کراچی میں شیعہ رہنماؤں کی گرفتاریوں کے خلاف احتجاج

کراچی میں شیعہ تنظیموں کی جانب سے اپنے رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے جس کے دوران پولیس اور مشتعل مظاہرین میں جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔

اس احتجاج کے دوران دھرنوں کی وجہ سے شہر میں کئی مقامات پر شدید ٹریفک جام کی صورتحال ہے۔

شہر کے علاقے ملیر 15 میں شیعہ تنظیموں نے پیر کی صبح دھرنا دے کر نیشنل ہائی وے کو بلاک کر دیا جس کی وجہ سے ایئرپورٹ جانے والی شاہراہ فیصل اور دیگر سڑکوں پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔

اس احتجاج میں خواتین اور بچے بھی شریک تھے۔ پولیس کی بڑی نفری نے موقع پر پہنچ کر جب احتجاج ختم کرانے کی کوشش کی تو بعض مظاہرین نے ان پر پتھراؤ کیا۔

فریقین میں جھڑپوں کے بعد سڑک کے ساتھ گزرنے والے ریلوے ٹریک پر دھرنا دے دیا گیا۔

اس موقع پر پولیس نے شیلنگ کر کے مظاہرین کو وہاں سے منتشر کیا تو انھوں نے دوبارہ قومی شاہراہ پر دھرنا دے دیا۔

ان مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ گذشتہ چند دنوں کے دوران گرفتار کیے جانے والے شیعہ رہنماؤں فیصل رضا عابدی، مرزا یوسف حسین اور علامہ احمد اقبال کو رہا کیا جائے۔

ایس ایس پی نعمان صدیقی نے مظاہرین کو بتایا کہ ان افراد کو اب عدالت کے ذریعے ہی رہائی مل سکتی ہے لیکن مظاہرین نے ان کی بات ماننے سے انکار کر دیا اور احتجاج جاری رکھا ہے۔

مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل سید ناصر شیرازی، سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا اور وائس آف شہدا کے چیئرمین سید فیصل رضا عابدی کے بھائی مصطفی عابدی نے اتوار کو ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ فیصل رضا عابدی، مولانا مرزا یوسف حسین سمیت تمام بےگناہ شخصیات کو رہا نہیں کیا گیا تو ملک گیر احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔

ادھر پولیس نے مرزا یوسف حسین کو پیر کو انسداد دہشت گردی کی عدالت کے انتظامی جج عبدالماک گدی کے روبرو پیش کیا اور بتایا کہ ان کے خلاف شریف آباد تھانے میں اشتعال انگیز تقریر کا مقدمہ درج ہے جس کی تفتیش کرنی ہے اس لیے انھیں ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا جائے۔

تاہم عدالت نے انھیں جیل بھیج دیا اور پولیس کو پانچ روز میں چالان پیش کرنے کی ہدایت کی ۔

مرزا یوسف حسین کو اتوار کو نارتھ ناظم آباد کے علاقے میں ایک کارروائی کے دوران حراست میں لیا گیا تھا جبکہ احمد اقبال کی گرفتاری اطلاعات کے مطابق اتوار کی شب عمل میں آئی ہے۔

اس سے قبل جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب نیو رضویہ سوسائٹی سے پیپلز پارٹی کے سابق سینیٹر فیصل رضا عابدی کو بھی پولیس نے غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا اور انھیں اب 19 نومبر تک جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔

اس سلسلے میں صوبائی مشیر اطلاعات مولا بخش چانڈیو نے پیر کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو فیصل عابدی سے کوئی دشمنی نہیں ہے ان پر جو الزام ہے عدالت نے اس کا فیصلہ کرنا ہے۔

خیال رہے کہ یہ گرفتاریاں جمعے کو کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کے بعد عمل میں آئی ہیں۔ ان واقعات میں کالعدم تنظیم اہل سنت و الجماعت کے پانچ کارکنان ہلاک ہوئے تھے جنھیں نانگن چورنگی پر سعودی حکمرانوں کی حمایت میں نکالی گئی ریلی سے واپسی پر نشانہ بنایا گیا۔

اہل سنت و الجماعت کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کے رہنما تاج حنفی کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں