مشرقیات

مشرقیات

ایک دفعہ سیدنا عمر فارق رضی اللہ عنہ نے ایک شامی باشندے کو جو بڑا طاقتور اور جنگجو رہ چکا تھا غائب پایا تو اس کے بارے میں دریافت فرمایا: وہ شامی کہاں ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: امیر المومنین ! وہ تو پکا شرابی بن چکا ہے ۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے کاتب کو بلایا اور یہ لکھنے کا حکم دیا۔''عمر بن خطاب کی طرف سے فلاں شخص کی طرف السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔بسم اللہ الرحمن الرحیم اس کتاب کا نزول اللہ کی طرف سے ہے جو نہایت غالب خوب جاننے والا ہے ۔ گناہ بخشنے والا اور توبہ قبول کرنے والا ہے سخت سزا( دینے) والا بڑے فضل والا ہے اس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے''۔سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس خط کو مکمل کرایا اور اپنے ایلچی سے فرمایا ۔یہ خط اسے اس وقت دینا جب وہ ہوش میں ہو۔ پھر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے تمام حاضرین سے فرمایا کہ اس کیلئے دعا کرو۔ جب اس شخص کے پاس حضرت عمر کا خط پہنچا تو وہ اسے پڑھنے لگا اور کہنے لگا مجھ سے میرے رب نے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ مجھے معاف فرمائے گا اور مجھے اپنی سزا سے ڈرایا ہے۔ وہ مسلسل یہی الفاظ دہراتا رہا پھر رونے لگا اس نے شراب نوشی سے توبہ کرلی اوراس کی توبہ خوب رہی۔سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس معاملے کی خبر پہنچی تو فرمایا: اگر تم کسی کو دیکھو کہ وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا ہے تو اس کیلئے اسی طرح دعا کرو اور اسے راہ راست پر لانے کی کوشش کرو۔''اس کے خلاف شیطان کے مددگار مت بنو''۔(تفسیر القرطبی)
سیدنا عمر فاروق نے قانون مساوات نہ صرف مدینہ میں نافذ کر رکھا تھا بلکہ پوری مملکت اسلامیہ میں تمام گورنروں کویہی احکام دے رکھے تھے۔ یہاں تک کہ کھانے پینے کے سلسلے میں بھی یہی قانون سرکاری طور پر نافذ تھا۔ ایک مرتبہ جب عتبہ بن فرقہ آذر بائیجان کے حاکم بن کر وہاں پہنچے تو ان کے سامنے کھجور اور گھی سے تیار کردہ حلوہ پیش کیا گیا ۔ انہوںنے کھایا اور اسے بہت عمدہ اور شیریں پایا۔ عتبہ کے دل میں خیال آیا: کیوں نہ ایسا اچھا حلوہ امیر المومنین کی خدمت میں ارسال کیا جائے ۔ انہوںنے اس حلوے کے دو بڑے بڑے ٹوکر ے تیار کرائے اور دو آدمیوں کی معیت میں سیدنا عمر کی خدمت میں روانہ فرما دیے ۔ سیدنا عمر نے انہیں کھول کر دیکھا تو دریافت فرمایا: یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے بتایا یہ گھی اور کھجور کا تیار شدہ حلوہ ہے ۔ انہوںنے اسے چکھا ۔ معلوم ہوا کہ یہ کوئی عمدہ میٹھی چیز ہے۔ دریافت فرمایا: کیا وہاں سب لوگ گھروں میں ایسی ہی خوراک کھاتے ہیں؟ جواب دیا گیا: نہیں اس پر آپ نے حکم دیا: اسے واپس بھیج دو ، پھر عتبہ کے نام یہ تحریر لکھی۔ یہ تمہارے والدین کا کمایا ہوا مال نہیں۔ تمہیں ایسی ہی خوراک استعمال کرنی چاہیے۔جو وہاں کے عام لوگوں کو میسر ہو۔ (مناقب امیر المومنین لابن الجوزی)
مساوات کی اس سے بہتر مثال تاریخ میں نہیں مل سکتی کہ بیت المال کو حقیقی معنوںمیں صرف عوام کا مال مانا گیا۔

متعلقہ خبریں