بنگلہ دیشی کرکٹر شہادت حسین ملازمہ پر تشدد کے الزام سے بری

بنگلہ دیشی کرکٹر شہادت حسین ملازمہ پر تشدد کے الزام سے بری

بنگلہ دیش میں عدالت نے ٹیسٹ کرکٹر شہادت حسین اور ان کی اہلیہ یاسمین کو 11 سالہ ملازمہ پر تشدد کرنے کے الزام سے بّری کر دیا ہے۔

شہادت حسین اس وقت ضمانت پر جیل سے باہر ہیں۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ استغاثہ شہادت حسین اور ان کی اہلیہ پر الزام ثابت نہیں کر سکے ہیں اور بے قصور ہیں۔

ملازمہ پر تشدد کے کیس پر بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ نے شہادت حسین کو معطل کر دیا تھا تاہم بعد میں انھیں ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازت دی گئی لیکن کسی ٹیم نے انھیں منتخب نہیں کیا تھا۔

29 سالہ شہادت حسین نے اپنی سابق ملازمہ محفوظہ اختر ہیپی کے ساتھ کسی قسم کی بدسلوکی سے انکار کیا تھا۔

اپریل میں انھوں نے ایک اخباری کانفرنس میں کہا تھا کہ'میں ملک سے معافی مانگتا ہوں۔ انسان سے غلطی ہو جاتی ہے اور مجھ سے بھی غلطی ہوئی ہے۔'

ستمبر 2015 کو محفوظہ اختر ہیپی ایک گلی میں اس حالت میں پائی گئی تھیں کہ ان کے جسم پر متعدد زخموں کے نشان تھے، اور ان کی ایک ٹانگ ٹوٹی ہوئی تھی۔

انھوں نے پولیس کو بتایا کہ وہ شہادت حسین اور ان کی اہلیہ کے گھر میں کام کرتی تھیں اور انھیں مارا پیٹا گیا اور ان پر تشدد کیا گیا ہے۔

شہادت حسین اور ان کی اہلیہ پر فرد جرم خواتین اور بچوں پر تشدد کی روک تھام کے قانون کے تحت لگائی گئی تھی۔

شہادت حسین نے ٹیسٹ اور ایک روزہ بین الاقوامی میچ کھیل رکھے ہیں اور وہ پہلے بنگلہ دیشی کھلاڑی ہیں جنھیں لارڈز کے اعزازی بورڈ میں شامل کیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں