عمران خان کا اعتراف حقیقت مگر تاخیر سے

عمران خان کا اعتراف حقیقت مگر تاخیر سے

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے توجیہہ پیش کی ہے کہ خیبر پختونخوا میں متعارف کروائے گئے نئے بلدیاتی نظام پر اس لیے اب تک مکمل طور پر عمل نہیں کیا جا سکا کیونکہ ان کی اپنی جماعت کے ارکانِ صوبائی اسمبلی اور صوبائی بیوروکریسی اس نظام کی مخالف ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ نے2013 کے انتخابات میں مرکز میں حکومت نہ ملنے پر خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس وقت انہیں مرکز میں حکومت مل جاتی تو ناتجربہ کار ارکان پارلیمنٹ کی وجہ سے انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا۔ جو سبق ہم نے خیبر پختونخوا میں سیکھے ہیں وہ مرکز میں حکومت چلنے پر کام آئیں گے۔ سیاسی دنیا میں بات کو گھما پھرا کر کرنے اور کسی قیمت پر بھی اپنی خامی غلطی نا تجربہ کاری ناقص منصوبہ بندی اور ناکامی کی وجوہات کا کھلے دل سے اعتراف یا کم از کم تسلیم کرنے کی کوئی روایت نہیں۔ اگر ہے بھی تو اگر مگر کے ساتھ ہوگا۔ تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے بی بی سی کو انٹرویو میں جس راست گوئی کامظاہرہ کیا ہے اسے مخالفین خواہ جس رنگ میں بھی پیش کریں اور ناکامی کے اپنے منہ سے اعتراف کا ڈھنڈورا پیٹیں یہ ایک جرأتمندانہ قدم ہے جسے نہ سراہے جانے کی کوئی وجہ نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ناکامی کا اعتراف اور خامیوں کو تسلیم کرلینا ہی وہ پہلا سنجیدہ قدم ہوتا ہے جس کے بعد اصلاح و ترقی اور تبدیلی کا عمل شروع ہوتا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی خیبر پختونخوا میں اپنی جماعت کی حکومت اور صوبے کی کابینہ کے بارے میں خیالات کی صداقت سے کسی کو انکار نہیں۔ صوبے کی بیورو کریسی کا عدم تعاون بھی کوئی پوشیدہ امر نہیں۔ کے پی حکومت کا فنڈ اور بجٹ ہونے کے باوجود اس کو بروئے کار لانے اور عوامی مسائل و مشکلات حل کرنے میں ناکامی سب سے بڑی ناکامی ہے۔ ہمارے تئیں عمران خان کو اگر بروقت اس کا احساس ہوتا اور وہ جس نتیجے پر آج پہنچے ہیں اگر سال دو سال قبل ہی اس نتیجے پر پہنچے ہوتے تو اصلاح احوال کے لئے کافی موقع تھا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ خود عمران خان نے بھی کئی متنازعہ سیاسی فیصلے کئے اگر عمران خان صوبے کی حکومت کے معاملات کو ابتداء ہی سے سنجیدگی سے لیتے اور پرویز خٹک جیسے انتظامی و سیاسی طور پر برگ باراں دیدہ شخص کی مشاورت کے ساتھ اور صوبے میں موجود رہ کر ان خامیوں اور کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کرتے تو صوبے میں حکومت کی کارکردگی کو کافی حد تک تسلی بخش بنایا جاسکتا تھا۔ عمران خان اگر دھرنے اور سیاسی مخالفین کا مکو ٹھپنے میں بیشتر وقت نہ گزارتے اور اپنی پوری توانائی حکومتی امور اور عوامی مسائل کے حل پر صرف کرتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔ بیورو کریسی کے عدم تعاون کا رویہ اپنی جگہ مگر یہ متعلقہ محکمے کے وزیر پر بھی منحصر ہوتا ہے کہ وہ اپنے محکمے کے عمال سے کام لینا کس حد تک جانتے ہیں۔ اس خامی پر نا تجربہ کار صوبائی وزراء کو ان کے محکموں کے حوالے سے تجربہ کار افراد سے تربیت دلوانے اور مشاورت کرکے قابو پانا ممکن تھا۔ عمران خان اگر خیبر پختونخوا میں اپنی موجودگی بڑھا کر حکومتی معاملات سے آگاہی حاصل کرتے اور عملی طور پر کوشاں ہوتے تو اڑیل بیورو کریسی کا وہ رویہ نہ ہوتا جو انہوں نے کم تجربہ رکھنے والے نوجوان وزراء کے ساتھ رکھا۔ پی ٹی آئی کے قائد اس حوالے سے بری الذمہ قرار نہیں پاتے کہ انہوں نے صوبے کے معاملات سے آگاہی کے لئے موزوں افراد پر اعتماد کی بجائے ایسے لوگوں سے بریفنگ لینے پر معترض نہ ہوتے جو نہ اس شعبے کے تھے اور نہ ہی اس صوبے سے ان کو واقفیت تھی۔ کیا لاہور کی ایک خاتون سے صوبے میں محکمہ صحت اور صوبے کے ہسپتالوں میں علاج معالجہ کی سہولیات اور اقدامات کے بارے میں بریفنگ لینے سے حقیقت حال سے آگاہی ہوسکتی تھی یا پھر نجی سکولوں سے لاکھوں طالب علموں کی سرکاری سکولوں میں داخلے کے مضحکہ خیز دعوے کو آنکھیں بند کرکے نہ صرف قبول کیا گیا بلکہ خود بھی بار بار دہراتے رہے۔ انجام کار میٹرک کے امتحانات میں سرکاری سکولوں کے نتائج نے بھانڈا پھوڑ دیا گیا۔ بلدیاتی مسائل اور عوام کو درپیش مشکلات کا شعبہ یقینا پیچیدہ اور مشکلات سے بھرپور ہے ایک سینئر و فعال وزیر کی اس ضمن میں ناکامی کی توجیہہ ممکن ہے مگر ایسے محکموں میں جہاں افسران سینکڑوں ہوں اور کام بڑی بڑی کمپنیوں کو ٹھیکے دے کر کر وائے جا رہے ہوں اس محکمے کی اصلاح اور سرکاری خزانے سے بھاری تنخواہیں اور مراعات لینے والوں سے کام نہ لینے کی کوتاہی پر صرف نظر کیوں کیاگیا اس کا جواب بھی خاصا مشکل ہے۔ ان تمام امور کے باوجود اس امر کا اعتراف نہ کرنا حقیقت پسندی نہ ہوگی کہ صوبے میں کافی چیزوں میں بہتری دکھائی دے رہی ہے۔ پولیس' تعلیم اور صحت کے شعبے میں خاصا کام ضرور ہوا ہے اداروں پر سرکاری دبائو کم ہوا ہے اور کھلم کھلا بدعنوانی کی کہانیاں سننے میں نہیں آرہی ہیں۔ عمران خان کی بڑی مشکل یہ ہے کہ وہ جو اصلاحات لانا چاہتے ہیں اس سے روایتی سیاست پر ضرب پڑتی ہے۔ ان کی جونیئر ٹیم ڈیلیور نہیں کرسکی اور جو لوگ دوسری جماعتوں سے آئے ہیں ان کو تبدیل ہونے میں وقت لگے گا۔ عمران خان آئندہ مرکزی حکومت کے لئے پر امید ضرور ہوں مگر ایسا کرتے ہوئے وہ جذباتی فیصلوں سے گریز کا تہیہ ضرور کرلیں اور بہتر ہوگا کہ جن کو تاہیوں کا اعتراف کیاگیا ہے باقی ماندہ مدت اقتدار میں ان کو عملی طور پر دور کرکے خود کو ایک بڑی ذمہ داری نبھانے کا اہل ثابت کریں۔

متعلقہ خبریں