آئین ہی سب سے بڑا امپائر ہے

آئین ہی سب سے بڑا امپائر ہے

پاکستان کے متحارب اور محاذآرا فریقوں کا پانامہ تنازعے کے حل کے لئے عدلیہ کو امپائر تسلیم کرنا ملک کے جڑ پکڑتے جمہوری اور سیاسی نظام کے لئے تازہ ہوا کے خوش گوار جھونکے سے کم نہیں ۔فی امانہ قوموں اور ریاستوں کے نظام چلانے کے لئے جمہوریت سب سے مناسب اور اچھا نظام ہوتا ہے ۔پاکستان میں بار بار کے مارشل لاء لگنے کے تجربات کے بعد بھی دیانت دارانہ سوچ یہی ہے کہ جمہوریت بری ہو یا بھلی عوام کے لئے بہتر ہوتی ہے مگر جمہوریت ہمیشہ کے لئے بری نہیں رہ سکتی ۔جمہوریت کا بنیادی فلسفہ اور روح ''حکومت عوام کی ،عوام کے لئے عوام کے ذریعے'' ہے ۔ وہی جمہوریت پھلتی پھولتی ہے جوعوام کے لئے ڈلیور کرتی ہے۔جس میں قدم قدم پر عوام کی رائے اور سوچ منعکس ہوتی رہتی ہے ۔جس میں عوام کو ہر لمحہ اور لحظہ اپنی شرکت اور شراکت کا احساس رہتا ہے۔ان خصائل اور اوصاف سے عاری کسی بھی نظام کو جو بھی نام دیا جائے جمہوری نہیں کہلا سکتا۔جمہوریت کا پہلا چیک اینڈ بیلنس عوام خود ہیں جو ووٹ دے کر کسی حکومت کو بناتے ہیں۔اس کے بعد حکومت کی ماں پارلیمنٹ ہوتی ہے جو قانون بناتی بھی ہے اور حکومت کو قانون پر عمل درآمد پر آمادہ وتیار بھی رکھتی ہے۔اس کے بعد عدلیہ بھی قانون کی تشریح اور کسی آئینی وقانونی تنازعے میں منصف اور ثالث کا کردار ادا کرتی ہے ۔آئین کے ڈھانچے تلے یہی ادارے امپائر ہوتے ہیں۔اس سے باہر کسی امپائر کی تلاش نئے مسائل کو جنم دیتی ہے ۔ پاکستان کی بدقسمتی رہی ہے کہ اس کی جمہوریت تھوڑی دور چل کر ہی طاقت کی کشمکش کا شکار ہو جاتی ہے اور اس کی آمریت عالمی دبائو پر اپنی کوکھ سے جمہوریت کو جنم دیتی ہے ۔ یہ آنکھ مچولی انہتر برس سے جاری ہے ۔جمہوریت تھوڑی دور چل پڑے تو ملٹری اور سویلین کے درمیان بالادستی کی جنگ شروع ہو جاتی ہے ۔عالمی اسٹیبلشمنٹ کی ہمیشہ سے خواہش رہی ہے کہ پاکستان میں فوج کو فیصلہ سازی سے اس حد تک الگ کر دیا جائے کہ وہ خطے کی جیوپولیٹکل صورت حال میں کسی فیصلے پر اثرا انداز ہو نے کی صلاحیت سے محروم رہے ۔مثلاََ یہ کہ چین سے سے تعلقات ،ایٹمی پروگرام ،پاک بھارت تعلقات اور برصغیر کی جغرافیائی تشکیل نو۔پاکستان کی فوج نے ان امور پر خود اپنے اور سیاسی حکومتوں کے لئے ایک سرخ لائن کھینچ رکھی ہے اور یہ لائن ہرملک میں اور معاشرے میں کھنچی ہوتی ہے ۔اس کا تعلق ملک کی سلامتی اور بقا اور دفاعی امور سے ہوتا ہے ۔میمو گیٹ بھی پاکستان میں فوجی قیادت میں تبدیلی اور فوج پر گرفت قائم کرنے کا منصوبہ تھا جسے سویلین نظام سے تائید فراہم ہو رہی تھی ۔ڈان گیٹ میں بھی کچھ ایسی ہی خواہش جھلکتی ہے ۔میمو گیٹ کے بعد پیپلزپارٹی کی حکومت محض گھسٹ گھسٹ کر دن پوری کرتی رہی اور اب مسلم لیگ ن کی حکومت بھی کچھ ایسے ہی انجام سے دوچار ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے۔دلچسپ بات یہ سرل المیڈا بھی جناح انٹرنیشنل سے سیدھا جارج واشنگٹن ائر پورٹ پر جا اترے جہاں میمو گیٹ کے مرکزی کردار حسین حقانی پہلے سے موجود ہیں ۔اب وہ دونوں ''آ عندلیب مل کے کریں آہ وزاریاں '' کی تصویر بنے رہیں گے ۔سرل المیڈا کو استعمال کرنے والے انہیںچند ماہ کسی یورپی ملک میں ٹھہرا کر امریکہ روانہ کرتے تو شاید کچھ حجاب کچھ بھرم قائم رہتا مگر اب پاکستان اور امریکہ کے تعلقات جس نہج پر پہنچ گئے وہاں حجابات اور رکھ رکھائو بے معنی سا ہوکر رہ گیا ہے۔ پاکستان میں سیاسی حکومتوں کو ڈس کریڈٹ اور ناکام کرنے میں عالمی اسٹیبلشمنٹ کا اہم حصہ ہوتا ہے ۔محمد خان جو نیجو اس وقت جنرل ضیاء سے لڑ پڑے جب امریکیوں نے افغان جنگ کا ملبہ سمیٹنے کے دوران انہیں ''بہادر '' بننے کی ہلہ شیری دی ۔جنیوا معاہدے میں امریکہ انہیں اپنی طرف کھینچتا رہا اور جنرل ضیا ء الحق اپنی طرف ۔اس کھینچا تانی میں جونیجو حکومت کا بازوہی نہیں نکلا بلکہ وہ خودگھائل بھی ہو گئی ۔بعد میں میاں نوازشریف اور بے نظیر بھٹو کی حکومتیں امریکیوں کی ہلہ شیری کے باعث فوج سے ٹکراتی رہیں ۔بے نظیر بھٹو کے پہلے دور میں امریکہ نے انہیں ایٹمی پروگرام رول بیک یا کم ازکم کیپ کرانے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی ۔بھارت کے ساتھ تعلقات ٹھیک کرانے کے لئے ترغیبات دیں اور آئی ایس آئی پر کنٹرول حاصل کرنے کے لئے ایک ریٹائرڈ فوجی کو سربراہ بنایا گیاجس کے نتیجے میں سول ملٹری کشمکش بڑھ گئی اور وہی نتیجہ نکلا جو طاقت کے کھیل کا ہوتاہے ۔پرویز مشرف جیسے حکمران کے ڈس کریڈٹ ہونے کا عمل اس وقت شروع ہوا جب صدر بش نے چھٹیوں کے باوجود انہیں شنگریلا کی جادونگری میں بلایا۔دونوں نے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر مشترکہ پریس کانفرنس کی ۔تعلقات کے عہد وپیماں کئے ۔یہ امریکی بارگاہ میں ان کی مقبولیت اور قبولیت کا واضح ثبوت تھا مگر یہیں سے اپنی زمین ان کے قدموں کے نیچے سے سرکنا شروع ہو گئی ۔میمو گیٹ کا مرکزی کردا رامریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی تھے اور اس کے پیچھے امریکہ کا ایک مہم جو حکومتی ٹولہ تھا ۔اس سکینڈل کے بعد پیپلزپارٹی کی حکومت ہوا میں معلق ہوگئی اور اب میاں نوازشریف کی حکومت بھی کچھ ایسی ہی صورت حال سے دوچار ہوتی نظر آرہی ہے ۔فوج کے لئے بھی اپنی حدود سے باہر نکل کر آئین کی بساط اُلٹنا پسندیدہ عمل نہیں ہوتا ۔فوج جب بھی آئین اور جمہوریت کی بساط لپیٹتی ہے تو یہ بطور ادارہ ہوتا ہے۔فوج سیاسی حکومت کی غلطیوں کو مداخلت کا جواز بناتی اور بتاتی ہے۔ایسے میں کسی آئینی امپائر کا ہونا ضروری ہوتا ہے ماضی میں دفعہ58/ 2Bکو چیک اینڈ بیلنس کا کام دیتی تھی مگر اس شق کے خاتمے کے بعد آئینی امپائر کا موجود ہونا ضروری ہوگیا ہے۔پارلیمنٹ بوجوہ امپائر کا کردار ادا نہ کرسکے تو پھر عدلیہ ہی یہ کردار ادا کرسکتی۔عدلیہ نے پانامہ لیکس کے تنازعے پر رٹ پٹیشنز کی سماعت کا آغاز کرکے امپائر کا کردار ادا کرنا شروع کیا ہے ۔یہ پاکستان میں جمہوریت کی مضبوطی اور استحکام کی جانب ایک لمبی جست ہے۔

متعلقہ خبریں