تعلیمی اداروں کے ماحول میں بہتری کے تقاضے

تعلیمی اداروں کے ماحول میں بہتری کے تقاضے

سپریم کورٹ آف پاکستان کا خیبر پختونخواکے تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال کا نوٹس لیتے ہوئے صوبائی حکومت سے انسداد منشیات کے اقدامات کے حوالے سے رپورٹ طلبی سنجیدہ معاملہ ہے جس پر تشویش کا ہونا فطری امر ہے ۔ سپریم کورٹ نے منشیات کے ملزم کی درخواست ضمانت کی سماعت کے دوران کے پی میں تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال کا نوٹس لیا۔رواں سال جون میں بلوچستان ہائی کورٹ نے صوبے کے تمام تعلیمی اداروں کے شعبوں کے طلبا کے ڈرگ ٹیسٹ کرنے کا حکم دیا تھا۔جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس نذیراحمد لانگو پر مشتمل بلوچستان ہائی کورٹ کے بنچ نے یہ حکم ایک شہری کی جانب سے بلوچستان کے تعلیمی اداروں کے طلبا میں منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال کے خلاف درخواست پر دیا تھا۔تعلیمی اداروں میں صرف منشیات کا استعمال اور منکرات کا معاملہ ہی سنگین صورت اختیار نہیں کر گیا ہے بلکہ تعلیمی اداروں سے اب بہترین تعلیمی کیئریر رکھنے کے باوجود جرائم اور دہشت گردی میں ملوث طالب علموں کا مسئلہ بھی سنگین تر صورت میں سامنے آیا ہے۔ کراچی میں طالب علموں کو تھانوں سے کردار کی سند لانے کا پابند بنانے کی تجویز ہے ۔ گوکہ اس کے مختلف عوامل او روجوہات ہو سکتی ہیں لیکن سب سے بڑی وجہ دین اور مذہب سے دوری اور والدین و اساتذہ کی تربیت میں نقائص اور معاشرے کی تباہی ہے ۔ گوکہ دہشت گردی کے الزامات کے تحت گرفتار شدگان کا حلیہ اور رجحان دینی دکھائی دیتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے لوگوں کی ذہنی تربیت اسلام اور شریعت کے مطابق نہیں ہوئی ہوتی کیونکہ وہ جس طرح کے افعال میں ملوث ہوتے ہیں اس کی گنجائش دین میںوقطعاً نہیں۔ دین اسلا م اپنے پیروکاروں کو شدت پسندی کی نہیں اعتدال کا درس دیتا ہے اور مسلمان اس کو کہا جاتا ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ اسلام میں ایک انسانی جان کو بچانا پوری انسانیت کو بچانا قرار پاتا ہے ۔ اس طرح کے عناصرکو دین اسلام سے جوڑ نے کی کسی طور بھی گنجائش نہیں بہر حال خیبر پختونخوا کے تعلیمی اداروں میں منشیات کا استعمال نہایت سنگین معاملہ بن چکا ہے حیرت اور استعجاب کی بات یہ ہے کہ نوجوان لڑکیاں بھی منشیات کا استعمال کرنے لگی ہیں ۔ اس طرح کے حالات میں انسدا د منشیات کے ادارے، پولیس، تعلیمی اداروں کے منتظمین، اساتذہ اور والدین کو مطعون کرنا غلط نہیں لیکن اس سنگین مسئلے کو صرف ان کی ذمہ داری گردان کر بر ی الذمہ ہونے کا عمل بھی درست نہیں۔ اس مسئلے کا حل عدالتوں کے پاس بھی نہیں اس مسئلے کا حل قومی سطح پر بیداری کی لہر پیدا کر کے نوجوان نسل کو اس سے بچانے کیلئے مختلف النوع اقدامات کرنے میں ہے ۔ ہمیں مل جل کر بچوں کو گھر ، تعلیمی اداروں اور باہر ایسا معاشرہ دینا ہوگا جہاں یہ رجحان ہی پیدا نہ ہو ۔ اس کے بعد منشیات کی مکمل روک تھام کیلئے جملہ اداروں کو اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کا سختی سے پابند بنانا ہوگا اور منشیات سپلائی کرنے کے تمام راستوں کو بند کرنا ہوگا ۔ تعلیمی اداروں میں طالب علموں کے خون کا نمونہ حاصل کرکے اس کا تجزیہ بھی تعلیمی اداروں میں نشے کے عادی افراد کی صحبت سے دوسرے طالب علموں کو بچانے کیلئے کار آمد نسخہ ہوگا ۔ بڑے بڑے سکولوں میں بھی ایسا کرنے کی ضرورت سے انکار ممکن نہیں ۔
ریکارڈ سیاحوں کی آمد
عید سعید کے موقع پر تقریباً بیس لاکھ افراد کا صوبے کے سیاحتی مقات کی سیر کیلئے آنا صوبے میں امن و امان کی بحالی اور صوبے میں سیاحت کے بے شمار مواقع ہونے کا مظہر ہے ۔ خیبر پختونخوا میں سیاحت کے فروغ اور سیاحوں کو سہولتوں کی فراہمی پر توجہ دیکھنے کو تو ملتی ہے لیکن حقیقی معنوں میں دیکھا جائے تو یہ نہ ہونے کے برابر ہے خیبرپختونخوا میں سیاحت کے کئی مقامات کو تو اب تک شاید دریافت ہی نہ کیا گیا ہو وہاں تک رسائی او رسیاحوں کو متوجہ کرنا تو دور کی بات ہے ۔ صوبے میں سڑکوں کی حالت زار اور سیاحتی مقامات تک رسائی میں مشکلات، تنگ سڑکوں کے باعث ٹریفک جام، ہوٹلوں اور ٹھہرنے کے مقامات اور سہو لیات کی عدم دستیابی جیسی بنیادی اور بڑی مشکلات میں کمی لائی جا سکے تو صوبہ خیبر پختوا میں سیاحوں کا امڈ آنا اور صوبے کا سیاحتی مرکز بن جانا فطری امر ہوگا ۔ سی پیک کے تحت سڑکوں کی تعمیر کے باعث نارسائی علاقوں میں بھی سیاحوں کی پہنچ ممکن ہو سکے گی صوبے میں سیر و تفریح پر توجہ سے ہی ملکی و غیر ملکی سیاحتوں کو متوجہ کیا جا سکے گا جس پر مزید توجہ کی ضرورت ہے ۔

متعلقہ خبریں