جو پڑھا یا سبق زما نے نے ۔۔

جو پڑھا یا سبق زما نے نے ۔۔

سپر یم کو رٹ کی جانب سے پانا مہ لیکس درخواستوں کی سما عت کی منظور ی کے بعد سب سے پہلے پی پی کے رہنما اعتزاز احسن نے اعتراض اٹھا یا کہ سپر یم کو رٹ کو ٹی او آرز بنا نے کا اختیا ر نہیں ہے اب وطن پا رٹی کے بیر سٹر ظفر اللہ نے بھی ایک درخواست دائر کر دی ہے کہ جو پا نا ما لیکس کی درخواستو ں کی سما عت کے لیے ان کو بھی فریق بنا نے کے لیے ہے کیو ں کہ ان کانقطہ نظر ہے کہ عدالت اعظمٰی کو قانون سازی کا اختیا ر نہیں ہے اور وہ ٹی آر اوز عدالت نہیں بنا سکتی تاہم فوجی آمر پر ویز مشرف کے مشیر سنیئر وکیل احمد رضا قصوری کا مو قف ہے کہ عدالت اس معاملے میں خود مختا رہے ۔ادھر تحریک انصاف کی جا نب سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ اس کی دھر نا تحریک دباؤ کے لیے تھی کہ عدالت میں ان کی سما عت منظور ہو جا ئے ، سماعت کی منظور ی کے بعد دھر نا کا جو ا زنہ تھا اس لیے ملتو ی کر دیا گیا ، ہو سکتا ہے کہ مو قف درست ہو ۔

