موت کا ایک دن معین ہے

موت کا ایک دن معین ہے

کل دوستوں کی محفل میں آنے والے وقت کے حوالے سے مختلف قسم کے خدشات کا اظہار کیا جارہا تھا ایک صاحب کہنے لگے یار ریٹائرمنٹ سے پہلے ہی کوئی چھوٹا موٹا کاروبار سیٹ کرلیا جائے تو بہتر ہے حالات خراب ہیں ہماری کرنسی روز بروز گرتی چلی جارہی ہے ہم روزبروز قرضوں کی دلدل میں پھنستے جارہے ہیں مہنگائی ہے کہ روزبروز بڑھتی ہی چلی جارہی ہے تنخواہ سے تو فی الحال گزارہ ہوجاتا ہے لیکن پنشن پھر اتنی نہیں ہوتی اس لیے بہتر ہے کہ ابھی سے کوئی مستقبل بندوبست کیا جائے ۔ میاں جی نے ان کی بات سن کر ایک بڑا سا قہقہہ لگاتے ہوئے کہا بات تو آپ کی ٹھیک ہے منصوبہ بندی بھی اچھی بات ہے انسان کو کوشش بھی کرتے رہنا چاہیے وہ جو کہتے ہیں کہ خوب سے ہے خوب تر کہاںلیکن یار یہ بھی تو سوچو کہ موت کا ایک دن معین ہے ایک اور ریٹائرمنٹ بھی تمھاری منتظر ہے پل کا بھروسہ نہیں ہے لوگ روز مررہے ہیں لیکن جینے والے یہ نہیں سوچتے کہ ہم نے بھی مرنا ہے اور اگر کوئی یہ جاننا چاہتا ہے کہ کسے موت یاد ہے اور کسے یاد نہیں تو وہ صرف یہ دیکھ لے کون حرام سے بچتا ہے دوسروں کے حقوق کا خیال رکھتا ہے جائیداد میں بہنوں اور بیٹیوں کا حصہ پورا پورا ادا کرتا ہے پڑوسی کا خیال رکھتا ہے اپنی زندگی کو اس طرح ترتیب دیتا ہے کہ اس کا مہینہ اپنی تنخواہ میں گزر جائے قناعت کی چادر اوڑھ کر زندگی کے دن گزارتا ہے اگر یہ سب کچھ ہورہا ہے تو سمجھو اسے اپنی اصل ریٹائرمنٹ یاد ہے میں تو ایسے ایسے افسران صاحبان کو جانتا ہوں کہ جن کے گھر کا باورچی خانہ ہی آباد نہیں ہوتا بس باہر جا کرکھانا کھالیا جاتا ہے سیانے کہتے ہیں کہ جس گھر کا کچن آباد نہ ہو وہ بے برکتی اور نحوست کا شکار ہوجاتا ہے اس گھر میں جب دسترخوان ہی نہیں بچھتا تو ایک دوسرے کے ساتھ روحانی تعلق محبت بھرا رابطہ بھی کمزور ہوجاتا ہے بس مادیت کا دور دورہ ہوتا ہے ہوٹلوں میں کھانا کھا کر زندگی گزاری جاتی ہے گھر کے کچن اور ہوٹلوں کے اخراجات میں زمین و آسمان کا فرق ہے یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جنھیں اپنی تنخواہ کے علاوہ بالائی آمدنی بھی ہوتی رہتی ہے مال حرام بود بجائے حرام رفت والی بات ہے۔ ہم نے جب میاں جی کو فارسی کا جملہ بولتے سنا تو ہم سمجھ گئے کہ اب وہ حد سے زیادہ سنجیدہ ہیں کیونکہ وہ جب وہ بہت سنجیدہ یا غمگین ہوتے ہیں تو ان کی زبان سے ایک آدھ فارسی کا جملہ ضرور پھسل جاتا ہے ۔