بے قراری کیوں ؟

بے قراری کیوں ؟

آج کچھ سیاستدان بڑے جذباتی انداز میں ووٹ کے تقدس کی بات کرتے دکھائی دیتے ہیں، اُن کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ یہ سب وہ اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں کررہے ہیں۔ سواس سلسلے میں وہ ہر حد سے گزر جانا اپنا حق تصور کرتے ہیں۔ قومی اداروں کو ریاستی ادارے سمجھنے کے بجائے اپنے مفاد کے لیے استعمال کرناوہ اپنا موروثی حق سمجھتے ہیں۔ لیکن بظاہر ایسا نعرہ لگا رہے ہیں جس سے شاید عام آدمی یہ دھوکہ کھا جائے کہ اگر واقعی یہ ووٹ کے تقدس کی بات کر رہے ہیں توعوام کی فلاح اسی میں ہے۔ عام آدمی تو یہ بھی نہیں سمجھتا کہ آج سے پہلے انہیں ووٹ کا تقدس کیوں یاد نہ آیا؟ عام شہری تو یہ بھی نہیں سمجھتا کہ اپنے مقصد کی تکمیل کے بعد عوام کوماضی کی طرح یکسر نظرانداز کر دیا جائے گا۔ اسی طرح ترقیاتی کاموں کا ذکر بھی کیا جارہا ہے حالانکہ نااہلی کے بعد بھی اسی جماعت کی حکمرانی ہے۔اگر آپ کا دامن واقعی صاف ہے تو عوام دوبارہ آپ ہی کو منتخب کریں گے پھریہ بے قراری کیوں؟ وطن عزیز آج جس مشکل دور سے گزر رہا ہے ،جس قدر اندرونی و بیرونی چیلنجز درپیش ہیں ،ان حالات کا تقاضا تھا کہ سیاستدان یکجہتی کا مظاہرہ کرتے اور ان مشکل کن حالات سے نکلنے کی کوئی سبیل پیدا کرتے،لیکن صد افسوس ہم ہمیشہ کی طرح اس موقع پر بھی بکھرے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ،یہ پہلی دفعہ نہیں ہوا ہے بلکہ ہماری بدقسمتی ہے کہ جب بھی ہم کسی راستے کا تعین کرکے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں ہمارے راستے مسدود کر دیے جاتے ہیں، ہمیں منزل سے بہت پہلے روک دیا جاتا ہے اور ہم میں اس قدر بھی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت نہیں ہے کہ اپنے خلاف کی جانے والی سازش کو سمجھ کراس کا سدِباب کر سکیں۔تسلیم کہ عوام نے مسلم لیگ ن کو ووٹ دیا ہے لیکن یہ ووٹ عوامی مسائل کے حل کے لیے دیا ہے نہ کہ اپنی مشکلات کو عوام کے ووٹ کے ذریعے کم کرنے کے لیے۔ میاں نواز شریف آج جس راستے پر چل رہے ہیں' جلسے جلوسوں میں جو لب ولہجہ استعمال کر رہے ہیں کیا کل خود اس کا شکار نہیںہوں گے؟مثال کے طور پر نواز شریف آج ووٹ کے تقدس کے لیے آئین میں ترمیم کرنے جارہے ہیں اور شاید وہ یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ ان کا اقتدار ہمیشہ رہے گا۔ اگر کل کلاں یہی ووٹ اور مینڈیٹ کی بات کوئی دوسری پارٹی کرتی ہے ' اپنی مرضی اور اپنے مفاد کی خاطر آئین میں ترمیم کرنا چاہے تو کیا اسے بھی یہ حق حاصل ہو گا؟ کیا ایسا کرنے سے آئین محض مذاق بن کر نہیں رہ جائے گا۔ 1971ء کے متفقہ آئین میں اب تک دو درجن سے زائد ترامیم ہو چکی ہیں جب کہ ہمارے ساتھ آزاد ہونے والے ملک بھارت میں اب تک ایک بار بھی آئین میں ترمیم نہیں ہوئی ہے ، کیا یہ ہمارے لیے سوچنے کا مقام نہیں ہے؟ 

جو لوگ برسوں سے اپنے اقتدار یا مفادات کی خاطر عوام کو استعمال کرتے آئے ہیں انہیں اب یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اب پاکستان کے عوام نے درست اور غلط میں تفریق کرنا شروع کر دی ہے ، جو لوگ چند سال پہلے تک سیاستدانوں کی بے جا حمایت کرتے تھے آج اختلاف کرتے اور سوال اٹھاتے نظرآتے ہیں۔ جو لوگ بلاوجہ بات بے بات مارشل لاء کی بات کرتے تھے آج ایسے لوگوں کی تعداد بہت کم دکھائی دیتی ہے، تو سمجھ لینا چاہیے کہ عوام میں شعور آ رہا ہے اور یہ عوامی شعور ہی حقیقی معنوں میں کسی قوم کو ترقی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ میاں نواز شریف ان لوگوں کو 20کروڑ عوام سمجھ رہے ہیں جو چند ہزار افرادان کے جلسے جلوسوں میں دکھائی دیتے ہیں' جو لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں ان کی مخالفت کر رہے ہیں کیا ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں؟ عدالت عظمیٰ نے میاں نواز شریف کو جب نااہل قرار دیا تو مسلم لیگ ن کی طرف سے ایسا تاثر دیا گیا اور ایسابیانیہ قائم کیا گیا جیسے میاں نواز شریف کے بغیر یہ ملک نہیں چل سکتا۔ میاں نواز شریف جن 20کروڑ عوام کی بات کرتے ہیں کیا اس میں کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں جو ملک چلانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ اس موقع پر اپوزیشن کی ذمہ داری تھی کہ وہ عوام کومسلم لیگ ن کی جانب سے قائم کئے گئے بیانیے کے بارے بتاتی اور انہیں بتاتی کہ ووٹ کی طاقت کا کس طرح بے جااور اپنے مقصد کی تکمیل کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے ،اپوزیشن عوام کو یہ بھی بتاتی کہ مینڈیٹ حاصل کرنے کے بعد بھی احتساب سے نہیں بچا جا سکتااگرکسی معاشرے سے احتساب کا عمل ختم کر دیا جائے تو وہ معاشرے زیادہ قائم نہیں رہ پاتے ،حکومت سے شکوے شکایات کر کے ہم بری الذمہ نہیں ہو سکتے بلکہ اپوزیشن بھی عوام کی عدالت میں جواب دہ ہے کیا اپوزیشن نے اپنی ذمہ داری پوری کی ہے ؟مجھے افسوس کے ساتھ یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ پاکستان کے عوام تو تبدیلی چاہتے ہیں لیکن ان کے پاس دستیاب لیڈران میں کوئی آپشن ہی نہیں ہے۔ جب تک کوئی ویژنری لیڈر سامنے نہیں آتا تب تک ہم مفاد پرستوں کے ہاتھوں استعمال ہوتے رہیں گے اور تب تک آئین کا مذاق اُڑایا جاتا رہے گا۔

متعلقہ خبریں