بصیرت سے محرومی

بصیرت سے محرومی

پی ٹی آئی نے احتجاج ختم کرتے ہوئے جب یو م تشکرمنانے کا اعلان کیا تو سب نے اپنی اپنی سوچ کے مطابق اس پر تبصرے کیے کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ اچھا ہوا ایک بحران ٹل گیا اور کچھ لوگ جو اس قسم کی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں اس فیصلے سے پریشان ہو گئے ہر محب وطن کا یہی خیال ہے کہ تصادم میں سب کا نقصان ہوتا ہے مل بیٹھ کر افہام و تفہیم کے ساتھ مسائل حل کرنے کی کوشش کی جائے تو یہ سب کے حق میں بہتر ہے کل ایک محفل میں ہماری ملاقات بینائی سے محروم دو طالب علموں سے ہوئی دو خوبصورت نوجوان اپنے ہاتھوں میں سفید چھڑیاں لیے ہوئے تھے انہیں دیکھ کر ہمارا دل بھر آیا کالج یونیفارم میں وہ کتنے اچھے لگ رہے تھے سفید لباس میں وہ فرشتے نظر آرہے تھے بات چیت کے دوران معلوم ہوا کہ مقامی کالج میں سال اول کے طالب علم تھے انہیں تعلیم سے حد درجہ لگائو تھا پڑھنے کا شوق انہیں مختلف محفلوں میں لیے پھرتا ہے وہ کالج سے چھٹی کے بعد کوشش کرتے ہیں کہ پشاور میں منعقد ہونے والی ادبی محفلوں کا حصہ بنیں انہیں دانش وروں سے ملنے کا بڑا شوق ہے وہ چاہتے ہیں کہ ملک و قوم کے لیے خدمات سرانجام دیں لیکن سب سے پہلے وہ تعلیم مکمل کرنا چاہتے ہیں ۔ہمیں ان کی باتیں بڑی اچھی لگیں ہم سوچ رہے تھے کہ بینا طالب علموں سے تو ہماری ملاقات اکثر رہتی ہے آج بصارت سے محروم ان طالب علموں کے دل کا حال بھی سنا جائے۔ وہ کالج جاکر اساتذہ کے لیکچرز سننے میں بڑی دلچسپی رکھتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ ہمارے کلاس فیلوز ہمارے ساتھ بہت زیادہ تعاون کرتے ہیں ۔موجودہ سیاسی صورتحال پر بھی ان کا تبصرہ شاندار تھاہم نے ان سے پوچھا کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد کیا ارادے ہیں تو دونوں کہنے لگے کہ جناب ہم استاد بن کر قوم کے نونہالوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنا چاہتے ہیں ہم اپنے پڑھے ہوئے کو آگے منتقل کرنا چاہتے ہیں۔ جب ہم نے ان سے کہا کہ ہم اخبار نویس ہیں اور ان کی باتیں اخبار کا حصہ بنانا چاہتے ہیں توانہوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں بھی اخبار میں لکھنے کا بڑا شوق ہے آپ اپنے اخبار کے ذریعے ہمارا ایک پیغام قوم تک ضرور پہنچادیں آپ کی بڑی مہربانی ہوگی ہم نے کہا کہ ہم ضرور لکھیں گے آپ اپنے دل کی بات ہمیں بتائیں۔ ہماری بات سن کر حافظ جی کی آنکھیں نم آلود ہوگئیں پھر کہنے لگا کہ ہماری آنکھیں تو ہیں لیکن ہم بصارت سے محروم ہیں لیکن یقین کیجیے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے بصیرت عطا کررکھی ہے ہمارے دل کی آنکھیں روشن ہیں ہم بصارت سے محروم ہونا اتنی بڑی محرومی نہیں سمجھتے لیکن جو قوم بصیرت سے محروم ہوجاتی ہے اسے ہم بہت بڑی محرومی سمجھتے ہیں۔ ہمارے بینا بھائیوں سے کہیے کہ ان کے پاس بصارت کی قدر نہیں ہے وہ اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھتے ہیں لیکن اس دیکھنے کی قدروقیمت سے آگاہ نہیں ہیں۔ ہماری قوم سے کہیے کہ اس آزادی کی قدر کرنا سیکھے جو اس وقت ہمیں میسر ہے انسانی تاریخ میں ایسا کئی مرتبہ ہوچکا ہے کہ بے قدری کرنے والوں سے نعمتیں چھین لی جاتی ہیں شکر کرنے والوں کی نعمتوں میں اضافہ کیا جاتا ہے ۔ہماری ترقی کا راز تعلیم میں پوشیدہ ہے تعلیم روشنی ہے یہ آپ کو بصیرت عطا کرتی ہے اس سے راستے آسان ہوجاتے ہیں یہ قوموں کو منزل مقصود تک پہنچانے والی ہے ہمارا تو آغا ز ہی اقراء سے ہوا تھا لیکن ہم نے وہ سارے اسباق فراموش کردیے ہیںہم نے اپنے اسلاف کے سکھائے ہوئے سبق بھلادیے ہم مال کے فتنے میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ تعلیم وہ نور ہے جس کی روشنی میں چلتے ہوئے آپ اپنی منزل مقصود تک باآسانی پہنچ جاتے ہیں۔ ہم نے حافظ جی سے کہا کہ ہم آپ کی باتیں لوگوں تک ضرور پہنچانے کی کوشش کریں گے اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہمارے بہت سے مسائل کی بنیادی وجہ تعلیم سے محرومی ہے۔ آپ سال اول کے طالب علم ہیں لیکن اللہ پاک نے آپ کو بصیرت عطا کر رکھی ہے آپ کی باتیں دل پر اثر کرتی ہیں ان باتوں میں سچائی ہے خلوص ہے آپ پاکستان کی سلامتی چاہتے ہیں آپ کا دل پاکستانی عوام کی مشکلات اور دکھوں پر کڑھتا ہے اسی لیے ہم نے آپ سے پاکستان کے مسائل کا حل پوچھا ہے۔ حافظ جی نے میرا سوال سن کر گردن جھکا لی یوں لگتا تھا جیسے مراقبے میں چلے گئے ہوں پھر بڑی دیر کے بعد گردن اٹھائی اور کہا کہ وطن عزیز کا قیام برصغیر کی تاریخ کا ایک بہت ہی اہم اور انوکھا واقعہ ہے یہ ملک ایک نظریے کی بنیاد پر عالم وجود میں آیا تھا مسلمان اپنے آپ کو ایک قوم سمجھتے تھے جو اپنی تعلیمات تہذیب و ثقافت کے مطابق زندگی گزارنا چاہتے تھے ۔ یہ بھی تاریخ کی ایک تلخ ترین حقیقت ہے کہ قیام پاکستان کے ساتھ ہی ہمارے خلاف سازشوں اور ریشہ دوانیوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا تھاجو ابھی تک جاری ہے ۔اس وقت ہم بہت سے الجھے ہوئے مسائل میں پھنسے ہوئے ہیں ہمارے حالات دگرگوں ہیں بظاہر تو روشنی کی کوئی کرن نظر نہیں آرہی لیکن ان پر قابو پانا ممکن ہے ۔ہمارا یقین ہے کہ ہم ان حالات پر قابو پانے میں کامیاب ہوجائیں گے مشکلات کا یہ دور گزر جائے گا۔ یہ کہہ کر حافظ جی نے سر جھکا لیا اور ایک گہرے تعمق کے بعد کہا صالح قیادت! صالح قیادت کے لیے کوشش کیجیے اپنی تمام تر توانائیاں اس بات پر صرف کردیجیے کہ ہماری قوم کو یہ شعور حاصل ہو جائے کہ ہمارے تمام مسائل کا حل صالح قیادت میں پوشیدہ ہے۔ کوشش بھی کیجیے اور اللہ پاک سے دعا بھی مانگیے کہ وہ ہمیں صالح قیادت عطا کرے!