قومی سلامتی کے منافی مواد کی اشاعت : تحقیقاتی کمیٹی کا قیام

قومی سلامتی کے منافی مواد کی اشاعت : تحقیقاتی کمیٹی کا قیام

روزنامہ ''ڈان'' کی چھ اکتو بر کی اشاعت میں شائع ہونے والے قومی سلامتی کے منافی مواد کے شائع ہونے کے ایک ماہ بعد 6نومبر کو یہ خبر شائع ہوئی ہے کہ وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے اس مواد کے شائع ہونے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی کے ارکان تجویز کرکے وزیر اعظم کو ارسال کر دیے ہیں اور امید ظاہر کی ہے کہ 7نومبر کو یہ کمیٹی تشکیل پا جائے گی۔ اس سے پہلے جب چودھری صاحب نے اس سلسلہ میں سینیٹر پرویز رشید سے وزارت اطلاعات کا قلم دان واپس لیے جانے کے فیصلے کا اعلان کیا تھا تو کہا تھا کہ اس معاملے کی تحقیقات حساس اداروں آئی ایس آئی، ایم آئی اور آئی بی کے سینئر افسروں کی کمیٹی کرے گی۔ اس اعلان کے ایک ہفتہ بعد وزیر داخلہ نے بتایا کہ تحقیقات ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں سینئر افسروں پر مشتمل کمیٹی کرے گی۔ تحقیقاتی کمیٹی کی تشکیل کے حوالے سے فیصلے کی اس تبدیلی پر وزیر داخلہ نے روشنی نہیں ڈالی۔ وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ انکوائری کمیٹی ایسے سینئر افسروں پر مشتمل ہو گی جن پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے۔ زیر نظر معاملے کی حساسیت کا تقاضا یہی ہے کہ انکوائری کرنے والے ہر قسم کے شکوک و شبہات سے بالاتر ہوں اس لیے وزیر داخلہ کا اعلان قابلِ تحسین ہے۔ جنہوں نے اس معاملے کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بچوں کا کھیل نہیں بلکہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے۔ انکوائری کمیٹی کے قیام کا اعلان ہو گا تو اس سے معلوم ہوگا کہ کمیٹی کے سامنے سوال کیا ہوںگے۔ کمیٹی کو کس کس کے طلب کرنے کا اختیار ہوگا اور کس کس کی معاونت حاصل کرنے کا اختیار ہوگا۔ وزیر داخلہ نے اس سے پہلے جو اعلان کیا تھا کہ حساس اداروں کے سینئر افسروں پر مشتمل انکوائری کمیٹی بنائی جائے گی۔ اس میں بھی کوئی ایسی بات نہ تھی کہ اس مجوزہ کمیٹی پر اعتماد نہ کیا جاتا تاہم اب جو ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی بنائی جا رہی ہے اگریہ کمیٹی حساس اداروں کی بھی معاونت حاصل کر سکے تو اس کی رپورٹ اور بھی زیادہ وقیع ہو گی اور ذہنوں میں یہ سوال نہیں رہ جائے گا کہ حساس اداروںکے افسران پر مشتمل کمیٹی کا اعلان کرنے کے بعد ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں نئی کمیٹی بنانے کا اعلان کیوں کیا گیا۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی کی رپورٹ کو ایک قانونی حیثیت حاصل ہوگی۔ تاہم وزیر داخلہ کو چاہیے تھا کہ وہ اس بارے میں وضاحت کر دیتے۔ روزنامہ ڈان میں قومی سلامتی کے منافی مواد کو شائع ہوئے ایک مہینہ گزر گیا ہے۔ اب تک میڈیا میں اسے لیکس (Leaks)کہا جارہا ہے۔ انکوائری کمیٹی کے سامنے اہم ترین سوال ہی یہ ہو گا کہ آیا اس مواد کو لیک (Leak)یعنی افشا قراردیا جائے یا یہ فیڈ (Feed)کی ہوئی سٹوری یعنی فراہم کیا ہوا مواد تھا۔ خود روز نامہ ڈان کی ''سٹوری'' میں کہا گیا ہے کہ جب خبر نگار نے قومی سلامتی کی کمیٹی میں شریک اعلیٰ ترین ذمہ دار شخصیات سے اس کی توثیق چاہی تو انہوں نے اس کی تردید کی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ خبر نگار کا ذریعہ کون اور کتنا معتبر تھا جس کی بنا پر خبرنگار نے ان اعلیٰ شخصیات کی تردید کو بیان بھی کردیا اورمواد شائع کرکے اسے جھٹلا بھی دیا ہے۔ فرض کیجئے کہا جاتا ہے کہ اس کا ذریعہ کوئی ادنیٰ ملازم تھا تو جس قدر تفصیل سے خبر نگار مکالمہ بیان کر رہا ہے یہ حاصل کرنا کسی ادنیٰ ملازم کے بس کی بات نہیں۔ اس لیے یا تو اس نے خود اس مواد کو ''تعمیر'' کیا ہے یا کسی نے بنی بنائی ''سٹوری'' اسے فراہم کی ہے ۔قومی سلامتی کے بارے میں جس اعلیٰ سطحی اجلاس کا ذکر کیا گیا ہے وہ 3اکتوبر کو منعقد ہوا تھا۔ ڈان کی سٹوری 6اکتوبرکو شائع ہوئی۔اس سے ظاہر ہے کہ خبر نگار نے تین دن اس مواد کی توثیق پر صرف کیے اور 5اکتوبر کو سٹوری فائل کی جو 6اکتوبر کو شائع ہوئی۔ یا اگر اس نے 3اکتوبر کو ہی سٹوری فائل کر دی تھی تو ڈان کے ایڈیٹرز تین دن تک اس سے اس مواد کی توثیق پر اصرار کرتے رہے۔ اجلاس میں شریک اعلیٰ شخصیات کی تردید کے باوجود خبرنگار اور ڈان کے ایڈیٹوریل سٹاف کا اس نتیجہ پر پہنچنا کہ اسے شائع کر دیا جائے خبرنگار کے ذریعے نہایت بااثر ہونے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ تاہم اس بحث کا مقصد یہ نشاندہی کرنا تھا کہ میڈیا میں اس مواد کو لیکس کہا جارہا ہے ۔ گزشتہ روز (وزیر داخلہ کے حوالے سے اس معاملے پر روزنامہ ڈان میں جو خبر شائع ہوئی ہے اس میں بھی اسے لیکس کہا گیا ) یہ کم از کم قبل از وقت ہے۔ اس بارے میں ابھی تحقیقات ہونی ہیں کہ یہ افشا ہے یا ''عطا'' ہے۔ وزیر داخلہ کو خود اس حوالے سے بات کرنی چاہیے۔ چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے جو گزشتہ روز کہا تھا کہ اگر سینیٹر پرویز رشید کے خلاف کوئی انکوائری ہو رہی ہے تو وہ سینیٹ کی کمیٹی میں ہونی چاہیے اس کا جواب وزیر داخلہ نے دے دیا ہے کہ انکوائری سینیٹر پرویز رشید کے خلاف نہیں ہو رہی ۔ البتہ چیئرمین سینیٹ نے اپنے استدلال کے حق میں جو نظیریں پیش کی ہیں جن میں آرمی ایکٹ اور ججوں کے احتساب کے بارے میں آئین کی شق کا ذکر کیا ہے۔ ان ہی حوالوں کے مطابق فوج کے اہل کاروں اور ججوں کے احتساب کے لیے تو قوانین موجود ہیں جبکہ دیگر اداروں کے ارکان کے احتساب کے لیے ایسے قوانین موجود نہیں ہیں جن کے تحت یہ لازم ہو کہ اداروں کے ارکان کے بارے میں انکوائری ادارے ہی کر سکتے ہیں۔ دوسری بات یہ اہم ہے کہ وزیر داخلہ جب کہتے ہیں کہ معاملہ قومی سلامتی کا ہے بچوں کا کھیل نہیں اور اس کے لیے انہیں ساری قوم کی تائید حاصل ہے تو اس قومی اہمیت کے معاملے سے پردہ اٹھنا جتنا جلدی ممکن ہو سکے اتنا ہی بہتر ہے ۔ امید کی جانی چاہیے کہ کمیٹی کے قیام کے اعلان میں یہ بھی سامنے آ جائے گا کہ کمیٹی کتنے دن میں رپورٹ پیش کرے گی اور یہ رپورٹ کس کو پیش کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں