کیسا یہ شور ہے پس دیوار دیکھنا

کیسا یہ شور ہے پس دیوار دیکھنا

سوال میں نے ہی اٹھایا تھا کہ کیا خواہشات پر مبنی سوچ کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے مواقع بہم پہنچانا ضروری نہیں ہے؟ جماعت اسلامی کے صوبائی امیر مشتاق احمد خان نے گزشتہ دنوں کالم نگاروں کو ایک عشائیے پر بلا کر جہاں چند روز پہلے اضاخیل پارک میں منعقدہ جماعت اسلامی کے دو روزہ اجتماع کے بارے میں نہ صرف زبانی طور پر بریفنگ دی بلکہ اس حوالے سے ایک مختصر دورانئے کی ڈاکومنٹری بھی پیش کی گئی جس سے جماعت کے نظم و ضبط کا بھرپور اندازہ ہو رہا تھا۔ ویسے بھی جماعت اسلامی کے بارے میں یہ بات تو طے ہے کہ ملک کی نہایت ہی منظم جماعت ہے اور ہر کام میں ایک خاص سلیقہ روا رکھتی ہے۔ اس لئے محولہ اجتماع کے حوالے سے دکھائی جانے والی ڈاکومنٹری میں قدم قدم پر اس سلیقے کی جھلکیاں صاف نظر آرہی تھیں۔ خصوصاً اتنی بڑی تعداد میں خواتین کو جس عزت و احترام کے ساتھ سہولیات بہم پہنچائی گئیں وہ ان جماعتوں کے لئے قابل تقلید ہے جن کے ہاں جلسوں کے دوران خواتین کے ساتھ بد تمیزی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ اس موقع پر جو تفصیل فراہم کی گئی اس کے مطابق محولہ اجتماع کے لئے فنڈ ریزنگ مقامی سطح پر کی گئی اور اجتماع پر لگ بھگ 5کروڑ سے بھی کم اخراجات کئے گئے جو اس قسم کے اجتماعات کے لئے بہت ہی کم رقم ہے۔ اس موقع پر جماعت کے امیر سراج الحق نے اعلان کیا کہ اگر جماعت بر سر اقتدار آگئی تو اس کی حکومت میں جو شخص اپنی بیٹی کو نہیں پڑھائے گا اسے جیل بھیجا جائے گا یعنی بقول علامہ اقبال

لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری
زندگی ہو مری پروانے کی صورت یا رب
علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یا رب
بات ہو رہی تھی اس Wishsful thinking کی جس کی جانب میں نے توجہ دلائی تھی اور اس کی وجہ تسمیہ جماعت کے صوبائی امیر مشتاق احمد خان کے وہ خیالات تھے جو وہ صوبے میں پانی کے ذخائر سے بھرپور استفادہ کرنے' صوبے میں سی پیک کی طرز پر KPEC منصوبہ شروع کرنے کی بات کر رہے تھے۔ میں نے ان سے سوال کیا کہ جو آپ کی جماعت سوچ رہی ہے کیا یہ صرف ایک خواہش سے زیادہ کی حیثیت رکھتا ہے؟ کیونکہ جب تک آئین میں ترمیم کرکے صوبوں کو مکمل خود مختاری دینے اور اپنے وسائل سے استفادہ کرتے ہوئے منصوبوں پر عمل درآمد کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی تب تک ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔ میں نے گزارش کی کہ اب تک تو صوبوں کو پچاس میگا واٹ سے زیادہ منصوبوں کی اجازت ہی نہیں دی جاتی تھی۔ اب 18ویں ترمیم کے بعد یہ پابندی تو ہٹائی گئی ہے مگر اس کے لئے بھی وفاق سے اجازت کی شرط لگا کر صوبہ خیبر پختونخوا کی راہ کھوٹی کردی گئی ہے۔ مشتاق احمد خان نے اپنے خطاب میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کو وفاق کی جنگ قرار دیا تو میں نے گزارش کی کہ اس جنگ کو تو آپ لوگ ہی ملک کے اندر لائے تھے اور ضیاء الحق کے ساتھ مل کر یہ جنگ آپ نے شروع کی اور اس کے خلافٹ جب باچا خان اور ولی خان نے باز رہنے کی بات کی تو ان پر بعض حلقوں کی طرف سے کفر تک کے فتوے لگائے گئے۔ مشتاق احمد خان نے کہا کہ ہم نے تو جہاد کی حمایت کی تھی۔ تاہم میں نے ان سے اتفاق نہیں کیا اور کہا کہ اگر یہ جہاد تھا تو اب فساد میں کیوں ڈھل گیا ہے؟ بہر لب لباب اس ملاقات کا یہی ہے کہ یہ ایک اچھی ملاقات تھی ۔ اب آتے ہیں ایک ہی نوعیت کی خبروں کی جانب۔ ایک خبر کے مطابق وفاق نے پشاور کے باچا خان ائیر پورٹ کے نام بدلنے کی تجویز کو رد کردیا ہے جبکہ دوسری خبر یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کی ایک رہنماء شرمیلا فاروقی نے کراچی کی ایک سڑک کو جو پی ٹی وی کراچی سے متصل ہے اور جو ٹی وی کے ایک سینئر کارکن شہزاد خلیل کے نام سے ان کی خدمات کے عوض 1991ء میں منسوب کی گئی تھی خاموشی کے ساتھ اپنے والد کے نام منسوب کرکے اس کا نام فاروقی ایونیو رکھ دیا ہے جس پر کراچی کی فنکار برادری نے سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ یہ بڑی بد قسمتی کی بات ہے کہ ہمارے ہاں بعض طاقتور حلقے اس قسم کی حرکتیں کرکے ملک و قوم کی خدمت کرنے والوں کا حق مارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مجھے یاد ہے چند برس پہلے لاہور میں بعض حلقوں پر لاہور کے دو بڑے ہسپتالوں جن میں سے ایک گلاب دیوی ہسپتال تھا ان کو ''مسلمان'' کرنے کا جذبہ سوار ہوگیا تھا جس پر ملک کے سینئر صحافی اور کالم نگار منو بھائی نے اپنے کالم میں احتجاج کرتے ہوئے منصوبہ سازوں سے سوال کیا تھا کہ یہ دونوں ہسپتال تو متحدہ ہندوستان کے وقت انہی دونوں ہندوئوں نے ذاتی دولت سے ٹرسٹ بنا کر رفاہ عام کے لئے تعمیر کئے تھے حالانکہ اس وقت مسلمان دولتمندوں کی کوئی کمی نہیں تھی مگر ان مسلمانوں کو خدمت خلق کا کوئی خیال نہیں آیا تھا تو اب جبکہ یہی ٹرسٹ ان ہسپتالوں کو چلا رہا ہے ان کے ناموں کو تبدیل کرنے کا کیا اخلاقی جواز ہے؟ اس پر یہ منصوبہ ترک کردیاگیا تھا جہاں تک باچا خان ائیر پورٹ کا تعلق ہے یہ کوئی پہلی بار نہیں جب اس کے نام کی تبدیلی کے لئے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ باچا خان کے نظریات سے کسی کو لاکھ اختلاف سہی مگر آزادی کے لئے ان کی قربانیوں سے انکار سورج کو انگلی سے چھپانے کی ناکام کوشش ہے۔ اگر ان کے نام سے منسوب ائیر پورٹ کا نام بدلنے کی سوچ کو لگام نہ دی گئی تو بہت سے منصوبوں اور مقامات کے نام تبدیل کرنے کے لئے آوازیں اٹھ سکتی ہیں۔

متعلقہ خبریں