تھر میں ڈیم کے خلاف احتجاج:’آخر بلاول بھٹو ہماری کب سنے گا‘

کراچی پریس کلب کے باہر اپنے روایتی لباس میں تھر کی ہندو برادری کی خواتین نعرے لگا رہی ہیں، یہ خواتین جنھوں نے کبھی اپنی تحصیل سے بھی قدم باہر نہیں رکھا نہ اردو بولنا جانتی ہیں لیکن یہاں ایک ڈیم کی تعمیر کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں جس کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ یہ ان سے رہائش کے علاوہ دستیاب تمام وسائل چھین لے گا ۔

ان متاثرین کا کہنا ہے کہ تھر کول کے بلاک ٹو سے خارج کیے جانے والے پانی کو جمع کرنے کے لیے گاؤں گوڑانو کے قریب ایک ڈیم تعمیر کیا جا رہا ہے جس سے 2700 ایکڑ پر مشتمل رقبہ اور سات گاؤں زیر آب آ جائیں گے اور اس منصوبے سے قبل مقامی لوگوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا ہے۔

تھر میں اینگرو کمپنی کی جانب سے 300 میگاواٹ کے دو بجلی گھر تعمیر کیے جا رہے ہیں، زیر زمین کوئلے تک رسائی کے لیے سطح پر موجود پانی کی نکاسی کی جا رہی ہے۔

سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی' کے سی ای او، شمس الدین احمد شیخ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی تھی کہ ڈیم کی جگہ تبدیل کی گئی ہے، اس سے قبل یہ ڈیم تھوڑا آگے بنایا جا رہا تھا ان کا دعویٰ تھا کہ جس طرح پہلے کان کے متاثرین کو معاوضہ دیا گیا تھا اسی طرح گاؤں کے متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی کے علاوہ ان کی آبادکاری بھی کی جائے گی۔

اس سے قبل یہ متاثرین تھر میں احتجاج کرتے رہے جس کے بعد صوبائی دارالحکومت کراچی پہنچے ہیں۔ دیوالی کا تہوار بھی اسی احتجاج میں گزر گیا۔ بقول ان کے وہ پاکستان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن رہے ہیں صرف اپنا حق مانگ رہے ہیں جو صوبائی حکومت انھیں دینے میں ناکام ہوگئی ہے۔

شریمتی سیتا کا کہنا تھا کہ ان کی فریاد کسی نے نہیں سنی وہ صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ اس ڈیم کے بننے سے وہ بے گھر اور بے روزگار ہو جائیں گے۔

'ہم یہاں بھوکے پیاسے بیٹھے ہیں آخر بلاول بھٹو ہماری کب سنے گا ۔ ہم نے انھیں ووٹ دیا لیکن ہماری تکلیف سننے تک کوئی نمائندہ نہیں آیا ہے۔'

پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں موجودگی پر بے چارگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا کراچی شہر اور کیا ہمارا لباس ہم اس ڈیم کے خلاف احتجاج کرتے کرتے یہاں تک آگئے ہیں۔

لیلا رام ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ 'انھوں نے 18 روز تک سلام کوٹ میں احتجاج کیا لیکن کوئی سننے نہیں آیا۔ کراچی مجبوری میں آئے ہیں اور ان کا صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ ڈیم کی جگہ تبدیل کی جائے۔'

'متاثرہ علاقے میں دو لاکھ سے زیادہ تو درخت ہیں حکومت کو یہ بات سمجھنے چاہیے کہ اس صحرائی علاقے میں کتنے مشکل سے درخت اگتا ہے۔ اور اس سے ماحولیات پر کیا اثرات ہوں گے۔ اس کے علاوہ اس ڈیم سے مکانات، کنویں، مال مویشی کی چراگاہ ڈوب جائیں گے۔'

متاثرین کا کہنا تھا کہ انھوں نے کمپنی کو متبادل راستہ دکھائے ہیں لیکن کمپنی اس کے لیے راضی نہیں ہو رہی ہے اور حکومت سندھ نے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔

متعلقہ خبریں