ہم نے ان کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ میاں جی کی باتوں میں بڑا وزن ہے جب ایک شخص کو اپنی اصل ریٹائرمنٹ یا د ہے تو وہ یہ بھی جانتا ہے کہ مرنے کے بعد ایک ایسا مرحلہ بھی آئے گا جب اسے خالق کائنات کے سامنے کھڑا ہونا پڑے گا اس سے ہر چیز کا حساب لیا جائے گا مال کیسے کمایا اور کہاں خرچ کیا وہ یہ بھی جانتا ہے کہ دنیا کے رشتے تو دنیا میں ہی رہ جاتے ہیں ماں باپ بہن بھائی بیوی بچے سب کی اپنی اپنی قبر اور اپنا اپنا حساب ہوگا آج اپنے گھر حرام مال لے جانے والوں کو سوچ لینا چاہیے کہ حشر کے میدان میں سب کو اپنی اپنی پڑی ہوگی بیٹا باپ سے بھاگ رہا ہوگا اور بیٹی ماں سے کیونکہ سب کو نظر آرہا ہوگا کہ آج ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ انھیں مل کر رہے گا ۔میاں جی نے ہماری بات سن کر کہا آپ زرا غور کیجیے کہ آج حرام مال کمانے والا بیوی بچوں ہی کے لیے تو سب کچھ کررہا ہوتا ہے جب ایک افسر اچھے گریڈ میں پہنچتا ہے اور ایک بااختیار سیٹ پر بیٹھتا ہے تو اس کی عمر پچاس کے ہندسے کو تو یقینا چھورہی ہوتی ہے اور یہ وہ عمر ہے جب ناقص غذائوں اور آلودہ ماحول کی وجہ سے صحت کا بیڑ ا غرق ہوچکا ہوتا ہے بہت سے لوگ اس عمر میں شوگر بلڈ پریشر اور دل کے امراض میں مبتلا ہوچکے ہوتے ہیں پرہیزی کھانا ان کا مقدر ہوتا ہے ان کی حرام کی کمائی میں ان بد نصیبوں کا حصہ بھی تو نہیں ہوتا سب کچھ بیوی بچے ہی کھاجاتے ہیں لیکن اس حرام کی کمائی کا حساب انھیں دینا پڑے گا اور یہ بھی یاد رکھنا کہ جن بچوں کو حرام کی کمائی پر پال پوس کر بڑا کیا جاتا ہے وہ پرلے درجے کے نافرمان اور بے حس ہوتے ہیں انھیں اپنے باپ کی کمائی کو اڑانے میں کچھ دیر بھی نہیں لگتی انھیں اپنے بوڑھے والدین کے بڑھاپے ان کی بیماری اور کسمپرسی کا کچھ خیال نہیں ہوتا میں ایک ایسے کروڑ پتی کو جانتا ہوں جسے اس کے بڑھاپے میں جب وہ بیمار بھی تھا اور اپنے آخری سانس گن رہا تھا چھ جوان اور ہٹے کٹے بیٹوں نے اپنے بہت بڑے بنگلے کے ایک برآمدے تلے ڈال رکھا تھا جس کے سرہانے ایک پرانا شور مچاتا پنکھا چلتا رہتا اسے دیکھنے والوں کے لیے تو یقینا اس واقعے میں بہت بڑی عبرت تھی لیکن زرا اس کی اپنی اذیت کو دیکھیے وہ یہی سوچتا ہوگا کہ میں ساری عمر کوئلوں کی سوداگری ہی کرتا رہا میں نے حرام ذرائع سے جو دولت کمائی تھی آج اس پر میرے بچوں کا قبضہ ہے سب اپنے آرام دہ کمروں میں ائر کنڈیشن لگا کر سوتے ہیں اور مجھے ایک پرانے پنکھے کے آگے ڈال رکھا ہے کاش یہ سب کچھ میں نے نہ کیا ہوتا !اب ذرا تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھ لیجیے ایک صاحب جو بقید حیات ہیں اللہ کا دیا بہت کچھ ہے بڑے اچھے عہدے سے ریٹائر ہوئے قناعت والی زندگی گزاری اور جو کچھ پس انداز کیا اچھی جگہوں پر انوسٹ کیا اللہ نے رزق حلال میں برکت ڈالی اور ان کی آمدنی میں خوب اضافہ ہوا آج وہ اس پوزیشن میں ہیں کہ انہوں نے بہت سے مستحقین کے وظائف مقرر کر رکھے ہیں ایک دو مساجد بھی تعمیر کی ہیں وہ جانتے ہیں کہ ایک دن انھوں نے یہاں سے رخصت ہو کر اپنے اصل گھر کی طرف لوٹنا ہے تو اپنے جانے سے پہلے وہ اپنے ہاتھوں سے اللہ کے نام پر مخلوق خدا کو دے رہے ہیں یقینا جس کا بڑا اجر ہے۔

متعلقہ خبریں