حکومتی کار کردگی عوام کی نظر میں !

حکومتی کار کردگی عوام کی نظر میں !

پلڈاٹ ایک خود مختار ، غیر جانب دار ،غیر سرکاری تحقیقی اور تربیتی ادارہ ہے جسکا کام وطن عزیز میں جمہوریت اور جمہوری اداروں کو مضبوط کرنا ہے ۔گزشتہ دنوںپلڈاٹ نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی کا رکردگی کا جائزہ لینے کے لئے 387صفحات ک پر مشتمل رپورٹ جا ری کی ۔ اس رپورٹ میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا جا ئزہ لینے کے لئے ایک سروے کیا گیا ہے۔ اس سر وے میں تقریباً 3610 لوگوں سے وفاقی سطح پر 27 اور صوبائی سطح پر 25 سوالات پوچھے گئے اور ان سوالات کے جوابات کی روشنی اور جواب دہندگان کی آراء میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی کا ر کر دگی کا جائزہ لیا گیا اور اس بات کا تعین کیا گیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی ساکھ عوام کی نظروں میں کیا ہے۔ان سولات کا تعلق ملک میں امن و امان ،غُربت کے خاتمے، تعلیم، صحت عامہ، شفا فیت،توانائی کی پیداوار اور اس کی مینجمنٹ' کرپشن کے خلاف نچلی سطح تک اختیارات کی منتقلی،انصاف تک رسائی،قومی سلامتی، خارجہ پالیسی، ریگولیٹری اداروں کی کا رکر دگی کا جا ئزہ لینا،ریگو لیٹری با ڈیز میں شفاف اور قابلیت کی بنیاد پر تقرریاں، مہنگائی ،پانی سے متعلق ترقیاتی منصوبوںکی ترقی اورمینجمنٹ اور دیگر شعبوں سے متعلق تھا۔ یہ 27 سوالات ملک کے طول و عرض سے مختلف لوگوں سے پوچھے کئے گئے۔جہاں تک وفاقی حکومت کی کا ر کر دگی کا تعلق ہے تو ملک کے طول و عرض سے جواب دہندگان نے وفاقی حکومت کے 10 اقدامات پر اطمینان جبکہ17پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔اور یہ 17 وہ شعبے ہیں جنکا ذکر نواز شریف بار بار اپنی تقریروں میں کرتے ہیں۔ اور اسکو ترقی کا پہیہ کہتے رہتے ہیں۔جہاں تک چاروں صوبوں کا تعلق ہے تو پختونخوا میں کئے گئے ان سوالات کے جواب میں جواب دہندگان نے 18 پر اطمینان اور 7 پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔صوبہ پنجاب میں 25 پوائنٹس میں 15پر اطمینان اور 10 پر عدم اطمینان کا اظہار کیاگیا۔صوبائی سطح پر 25سوالات کئے گئے بلو چستان کے جواب دہندگان نے 25 پوائنٹس میں 12 پر اطمینان جبکہ 13 پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔جہاں تک سندھ کا تعلق تو صوبہ سندھ کے عوام اپنی حکومت سے نالاں نظر آتے ہیں۔اُنہوں نے صوبہ سندھ میں صرف 2 پر اطمینان اور 23پر عدم اطمیان کا اظہار کیا ہے۔اگرہم مزید تجزیہ کریں تو خیبر پختون خوا کا صوبہ اپنے مسائل کم کرنے اور لوگوں کی نظروں میںسر فہرست ہے۔ اسکے بعد پنجاب، تیسرے نمبر پر بلو چستان اور سب سے آخر میںیعنی چوتھے نمبر پر سندھ ہے۔اس سروے کیمطابق مسلح افواج لوگوں کی نظروں میں 76پوائنٹس کے ساتھ پہلے نمبر پر سپریم کو رٹ اور ہائی کو رٹ دوسرے نمبر پر قومی اسمبلی تیسرے نمبر پر جبکہ الیکشن کمیشن، ما تحت عدالتیں ، پولیس ، نیب اور سرکاری افسران کی کا ر کر دگی سے عوام مطمئن نظر نہیں آتے۔اس سروے کے مطابق وزیر اعظم کی مقبولیت 2015 میں 73 فیصد تھی جو سال 2016 میں کم ہو کر 58 فی صد ہوگئی۔جب جواب دہندگان سے ملک میں مختلف مسائل کے بارے میں سوالات پوچھے گئے تو ان میں اکثریت نے جواب دیا کہ نواز شریف کی حکومت دہشت گر دی پر قابو نہیں پاسکے گی۔63 فی صدجواب دہندگان نے جواب دیا کہ نواز حکومت ملک میں بے روزگاری پر قابو نہیں پاسکتی۔64 فی صد لوگوں کی رائے تھی کہ نواز حکومت ملک میں بد عنوانی قابو کرنے میں اور 60 فی صد جواب دہندگان کا خیال تھا کہ شریف حکومت غُربت کی کمی میں کوئی کر دار ادا نہیں کر سکے گی۔59 فی صد لوگوں کی رائے تھی کہ موجودہ حکومت بجلی اور گیس لوڈ شیڈنگ پر قابو نہیں پاسکے گی۔اس سروے کے مطابق پاکستان کے 10 مسائل کی نشان دہی کی گئی ہے ان میں دہشت گر دی 23 فی صد، مہنگائی 18 فی صد ، بجلی اور گیس لوڈ شیڈنگ 17 فی صد، بد عنوانی اور بے رو زگاری 12 فی صد، غُربت 6 فی صد، بچوں کے اغواء کا مسئلہ اور کشمیر کا مسئلہ 1فی صد اور دوسرے متفرقہ مسائل 8 فی صد ہے۔پلڈاٹ سروے کے مطابق جماعت اسلامی کی قومی اسمبلی میںکا ر کر دگی اور ممبران کی موجودگی 100 فی صد، جے یو آئی (ف)33 فی صد، پی ٹی آئی 21 فیصد، ایم کیو ایم 20فیصد ، پی پی پی 16 فی صد اور پی ایم ایل (ن)کی 7 فی صد ہے۔قومی اسمبلی میں جماعت اسلامی کے چار اراکین ہیں ان میں شیر اکبر خان بہترین کا ر کر دگی کے لحا ظ سے تیسرے نمبر پر ، محترمہ عائشہ پانچویں نمبر پر' صا حب زادہ طا رق اللہ 6 ویں نمبر پر اور صا حبزادہ یعقوب 9 ویں نمبر پر ہیں۔ مجمو عی طور پر ٹاپ 10 میں جو ایم این ہیں ان میں جے یو آئی کی محترمہ نعیم کشور پہلے نمبر پر،مسلم لیگ (ن) کے مزمل قریشی دوسرے نمبر پر، جماعت اسلامی کے شیر اکبر خان تیسرے نمبر، ایم کیو ایم کی نگہت شکیل چوتھے نمبر پر،جماعت اسلامی کی محترمہ عائشہ پانچویں نمبر پر ، جماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق اللہ اور پی پی پی کی ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ چھٹے نمبر پر،پاکستان مسلم لیگ کے میاں عبد المنان اور طاہرہ اورنگ زیب ساتویں نمبر پر اور پاکستان پیپلز پا رٹی کی ڈاکٹر نفیسہ شاہ، جماعت اسلامی کے صاحب زادہ محمد یعقوب اور مسلم لیگ (ن)کی خالدہ منصور بالترتیب آٹھویں ، نویں اور دسویں پوزیشن پر ہیں۔

متعلقہ خبریں