تاہم دھر نے کی تاریخ میں ایک ہی عالمی شہرت یافتہ دھر نا کا میا ب پا یا ہے اور وہ چین کے انقلا بی لیڈر ما ؤزتنگ کا لا نگ ما رچ تھا جو بعد ازاں کسی حد تک دھر نے کا رخ اختیارکر گیا تھا اس کے بعد دنیا میںجتنے بھی دھر نے ہو ئے وہ کامیاب ثابت نہیں ہوئے بلکہ تباہی کا باعث ہی بنے ہیں پا کستان میں دھر نو ں کی تاریخ اگرچہ کوئی خا ص پر انی نہیں ہے مگر اس مملکت میں جتنے بھی دھر نے ہو ئے سب دھر ے رہ گئے ماسوائے ایک دھر نے کہ جو تحریک نفا ذ فقہ جعفریہ کی جانب سے ہو ا تھا ، امر واقعہ یہ ہے کہ جنرل ضیاالحق نے زاکواةوعشر آرڈی ننس جا ری کیا تو شیعہ برادری کو وہ اپنے فقہ کے مطا بق مو افق نہ لگا چنا نچہ وہ اسلا م آباد احتجا جا ًپہنچے اور وہاں دھر نا دیا جس پر جنر ل ضیا الحق نے ان کے مطالبات تسلیم کر لیے اس کے بعد دھرنو ں کی تاریخ جما عت اسلا می کے مرحوم سابق امیر قاضی حسین احمد کی جد وجہد سے وابستہ ہے ، قاضی ایک متحرک سیا ست دان تھے، جس طرح آج عمر ان خان متحر ک نظر آتے ہیں اپنے زما نہ اما رات میںقاضی حسین احمد بھی ایسے ہی متحر ک رہا کر تے تھے اورقومی مسئلے پر آواز بلند کر تے تھے پو ری قوم کو متحرک رکھنے کی سعی احسن کر تے تھے ، ان کی دھر نا تحریک سے کو ئی نظام درہم برہم نہیںہو تا تھا پر امن جدو جہد ہو اکر تی تھی تاہم قاضی صاحب ان دھر نا سیا ست سے ما یو س نظر آنے لگے تھے چنا نچہ وہ عموما ًدھر نو ں کے بار ے میں اپنے تاثر ات کا ذکر ان الفاظ میں کیا کر تے تھے کہ دھر نا ہم دیتے ہیں فائد ہ کوئی اور اٹھا لے جا تا ہے ، ان کا اشارہ اس تیسری قوت کی طر ف ہوتا تھا جو ما رشل لا کی صورت میںنا زل ہو جاتی تھی اور پھردس سال تک ملک کی قسمت کی مالک بن بیٹھتی ۔
عمر ان خان کا پہلا دھرنا جو تقریباً ساڑھے تین ما ہ کا تھا اور پاکستان کی تاریخ کا سب سے طویل دھر نا قرا ر پایا ہے گو کہ اس کے دھر نے کے بارے میں تحفظات ہیں مگر کسی بھی صورت میں لو گ دھرنا میدان میں جمع رہے چاہیے دن کو رخصت ہوجاتے اور شب کو محفل جما تے تھے سیا ست میں دھر نا تسلیم کرلیا گیا ہے ، اس دھر نے کو ختم کر نے کے لیے عمر ان خان کو آرمی پبلک اسکو ل کے سانحہ کی آڑ میسر آئی اور خیر یت سے گزر گیا اس طرح قاضی حسین احمد مر حوم والی تشویش کا خطرہ بھی ٹل گیا ، تاہم اس دھر نا سیا ست سے پا کستان کے سیا ست دانو ں کو سبق حاصل کر نا چاہیے کہ پاکستان میں سیا ست کی جو فضا ء ہے اس میں ایسے احتجا ج خا ص طور پر دھرنا سیا ست ہر گز کا میا ب ثابت نہیں ہوئی ہے کیو ں کے پاکستان میں اقتدار کی تبدیلی کے دو ہی طر یقے معر وف رہیں ہیں ایک بند وق اور دوسرا ووٹ مگر ووٹ پر ہمیشہ بند و ق کو بر تری رہی ہے ،
یہ تاریخ کا المیہ ہے کہ قیا م پا کستان کے بعد سے ہی اقتدار کی منتقلی میں بند وق ہی کا ر فرما نظر آئی ہے اگر ووٹ کے ذریعے تبدیلی آئی بھی ہے تو وہ ادھور ی رہی ہے جیسا کہ پہلی مر تبہ جب بے نظیربھٹو کی حکومت بننے لگی تو ان کو اقتدار اس وقت منتقل کیا گیا جب ان سے یہ بات منو الی گئی کہ خارجہ پا لیسی سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہو گا چنا نچہ وزارت خارجہ کا قلمد ان بے نظیربھٹو کو صاحبزادہ یعقوب کے حوالے کر نا پڑا ، اس وقت بھی ملک میں وزیر خارجہ کا قلمدان خالی پڑ اہے اور مشیر خارجہ معاملا ت کو اپنی حدود کے مطا بق دیکھ رہے ہیںجب کہ مختلف قومی حلقو ں سے نو از شر یف پر دباؤ ہے کہ وہ با قاعدہ طور پر وزیر خارجہ مقر ر کر یں کیو ں کہ عالمی سطح پر پا کستان کو جن خارجی حالات سے دوچار ہو نا پڑرہا ہے اس کا تقاضا ہے کہ باقاعدہ وزیر خارجہ مو جو د ہو نا چاہیے مگر نو از شریف کے کا نو ں پر جو ں نہیں رینگ رہی ہے اس کی وجہ وہ خود بتا سکتے ہیںکہ وہ کیو ں وزیر خارجہ کی تقرری سے گریز اں ہیں اب تو عام انتخابات بھی قریب آرہے ہیں ۔لب لبا ب یہ ہے کہ سیا ست دانو ں کو مر حوم قاضی حسین احمدکے افکا ر سے درس لینا چاہیے اور ان کے الفاظ پر غور کر نا چاہیے کہ قاضی صاحب کیا فر ما گئے ہیں کہ ''دھر نا ہم دیتے ہیں اور حکو مت کوئی اوراڑا لے جا تا ''یہ اچھا ہو ا کہ سپر یم کو رٹ کی آڑ مل گئی اگر دھر نا شروع ہو جا تا جس کے بارے میں مختلف آراء ہیں کہ دھر نا ممکن نہیں تھاوغیر ہ وغیر ہ ۔فر ض کرلیا جا ئے کہ دھرنا ہو جا تا کا میا ب بھی ہوتا تو اس کی کامیا بی کی کیا صورت ہو تی ۔نو ا ز شریف استعفیٰ دیدیتے تو اقتدار کس کو منتقل ہو تا۔ آئینی طو رپر کیا تبدیلی آتی ہے۔ اس کا جو اب سیا ست وہ ہو نی چاہیے جس کا سبق پڑھا جا سکے ورنہ یہ ہی کہا جا ئے گا کہ
''وہ کتا بو ں میں درج تھا ہی نہیں ''
'' جو پڑ ھا یا سبق زما نے نے !!''

متعلقہ خبریں