غیر قانونی افغان باشندوں کا شمار

غیر قانونی افغان باشندوں کا شمار

خیبر پختونخوا کے شہریوں کو یہ شکایت ایک عرصے سے ہے کہ غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندے صوبے کی معیشت پر قابض ہوتے جا رہے ہیں اور خیبرپختونخوا کے اصلی باشندوں کا استحقاق مجروح ہو رہا ہے۔ پہلے یہ اپنی شناخت افغان مہاجرین کے طور پر ظاہر کرتے تھے اب انہوں نے غیر قانونی طور پر نادرا کے اہل کاروں کے ساتھ ملی بھگت کے ذریعے پاکستانی شناختی کارڈ بھی بنوا لیے ہیں۔ اسی شکایت کے پیش نظر صوبے کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے کوائف حاصل کرنے اور انہوں نے صوبے میں جو کاروبار قائم کیے ہیں ان کے اثاثوں کے اعداد و شمار جمع کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ان کی ان کے وطن واپسی کے انتظام میں معاونت فراہم کی جائے۔ قانون نافذ کرنے والوں کے اس اقدام کی اصابت اور افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی باشندوں کو اپنے وطن میں واپس بھیجنے کے لیے اسی ماہ گرینڈ آپریشن کی تجویز پیش کی ہے جو سنا ہے کہ حکومت کے زیر غور ہے۔ لیکن ان غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی تعداد اتنی زیادہ بتائی جاتی ہے کہ اگر کوئی آپریشن کیا جاتا ہے تو وفاقی حکومت اور افغان مہاجرین کے بارے میں اقوام متحدہ کا کمیشن اور کئی ممالک کے انسانی ہمدردی کے حوالے سے اس معاملہ میں در آنے کے امکانات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ اس حوالے سے سب سے زیادہ مزاحمت کی توقع افغانستان کی حکومت کی طرف سے ہو سکتی ہے۔ جہاں تک ان غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے کوائف اور اعداد و شمار جمع کرنے کی بات ہے یہ اقدام مستحسن ہے۔ لیکن گرینڈ آپریشن کی راہ میں جیسے کہ سطور بالا میں کہا گیا ہے کہ بہت سی مشکلات درپیش آنے کی توقع ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ اس سلسلہ میں جب حکومت افغانستان سے تعاون حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی یا بین الاقوامی کمیونٹی کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کی جائے گی تو ان کی واپسی کا قابلِ قبول راستہ نکالنے میں یہ اعداد وشمار معاون ہوں گے۔ اس میں ایک قباحت یہ بھی ہے کہ ان لوگوں نے غیر قانونی طور پر نادرا سے پاکستانی شناختی کارڈ بنوائے ہوئے ہیں۔ اس لیے پہلے مرحلے کے طور پر یہ ضروری ہوگا کہ ان کے شناختی کارڈز کی تحقیقات ہوں اور نادرا کے ان اہل کاروں کے خلاف کارروائی ہو جنہوں نے انہیں غیر قانونی طور پر شناختی کارڈ جاری کیے ہیں۔ اس لیے یہ ممکن نظر نہیں آتا کہ نومبر میں ہی ان کی واپسی کے لیے گرینڈ آپریشن شروع ہو سکے۔
شربت گلہ کی ملک بدری کا معاملہ
اگرچہ نیشنل جیوگرافک میں شائع ہونے کی بنا پر بین الاقوامی شہرت کی حامل افغان خاتون شربت گلہ کے خلاف جعلی شناختی کارڈ بنوانے کے الزام میں اس کی ملک بدری کا عدالتی فیصلہ آ چکا ہے تاہم تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے اس معاملے کو انسانی ہمدردی اور افغانستان کے ساتھ تعلقات کی مصلحتوں کے حوالے سے سنبھالنے پر زور دیا ہے۔ تحریک انصاف کے ترجمان مشتاق غنی نے کہا ہے کہ اگرچہ افغان مہاجرین کا معاملہ وفاقی حکومت کے دائرہ کار میں آتا ہے تاہم صوبائی حکومت اس سلسلہ میں وفاقی حکومت سے رابطہ کرے گی کہ ملک بدری اور جرمانے کے معاملے کو سفارتی تقاضوں کے مطابق طے کیا جائے۔ صوبے میں ایک شربت گلہ ہی پاکستان کے جعلی شناختی کارڈ کی بنیاد پر غیر قانونی طور پر مقیم نہیں ہے ہزاروں افراد ایسے ہیں جو حقیقت میں افغان باشندے ہیں لیکن جعلی شناختی کارڈوں کی بنا پر صوبے میں نہ صرف مقیم ہیں بلکہ یہاں انہوں نے کاروبار بھی قائم کیے ہوئے ہیں ۔ شربت گلہ کی ملک بدری کا فیصلہ عدالتی فیصلہ سہی لیکن محض اس کی ملک بدری سے پاکستان کے بارے میں کوئی اچھا تاثر قائم نہیں ہوگا۔ اس لیے شربت گلہ کا معاملہ دیگر ہزاروں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے ساتھ ملا کر دیکھا جانا چاہیے اور پھر شربت گلہ بیمار بتائی جاتی ہے۔ انسانی ہمدردی کے تقاضوں کے مطابق اس کا علاج بھی پاکستان ہی میںہونا چاہیے۔

متعلقہ خبریں