کیوں کسی کا گلہ کرے کوئی

کیوں کسی کا گلہ کرے کوئی

کراچی سے اسلام آباد تک تو خیر خیریت رہی اور چینلز پر فروٹ کی قیمتوں میں کمی کی خبریں بھی آتی رہیں' ٹکر بھی چلتے رہے۔ فروٹ فروشوں کے ٹھیلوں پر ہو کے عالم کی اطلاعات بھی نشر ہوتی رہیں اور عوام کے انٹرویوز بھی چلتے رہے جن میں فروٹ کی قیمتوں میں کمی کے بارے میں بتایا جاتا رہا مگر ادھر پشاور کو نہ جانے کس کی نظر لگ گئی کہ خود انتظامیہ نے فروٹ کی قیمتوں میں سرکاری طور پر اضافہ کردیا اور یوں اس مہم کو بڑی حد تک ناکامی سے دو چار کردیا۔ اب آج کے اخبارات میں اگلے ہفتے سے گوشت کے خلاف اسی طرح کی مہم چلانے کی خبریں چھپی ہیں۔ اس لئے اس پر بھلا کیاکہا جاسکتا ہے کہ انتظامیہ کہیں گوشت کی قیمتیں بڑھانے کا فیصلہ نہ کردے۔ اگرچہ سرکاری طور پر مقررہ نرخوں سے اب بھی قصائی زیادہ وصول کرتے ہیں مگر مہنگے گوشت کے خلاف مہم کے بعد کچھ بھی ہو یا تو قیمتوں می مزید اضافہ کردیا جائے گا یا پھر خدشہ ہے کہ کہیں خدانخواستہ کسی '' نجس'' جانور کا گوشت ہی لوگوں کو کھانے پر مجبور نہ کردیاجائے کیونکہ ان جانوروں کی کھالوں کی تو ویسے بھی چین میں بڑی مانگ ہے۔ خیر جانے دیجئے جب گوشت کے خلاف مہم کا آغاز ہوگا تو دیکھا جائے گا فی الحال تو فروٹ والی مہم کی بات کرتے ہیں۔ جب سوشل میڈیا اس حوالے سے متحرک ہوئی تو ساتھ ہی بعض لوگوں نے ریڑھی والوں کی حمایت میں ٹویٹس اور فیس بک پر پوسٹیں شیئر کرنا شروع کردی تھیں جو ایک لحاظ سے زیادہ غلط بھی نہیں تھیں اور حقیقت بھی یہی ہے کہ اصل منافع خور تو وہ بڑے تاجر اور آڑھتی ہیں جو یا تو منڈیوں میں بیٹھتے ہیں یا جنہوں نے بڑی بڑی دکانیں لگا رکھی ہیں اور فروٹ کی مہنگائی کی ذمہ داری بھی زیادہ تر انہی کے سر ہے جبکہ ریڑھیوں اور ٹھیلے والے منڈی سے مال خرید کر عام لوگوں پر فروخت کرتے ہیں اور اگر آپ موزانہ کریں تو ان بڑی دکانوں پر مختلف فروٹ ٹھیلوں والے کے مقابلے میں زیادہ مہنگے بکتے ہیں۔ تاہم ان ریڑھی اور ٹھیلے والوں کو آپ اتنا بھی معصوم نہ سمجھیں کہ کم از کم پشاور میں یہ بھی ایک مافیا کی طرح ہیں اور وہ یوں کہ ان ٹھیلے والوں نے جو فروٹ سجا رکھا ہوتا ہے اس کی ایک تو کوالٹی کمزور ہوتی ہے دوسرایہ کہ ان کا طریق واردات یہ ہوتا ہے کہ اپنے آگے یہ لوگ داغدار فروٹ داغوں کو چھپا کر ڈھیر کئے ہوتے ہیں اور اچھا مال سامنے اس طرح سجا کر رکھتے ہیں کہ صورتحال ہاتھی کے دانت والی ہوتی ہے۔ گاہک اگر دو تین دانے اوپر سے اٹھا کر شاپنگ بیگ میں ڈالتا ہے تو یہ اپنے آگے پڑا ہوا گندہ اور داغی مال کہیں زیادہ تعداد یا مقدار میں ڈال دیتے ہیں اور گاہک کو تب ہوش آتا ہے جب وہ گھر آکر شاپنگ بیگ سے مال نکال کر دیکھتا ہے۔ تب اسے پتہ چلتا ہے کہ اس کے تھیلے میں نصف سے زیادہ فروٹ تو ناقابل خوراک ہے۔ وہ اس کو کاٹ کاٹ کر داغدار حصوں کو الگ کر بھی لے تو ٹھیلے والے نے پوری قیمت میں آدھے سے بھی کم مال اس کے حوالے کرکے اس کا استحصال کیا ہوتا ہے۔ یوںاس مافیا کے ہاتھوں عوام بری طرح لٹتے رہتے ہیں مگر انہیں ہادی بر حق صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وہ بات یاد نہیں رہتی کہ تجارت میں دھوکہ دینے والے ہم میں سے نہیں ہیں بلکہ الٹا اس دھوے بازی پر یہ لوگ فخر کرتے ہیں اور اپنی جیبیں بھرتے رہتے ہیں۔ گویا بقول ڈاکٹر ا سحاق وردگ

مشکل ہے تجھے آگ کے دریا سے بچا لوں
اے شہر پشاور میں تجھے ہار گیا ہوں
جو لوگ ٹھیلے والوں کی وکالت کرتے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں کہ ان کے گھروں میں تین دن کی مہم کے دوران جو فاقے اترے اس کے بارے میں سوچ لینا چاہئے تھا۔ وہ اگر اس مافیا کی ان چالاکیوں اور بد عنوانیوں پر بھی نظر رکھتے تو شاید انہیں اپنی سوچ سے رجوع کرنا پڑتا مگر صرف جذباتیت کی رو میں بہہ کر عوام کااستحصال کرنے والوں کی طرفداری کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ بہر حال اب تو نہ صرف وہ تین دن گزر بھی چکے جس کے مثبت اثرات کراچی سے اسلام آباد تک ضرور مرتب ہوئے تاہم پشاور تک یہ نیک جذبات خود پشاور کی انتظامیہ کی بدولت نہ پہنچ سکے اور الٹا یہاں سرکاری سطح پر فروٹ کی قیمتوں میں اضافہ کیاگیا۔ یعنی کرلو جو کرنا ہے۔
سید محمد خان رند نے اسی لئے تو کہا تھا
آ عندلیب مل کے کریں آہ و زاریاں
تو ہائے گل پکار میں چلائوں ہائے دل
جب پشاور کی انتظامیہ نے فروٹ کے مسئلے پر ولن کا کردار ادا کیا تو اس کے بعد ان سے کیاتوقع کی جاسکتی ہے کہ یہ شہرکے لوگوں کو دودھ کے نام پر زہر یلے کیمیکل سے بنے ہوئے مصنوعی دودھ سے محفوظ رکھنے میں کوئی کردار اداکر سکیں گے کیونکہ اخبارات کے صفحات چیخ چیخ کر اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ دعوئوں کے باوجود رمضان میں بھی کیمیکل ملے دودھ کی فروخت دھڑلے سے جاری ہے جبکہ عوام حیران و پریشان ہے کہ ان مافیائوں سے کس طرح چھٹکارا پایا جائے۔
اگرچہ ناقص دودھ کی جانچ پڑتال کے لئے موبائل ٹیسٹ لیبارٹریاں بھی کام کر رہی ہیں مگر معاف کیجئے گا ان لیبارٹریوں کاعملہ تو اسی معاشرے سے تعلق رکھتا ہے ناں' جو گدھے کو گھوڑا بنانے میں ماہر ہے۔ اس لئے بقول مرزا غالب
جب توقع ہی اٹھ گئی غالب
کیوں کسی کا گلہ کرے کوئی

متعلقہ خبریں