک خیال نے ذہن پر گرفت مضبوط کرلی ہے کہ ہم بحیثیت قوم تماش بین ہیں۔ ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ ملک میں بد عنوانی کا خاتمہ ہونا چاہئے۔ ہمیں تو اس بات سے بھی علاقہ نہیں کہ کس نے ہمیں کس حد تک لوٹا اور اب اس دولت کو ملک میں واپس لانے کا کیا طریقہ ہونا چاہئے۔ ہمیں احتساب سے غرض نہیں ہمیں اپنے لٹیروں کو سزا دئیے جانے کی بھی پرواہ نہیں ہم تماشا چاہتے ہیں۔ ہر وقت' ہر قسم کا تماشا' سڑکوں پر دو لوگوں کی لڑائی سے لے کر حکمرانوں کی عدالت پیشی تک' عمران خان کے دھرنوں سے لے کر نواز شریف کے جلسوں تک ' کرکٹ ٹیم کے میچ سے لے کر سی پیک منصوبے کی تفصیلات تک' ہمیں ہرایک شے میں دلچسپی ہے اور کسی ایک بات میں بھی نہیں ۔ ہم چاہتے ہیں کہ بس تماشا لگا رہے' تبھی تو عدالتوں سے کسی بھی قسم کا کوئی حکم آئے' ہماری دلچسپی صرف اسی وقت تک ہوتی ہے جب تک فیصلہ محفوظ ہوتا ہے ۔ جے آئی ٹی کس سمت میں تفتیش کر رہی ہے اس سے ہمیں علاقہ نہیں حسین نواز کی بینچ پر بیٹھے تصویر سے ہمیں دلچسپی ہے۔ نہال ہاشمی نے عدالت کی شان میں کیوں گستاخی کی ہمیں اس کی پرواہ نہیں وہ جملے کیا تھے اس کا کھوج لگانا ہمارے لئے بہت ضروری ے۔ ہمیں ہر ایک بات میں' ہر معاملے میں' ہر مسئلے میں سنسنی خیزی چاہئے' کچھ ڈرامہ' کچھ ایکشن درکار ہے۔ میں ایک طویل عرصے سے سوچتی تھی کہ آخر یہ کیسے ہوتا ہے کہ بد عنوانیوں کے منبع سے واقف لوگ معاشرے میں بڑھتی کرپشن سے نالاں لوگ' لوڈشیڈنگ سے بے زار لوگ انہی لوگوں کو ووٹ دیتے ہیں جنہیں وہ اپنا مجرم سمجھتے ہیں۔ میں سوچتی تھی کہ آخر یہ کیسے ہوتاہے کہ ہمارا میڈیا صرف منفی باتوں کا ہی مشتہر دکھائی دیتا ہے اور بات کبھی کسی مثبت زاویے سے چلتی ہی نہیں۔ حال ہی میں لوگوں نے بڑی تعداد میں تین دن تک پھل خریدنے کا بائیکاٹ کیا۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں بہت بڑا واقعہ ہے۔ لوگوں کے رویوں میں ایک بہت بڑی تبدیلی ایک بالکل نئی نہج کا آغاز لیکن اس حوالے سے کوئی خاص بات نہ ہوئی اور تب یہ احساس ہوا کہ ہم بحیثیت قوم صرف ایک ہی حوالے سے سنجیدہ ہیں۔ ہم اپنی تمام تر توجہ سنجیدگی اور پسندیدگی کے ساتھ صرف تماش بینی چاہتے ہیں۔ ہم اپنے بھی کسی مسئلے کا حل نہیں چاہتے۔ ہم بد عنوانی کے پنچوں سے نجات نہیں چاہتے۔ ہم اچھے حکمران نہیں چاہتے۔ بہتر مستقبل نہیں چاہتے۔ ہم اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں بھی شاید سنجیدہ نہیں' ہم تماشا دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ بات ہمیں لوٹنے والے بخوبی سمجھ چکے ہیں۔ اسی لئے تو ایک کے بعد ایک نیا تماشا لگتا ہے۔ خود ہماری ہی محرومیوں کے سرکس سجائے جاتے ہیں جس میں ہمارے مستقبل کی ہری زمین سے کئی فٹ کے فاصلے پر فضا میں معلق ایک جھولے پر جھولتی رہتی ہے اوربد عملیوں کے بونے ہمارے سامنے زمین پر ناچتے گاتے رہتے ہیں۔ اس میں کسی کو بھی مورد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ یہ سب ہمارا اپنا کیا دھرا ہے۔ ہماری اپنی خواہشات کا مظہر ہے۔ ہم یہ سب اپنے ساتھ خود کر رہے ہیں۔ وہ لوگ جو اپنے ہی ساتھ زیادتیوں کا ادراک ہونے کے باوجود یہ کہیں کہ ووٹ تے فیر وی نواز شریف نوں ای دینا اے اور میڈیا اسے دکھا بھی دے اور ساتھ اپنی حیرانی کا اظہار بھی کرے۔ اس قوم کے تماش بین ہونے میں کونسا شک باقی رہ جاتا ہے۔ افسوس صرف اس بات کاہے کہ اس معاملے میں سرکس کے اس فضا میں معلق جھولے سے جھولتی لڑکی بھی ہم ہیں' سرکس کی زمین پر ناچتے بونے بھی اور پنڈال کے چاروں جانب لگی نشستوں پر زور زور سے تالیاں بجاتے لوگ بھی۔ اور افسوس کہ یہ سب معلوم ہونے کے باوجود بھی ہم اس کا سد باب کرنے کو تیار نہیں کیونکہ ہمیں یہ تماش بینی پسند ہے۔ ہم وہ نا معقول لوگ ہیں کہ خود اپنی ہی بے بسی پر ٹھٹے لگاتے ہیں اور اپنی ہی بے عزتی پر آوازیں کستے ہیں۔ حیران ہوں کہ ان رویوں کو کیا نام دیا جاسکتاہے۔

متعلقہ خبریں