پاک ایران تعلقات ، موجودہ تناظر میں

پاک ایران تعلقات ، موجودہ تناظر میں

اگر چہ دو ملکوں اور وہ بھی ایسے جن کے درمیان مذہب ، تہذیب اور زبان و ثقافت کے مضبوط رشتے ہوں ، کے درمیان تعلقات 'سفارت'سیاست اور ڈپلو میسی کا مضمون ہے اور اس پر ہم جیسے عامی جب بات کرتا ہے تو عموماً چھوٹا منہ بڑی بات کے مترادف سمجھا جاتا ہے ، لیکن کیا کریں ؟ ۔ کہ ایک پاکستانی کی حیثیت سے اپنے پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات ، لین دین ، خرید وفروخت ، خوشی غمی یہاں تک کہ موسموں کے اثرات تک سے ہم بے خبر اور لاتعلق نہیں رہ سکتے ۔ ایران پاکستان کے تعلقات ابتداًء بہت اچھے رہے ۔

اگرچہ سیاست میں کوئی چیز حرف آخر نہیں ہوتی اور یہ بات تو اب ضرب المثل کی حیثیت اختیار کر چکی ہے کہ سیاست میں آج کا دوست مخالف اور کل کا مخالف بلکہ دشمن دوست ہوسکتا ہے آج کا روس اورپاکستان اس کی تازہ ترین مثال ہے ۔ اس لئے ایران اور پاکستان کے درمیان تعلقات بھی اس فارمولے سے مستشنیٰ کیسے ہو سکتے ہیں ۔ ان دو اہم پڑوسی ملکوں کے درمیان تعلقات کا یہ مختصر پس منظر اس لئے پیش کیا تاکہ اگلی بات کرنے میں آسانی ہو ۔ اب اس وقت حالات نے جو کروٹ لی ہے اس کے پیچھے بھی ایک پس منظر ہے ۔ انقلاب ایران کے بعد ایران نے دو محاذوں پر کام شروع کیا ایک یہ کہ پاکستان جیسے سنی اکثر یتی ممالک میں'' انقلاب دوست'' پیدا کئے جائیں اور دوسرا یہ کہ سارے اسلامی ملکوں میں اپنے ہم مسلک کمیونٹی کی ہر ممکن دامے درمے سخنے دور کی جائے ۔ اس اہم مہم کا نتیجہ عراق ، لبنان ، یمن اور شام میں مسلکی اختلاف نے خانہ جنگی کو ایسے انداز میں ہوا دی کہ عالمی طاقتوں کو ان میں کھیل کود نے کے کھلے مواقع فراہم ہوئے ۔ اب یہ کھیل ان ممالک میں ایک ایسی گھمبیر اور پیچیدہ صورت اختیار کر چکا ہے کہ پورے عالم اسلام کو اس معنیٰ میں لپیٹ میں لئے ہوئے ہے کہ ان مسائل کی وجہ سے اسلامی ملکوں کے درمیان اُخوت اور بھائی چارے اور دوستی کے تعلقات بری طرح متاثر ہو رہے ہیں ۔
گزشتہ دنوں امریکی صدر ٹرمپ کے دورہ سعودی عرب اور اسلامی ملکوں کی کانفرنس سے جس انداز میں مخاطب ہوئے ، اُس نے ایران اور پاکستان کے درمیان برادرانہ تعلقات میں ایسی تلخیاں گھول دیں کہ تاریخ میں پہلی دفعہ ایران کے وزیر دفاع اور چیف آف سٹاف وغیر ہ دھمکیاں دینے پر اُتر آئے ۔ پاکستان اور ایران جیسے دو اہم پڑوسی ملکوں کے درمیان تعلقات کا اس نہج پر کشیدہ رہنا دونوں کے لئے نقصان دہ ہونے کے علاوہ پوری امت مسلمہ کے لئے ٹھیک نہیں ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ عالمی طاقتوں کی بھر پور کوشش ہے کہ عالم اسلام کے وسیع خزانوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے کے لئے ان کے درمیان مسلکی اور نظریاتی اختلافات کی خلیج کو اتنا وسیع کیا جائے جو کبھی پاٹانہ جا سکے ۔ اور اس بات میں بھی شک نہیں کہ جہاں سعودی عرب نے ایران کو نیچا دکھانے یا دبائے رکھنے کے لئے اُ س امریکا کے ساتھ تاریخ کی سب سے بڑی اسلحہ ڈیل کی اور تحائف سے نوازا جس نے کل ہی 9/11کے متاثرین کو سعودی عرب کے خلاف مقدمات کر کے خون بہا کی ادائیگی کی سرپرستی کی تھی اور سات اسلامی ملکوں کے باشندوں پر امریکا آنے کی پابندی لگوائی ۔ اور آج بھی پورے یورپ کو یہی پٹی پڑھانے کے لئے کوشاں ہے ۔
صدر ٹرمپ کا سعودی عرب ، اسرائیل اور وٹیکین سٹی کے دورے بہت معنی خیز ہیں ۔ سعودی عرب سے پٹرو ڈالر کی کشید اور ایران سے خوف دلاکر ایران کے خلاف علاقائی حلیف (تھانیدار) کی حیثیت سے کھڑا کرنا (جیسا کہ کبھی رضا شاہ تھا ) عالم اسلام کو انتشار سے دوچار کرنے کا اہم منصوبہ ہے ۔ اس کے علاوہ اسرائیل کا ہر قیمت پر تحفظ ۔۔اور یہ کتنی بڑی بد قسمتی ہے کہ امریکا سے خرید ا گیا اربوں ڈالر کا اسلحہ مسلمان ممالک آپس میں ایک دوسرے کے خلاف استعمال کریں گے ۔ اس لحاظ سے ایران واحد ملک ہے جو اسرائیل مخالف عناصر کو تقویت دیتا ہے اس لئے اسرائیل کو صرف ایران سے خطرہ محسوس ہوتا ہے اس لحاظ سے ایران پر ایک انقلابی ملک کی حیثیت سے ایک بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔
اگر ایران یہ ذمہ داری پوری کر سکا تو عین ممکن ہے کہ تہران عالم اسلام کا جنیوا بن سکے ۔ وہ ذمہ داری یہ ہے کہ اپنی پہلی فرصت میں شیعی مسلک سے رو پر اُٹھ کر پاکستان کے ساتھ اسلامی اُخوت کی بنیاد پر ہاتھ ملا کر افغانستان کے حوالے سے موقف ایک کرتے ہوئے یہاں سے نیٹو افواج اور بھارتی ایجنسی ''را''کے انخلا ء کے لئے مل کر کام کریں ۔ اگر افغان مسئلہ حل ہو ا تو اس خطے میں امن آئیگا اور ایران پاکستان اور افغانستان مل کر ترقی کریں گے اور کوئی بیرونی قوت سعودی عرب اور دیگر کس ملک کو ان ممالک کے درمیان اختلافات خواہ وہ مسلکی ہوں یا سیاسی ، ناجائز فائدہ اُٹھا سکے گی ۔ میری شدید خواہش اور دعا ہے کہ ایران پاکستان اور افغانستان کے درمیان برادرانہ تعلقات قائم ہوں اور یہ تینوں ملک عالم اسلام کی یکجہتی اور دفاع کے لئے اہم کردار ادا کریں اور عالم اسلام کو غیروں(عالمی طاقتوں ) کی ریشہ دوانیوں سے محفوظ بناسکیں ۔

متعلقہ خبریں