قطر اورخلیجی ممالک کے اختلافات :حقائق کیا ہیں؟

قطر اورخلیجی ممالک کے اختلافات :حقائق کیا ہیں؟

قطر کے ساتھ خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب کے حالیہ اختلافات کی کہانی دراصل اس وقت شروع ہوئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب دورے کے موقع پر اسلامی کانفرنس میں سعودی عرب نے ایک قرادادمیں ایران کوعالمی دہشت گردی کاسردارقراردیا ۔اس قرارداد کے دو دن بعدیعنی 23مئی 2017کو قطرکے بادشاہ تمیم بن حمدآل ثانی کی طرف منسوب ایک بیان قطر کی سرکاری نیوز ایجنسی سے نشر ہوا جس میں کہا گیا کہ" قطر میں امریکا نے فوجی اڈے قطر کو ہمسائیہ ممالک کے ممکنہ حملے سے بچانے کے لیے بنائے ہوئے ہیں اور ایران خطے کا ایک اہم ملک ہے جس کے ساتھ اختلافات رکھنا حکمت کے خلاف ہے"۔سعودی عرب نے جب قطرسے اس بیان کے بارے وضاحت طلب کی تو قطری حکومت کی طرف سے اس بیان کا انکارکیاگیا اور مؤقف اپنایاگیا کہ دراصل ہیکروں نے قطرکی نیوز ایجنسی کو ہیک کرکے قطر کے بادشاہ کی طرف منسوب یہ من گھڑت بیان نشرکیاہے۔لیکن سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اس وضاحت کو رد کردیا اور قطر کے خلاف سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے صحافتی حلقوں کی جانب سے لفظی جنگ شروع کردی گئی۔دوسری طرف قطر کے صحافتی حلقے بھی دوبدواس جنگ میں حصہ لیتے رہے۔چنانچہ سعودی عرب کے ایک معروف اخبار نے ایک دن سرخی لگائی کہ " قطر نے خلیج کی صف کو پھاڑ دیا اورامت کے دشمنوں کو سپوٹ کرناشروع کردیا"۔اگلے دن قطر کے ایک اخبار نے شاہ سلمان کاہتک آمیز خاکہ بناکر سعودی عرب کی کلاس لی۔صحافتی کھینچاتانی میں معاملہ یہاں تک بھی پہنچا کہ قطر کے ایک اخبار نے یہ سرخی بھی جمائی کہ"تم جتناچاہو بھونک لو قطر کو اس کے حق سے نہیں روک سکتے"۔دوسری طرف سعودی عرب،بحرین،مصر اور عرب امارات نے قطرکے مشہور میڈیا گروپ الجزیرہ نیٹ ورک کی نشریات مکمل طور پر اپنے ملکوں میں بند کردیں۔ایک طرف دونوں ملکوں کے درمیان یہ صحافتی جنگ جاری تھی اور معاملہ ٹھنڈا نہیں ہونے پارہا تھا کہ قطر کے بادشاہ نے ایران کے حالیہ انتخابات میں دوسری مرتبہ کامیاب ہونے والے صدرحسن روحانی کوفون کال کرکے مبارک باد دیدی۔چوں کہ یہ تہنیتی پیغام ایران کے خلاف دیگر خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب کے متفقہ منشور سے ہٹ کرتھا اس لیے سعودی عرب اور قطرمیں اختلافات شدید تر ہوگئے۔بعدازاں قطر نے سعودی ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ عبداللہ العتیبی(جس پر قطر میں غیرقانونی کاروبار کرنے کاالزام تھا )کو ملک بدرکردیا،جس پر سعودی عرب نے قطر سے شدید احتجاج کیا۔دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات کا یہ دور 12دن تک چلتارہا یہاں تک کہ 5جون 2017 کو سعودی عرب نے قطر کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات منقطع کردیے۔ قطر اور خلیج کے مابین اختلافات کی ایک اور وجہ قطرکادیگر خلیجی ملکوںسے ہٹ کرایران کے ساتھ اچھے تعلقات استوارکرناہے۔ چنانچہ24فروری 2010کوقطر کے بادشاہ نے ایران کا دورہ کیا اورایران کے ساتھ دفاعی معاہدات کیے۔ان معاہدات کا ایک دور 2015 میں بھی چلا جس میں قطر نے ایران کے مشترکہ حدود کی حفاظت کے لیے دفاعی معاہدات کیے۔دیکھاجائے توقطر اور ایران کے تعلقات میں دراصل مشترکہ چیز طبعی گیس کے وہ کنوئیںہیں جوایران اور قطر کی حدود میں واقع خلیج عربی میں 9700کلومیٹر مربع تک پھیلے ہوئے ہیں۔جن میں سے 6000 کلومیٹر مربع پر پھیلے کنویں قطر کی ملکیت ہیں اور باقی کے 3700 کلومیٹر مربع پر واقع کنوئیں ایران کے پاس ہیں۔یہ طبعی گیس دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے اتنا قریب لے آئی ہے کہ دونوں ملک اپنے اپنے دوستوں اور دشمنوں تک کو بھول گئے ہیں۔چنانچہ 2007میں قطر نے خلیج کانفرنس میں دیگر خلیجی ممالک کے نہ چاہنے کے باوجود ایرانی صدر احمدی نژاد کو بطور مہمان بلایا ۔اس کے علاوہ قطر ہی نے 2006ء میں ایران کے ایٹمی پروگرام پر پابندی کے وقت سلامتی کونسل کے15ارکان میں سے تنہاء سلامتی کونسل کی قراداد1696کی مخالفت میں ووٹ دیا۔دوسری طرف ایران قطر کے سعودی عرب کے ساتھ اچھے تعلقات اور ایران مخالف قرادادوں پر آج تک خاموش ہے۔مفادات کی اس سیاست کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہنا بجاہے کہ قطر اور خلیجی ممالک کے مابین حالیہ اختلافات محض مفاداتی ہیں جوبہت جلد ختم ہوجائیں گے۔ لیکن دوسری طرف المیہ یہ بن چکاہے کہ آج کے دور میں ہرملک اپنے مفادات کوترجیح دینے لگ گیاہے۔بالخصوص اسلامی ملکوں کے ہاں تونظریات ثانوی درجے کے ہو کررہ گئے ہیں۔مفادات کو سامنے رکھ کر خارجہ پالیسی بنانے سے قطعااختلاف نہیں ،مگر افسوس تب ہوتا ہے جب نظریات ، عقائد اورروایات کو بھلا کر مفادات ہی کو سب کچھ سمجھ لیا جائے۔امت مسلمہ کے زوال اور مغلوبیت کی اصل وجہ یہی بنی کہ امت مسلمہ نے نظریات کی جگہ مفادات کو ترجیح دیدی۔اگر مفاد اپنے بھائی کے قاتل سے بھی وابستہ ہوا تو کشادہ دلی کے ساتھ اسے گلے لگالیا اور جب کبھی نظریات اس بات پر مجبور کریں کہ اپنے مظلوم بھائی کے قاتل سے ظلم کاحساب لیاجائے توفوراتاویلات اور مصلحت وحکمت کوگلے لگالیا۔امت مسلمہ میں انتشار وافتراق سے قرآن وسنت میں بہت ڈرایا گیا ہے۔اتحاد واتفاق نے امت مسلمہ کو جو شناخت دی تھی اسی میں آج عالم اسلام کی بھلائی ہے۔خلیجی ممالک ہوں یادیگر اسلامی ممالک سب کواپنے مشترکہ نظریات اورعقائد کی خاطر اتحاد کی رسی کومضبوطی سے پکڑنا چاہئے۔

متعلقہ خبریں