’دماغی آنکھ‘ سے محرومی

’دماغی آنکھ‘ سے محرومی

ایک گھوڑے کے بارے میں سوچتے ہی آپ اپنے دماغ میں گھوڑے کی تصویر لے آتے ہیں۔ لیکن دنیا میں دو فیصد لوگ ایسے بھی ہیں جو کسی بھی چیز کی تصویر کو اپنے ذہن میں لانے کی صلاحیت سے محروم ہیں اور اسے 'ایفنتاسیہ' کہا جاتا ہے۔

اس بارے میں سائنس دانوں کو حال ہی میں معلوم ہوا ہے لیکن اس صلاحیت سے محروم بہت سے ایسے لوگ ہیں جو یہ جانتے ہی نہیں کہ وہ دیگر لوگوں سے مختلف ہیں۔ 

پروفیسر ایڈم کہتے ہیں کہ لوگ کتنا اچھی طرح کسی بھی چیز کا تصور کر سکتے ہیں اس کے مختلف درجے بھی ہیں۔

63 سالہ روزی ایج نے بتایا کہ ان کے دو بیٹے ہیں تاہم جب وہ ان کا نام لیتی ہیں تو ان کا ذہن میں تصور کرنے میں ناکام رہتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ انھیں اپنی شادی کا دن بھی یاد نہیں یعنی وہ اپنےذہن میں اس دن کے واقعات کو دہرانے سے قاصر ہیں ہاں اپنی جذباتی کیفیت انھیں یاد ہے۔

پال آرویڈزن کی عمر 47 برس ہے ان کا کہنا ہے کہ وہ لائٹنگ ڈیزائنر ہیں لیکن کسی بھی چیز کا ذہن میں تصور کرنا ان کے لیے ممکن نہیں اس لیے انھیں ہر چیز لکھنی پڑتی ہے، اسے صفحے یا کمپیوٹر پر بنانا پڑتا ہے۔

سات برس قبل انھوں نے ایک کتاب بھی لکھی تھی جس کا عنوان تھا 'دی ڈارک' یعنی ’اندھیرا‘ تھا۔ وہ بتاتے ہیں کہ یہ کتاب ایک ایسے سیارے کے بارے میں تھی جہاں روشنی کا وجود نہیں ہے۔

سٹیو کنگ کی عمر 44 برس ہے وہ کہتے ہیں کہ انھیں نہ اپنی شادی کا دن یاد ہے نہ بیٹے کی پیدائش کا دن اور نہ ہی وہ سالگرہ کے دن کو اپنے ذہن میں دہرا سکتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ان کی اہلیہ نے اب ان سے اس حوالے سے بات کرنا چھوڑ دی ہے اور جب وہ اپنی تصویریں دیکھتے ہیں تو تب بھی وہ اس واقعے کا تصور دہرا نہیں پاتے اور خود کو باور کرواتے ہیں کہ وہ اس جگہ موجود تھے۔

یہ بھی دلچسپ ہے کہ جو لوگ واقعات کو اپنے ذہن میں دہرانے کی صلاحیت سے محروم ہوتے ہیں وہ عام لوگوں کی طرح خواب دیکھنے کی صلاحیت سے محروم نہیں ہوتے۔