اس سے خوش آئند کیا ہو گا کہ سپریم کورٹ خود فیصلہ کرے: عمران خان

اس سے خوش آئند کیا ہو گا کہ سپریم کورٹ خود فیصلہ کرے: عمران خان

پاکستان میں حزب اختلاف کی دوسری بڑی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کا کہنا ہے کہ عدالت تو پاناما لیکس کی تحقیقات کا فیصلہ جلد چاہتی ہے تاہم وزیرِ اعظم کی جانب سے تاخیری حربے اختیار کیے جا رہے ہیں۔

پیر کو پانامہ لیکس کے معاملے کی سماعت کے بعد اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’سات ماہ پہلے وزیرِ اعظم نے کہا تھا کہ ہم ثبوتوں کے ساتھ تیار ہیں۔ میں اور میرا خاندان احتساب کے لیے تیار ہے۔ لیکن سات مہینے گزرنے جانے کے باجود وہ تیار نہیں ہیں۔‘

خیال رہے کہ پیر کو عدالت میں نواز شریف اور ان کے بچوں کے وکیل نے دستاویزی ثبوت فراہم کرنے کے لیے عدالت سے 15 دن کی مہلت مانگی تھی جسے عدالت نے مسترد کر دیا ہے اور 15 نومبر کو ثبوت جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔

تحریکِ انصاف کے سربراہ کا کہنا تھا کہ انھیں اس بات کی خوشی ہے کہ سپریم کورٹ نے وزیرِ اعظم کو سوالات کا جواب دینے کا پابند کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ممکن ہے کہ یہ معاملہ یہیں حل ہوجائے اور کمیشن تک نوبت ہی نہ جائے۔‘

ان کا کہنا تھا ’پاکستان کے لیے اس سے خوش آئند چیز کیا ہو سکتی ہے کہ یہی عدالت اس معاملے کا فیصلہ کر دے۔‘

عمران خان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم کے جواب میں کہا گیا ہے کہ مریم نواز ان کی زیرِ کفالت نہیں ہیں تاہم اب وہ اپنے جواب میں ثابت کریں گے کہ ’مریم صفدر دراصل وزیرِ اعظم نواز شریف کی ہی زیرِ کفالت ہیں۔‘

تحریکِ انصاف کے سربراہ کا کہنا تھا کہ انھیں اب بات کی بھی خوشی ہے کہ سپریم کورٹ نے نیب کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھایا اور اس معاملے پر ہاتھ اٹھا لینے پر نکتہ چینی کی۔

عمران خان کا کہنا تھا وزیرِ اعظم کے خاندان کے جواب میں کہا گیا ہے کہ مے فیئر میں واقع فلیٹ 2006 سے پہلے نہیں خریدے گئے۔ اس موقع پر انھوں نے چوہدری نثار، صدیق الفاروق، اور کلثوم نواز کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شاید ان سب کو کوئی غلظ فہمی ہوئی ہے جو انیس سو نوے کی دہائی میں وہاں گئے تھے۔

انھوں نے استہزایہ انداز میں اپنے ایک احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ’میں تو 1998 میں ان فلیٹس کے باہر مسلم لیگ ن کے خلاف مظاہرہ بھی کر آیا ہوں۔ اس کا مطلب ہے میں کسی اور کے گھر کے باہر شور مچا آیا۔‘

اپنے احتساب کے بارے میں ان کا کہنا تھا ’میں تو کبھی کسی عوامی عہدے پر تھا ہی نہیں اور نہ ہی میں نے عوام کا پیسہ کھا کر کرپشن کی ہے۔‘

’ہمارا نام تو پاناما میں نہیں آیا۔ وزیرِ اعظم کا نام آیا ہے۔ اور اگر وہ پہلے تلاشی دے دیتے تو ہم سب کی باری بھی آ جاتی۔‘

عمران خان کا کہنا تھا کہ احتساب کے معاملے میں ان کی جماعت حزبِ اختلاف کی تمام جماعتوں کے ساتھ ہے۔

متعلقہ خبریں