انڈیا کے لیے ویزا کوٹا بڑھانے کی ضرورت نہیں: برطانوی وزیر اعظم

انڈیا کے لیے ویزا کوٹا بڑھانے کی ضرورت نہیں: برطانوی وزیر اعظم

برطانوی وزیراعظم ٹریزامے نے انڈیا کے ویزے میں نرمی دینے کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ میں ویزے کا 'اچھا نظام' پہلے سے ہی موجود ہے۔

برطانوی وزیراعظم انڈیا کے دورے پر دہلی میں موجود ہیں۔ ان کے دورے کا مقصد تجارتی معاہدے کرنا ہے۔

یورپی یونین سے نکلنے کے فیصلے کے بعد یہ ان کا کسی بھی ملک کا پہلا تجارتی دورہ ہے۔

ٹریزا مے پہلے ہی یہ کہہ چکی ہیں کہ برطانیہ یورپی یونین سے باہر موجود ممالک میں سے 'روشن اور بہترین' کو متوجہ کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔

اپنے بیان میں انھوں نے کہا کہ انڈیا کی جانب سے موصول ہونے والی دس میں سے نو ویزا درخواستوں کو پہلے سے ہی منظور کیا جاتا رہا ہے۔

تاہم مسز ٹریزا مے نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ برطانیہ دولت مند انڈین تاجروں کی برطانیہ آمد کو آسان بنائے گا۔

اب ہزاروں انڈین ورک ویزا کے ذریعے رجسٹرڈ ٹریولرز سکیم کا حصہ بن سکیں گے جس کا مطلب یہ ہے کہ انھیں برطانیہ کی سرحدوں کے اندر تیزی سے سفر کرنے کی سہولت حاصل ہوگی۔

اس سے قبل کوبرا بیئر کے بانی لارڈ بلیموریا نے کہا تھا کہ برطانیہ میں رہائش سے متعلق پابندیوں کے باعث گذشتہ پانچ سال سے برطانیہ کی یونیورسٹیوں میں انڈین طالبعلموں کی تعداد آدھی رہ گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کی نقل وحرکت کا کسی تجارتی مذاکرات میں کلیدی حصہ ہوگا۔

برطانیہ کے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق جون سنہ 2010 سے گذشتہ برس تک انڈین شہریوں کو دیے جانے والے ویزوں میں 68 ہزار 238 سے 11 ہزار 864 تک کمی آئی۔

کرن بلیموریا کا کہنا ہے کہ برطانیہ آنے والے طلبہ کو برطانیہ میں مجموعی طور پر آنے والے لوگوں کے اعداد و شمار سے علیحدہ کرنا اس کا حل ہے۔ اور ٹریزا مے نے عہد کیا ہے کہ تارکین وطن کی برطانیہ آمد کو ایک لاکھ سالانہ تک محدود کر دیا جائے گا جو کہ جون 2015 تک تین لاکھ 36 ہزار تھی۔

انھوں نے بی بی سی ریڈیو فور کے ایک پروگرام میں کہا: 'اس دورے کے درمیان ٹریزا مے اور حکومت کو جلد ہی یہ اعلان کرنا ہوگا کہ ہم بین الاقوامی طلبہ کو اب تارکین وطن کی فہرست میں شامل نہیں کریں گے۔'

انھوں نے مزید کہا کہ 'سچائی تو یہ ہے کہ جب ٹریزا مے وزیر داخلہ تھیں تو انھوں نے امیگریشن سے متعلق بہت ہی منفی پیغامات دیے تھے۔ اور جب وہ انڈیا میں ہوں گی تو انھیں خلیج کو پار کرنے کے لیے پل بنانے کا بہت سا کام کرنا ہوگا۔'

ٹریزا مے کے ساتھ اس دورے پر ٹریڈ سیکریٹری لیام فوکس اور وزیر تجارت گریگ ہینڈز کے علاوہ 33 برطانوی کمپنی کے نمائندے بھی ہوں گے۔

امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس دورے پر برطانوی کمپنی پینڈرول گروپ اور انڈین کمپنی راہی گروپ کے درمیان ریلویز کے پروجیکٹس میں 12 لاکھ پاؤنڈ کا سمجھوتہ ہوگا۔

برطانوی کمپنی لائکا ہیلتھ انڈی کے شہر چینئی میں ڈائگنوسٹک اور ایمیجنگ کے شعبے میں ڈیڑھ کرور پاؤنڈ کا معاہدہ کرے گی۔

جبکہ کوچی میں برطانیہ 35 کروڑ پاؤنڈ کی سرمایہ کاری اعلی اور جدید ترین الکٹرانکس کی مصنوعات بنانے میں کرے گا۔

متعلقہ خبریں