روہنگیا اور ہولو کاسٹ

روہنگیا اور ہولو کاسٹ

گزشتہ صدی کے نصف اول میں جرمنی میں رڈولف ہٹلر کی نازی پارٹی آریائی قوم پرستی کے نعرے پر بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئی۔ اور دوسری جنگ عظیم شروع ہوئی۔ ہٹلر کے جرمنی کی فوج نے یورپ اور دنیا کے بہت سے ممالک میں فتوحات کے جھنڈے گاڑے۔ ہٹلر کی پارٹی سامی النسل کے یہودیوں کے جرمنی کی معیشت پر قبضہ کے باعث ان کے خلاف تھی۔ جنگ عظیم شروع ہونے سے بہت پہلے جرمنی میں یہودیوں کے خلاف قانون سازی کی گئی ۔ 1941ء سے 1945ء میں جنگ عظیم کے خاتمے تک جرمنی میں نوے لاکھ یہودیوں کو قتل کیا گیا یا گیس چیمبر میں موت کے گھاٹ اُتارا گیا۔ جرمنی کی سپیشل ٹاسک فورس کو ہدایت کی گئی کہ وہ یہودیوں' اشتراکیوں اور سیاسی مخالفوں کو بے دریغ قتل کر دیا جائے۔ یہودیوں کی اس نسل کشی اور قتلِ عام کو ہولو کاسٹ کا نام دیاجاتا ہے۔ ہولوکاسٹ یہودی لفظ ہے جس کے معنی ہیں مکمل طور پر جلا دینا۔ ہٹلر کو شکست ہوئی ، جرمنی دو حصوں میں تقسیم ہوا اور پھرمتحدہوا ۔ آج بھی دنیا میں فرانس' جرمنی ، امریکہ اور یورپ کے دیگر ممالک میں سے سترہ ایسے ممالک ہیں جن میں ہولو کاسٹ پر نظرثانی ،اس پر تحقیق قانونی طورپر منع ہے۔ ہولو کاسٹ کے انکار کو نفرت انگیز قرار دیا جاتا ہے اور ایسے اظہار کو آزادیٔ اظہار کے قوانین کے تحت تحفظ حاصل نہیں۔دوسری جنگ عظیم کے ستر سال بعد آج میانمار میں روہنگیا اقلیت کے ساتھ میانمار کی اکثریتی حکومت جو سلوک کر رہی ہے وہ جرمنی کے ہولو کاسٹ سے کم نہیں۔ یہودی نازی جرمنی کی آریائی نسل کی اکثریت میں سامی النسل اقلیت تھے، روہنگیا بھی میانمار میں نسلی اقلیت ہیں۔ نازی جرمنی میں یہودیوں کے خلاف قانون منظور کیاگیاتھا ۔ میانمار میں بھی 1982ء میں ایک قانون بنایاگیاتھا جس کے مطابق روہنگیا میانمار کی دس نسلوں میں سے کسی بھی نسل کے نہیں ہیں۔ اس قانون کے تحت انہیں میانمار کے شہری حقوق سے محروم کر دیاگیاتھا۔ ان کی سرکاری ملازمتیں ختم کردی گئیں اور انہیں نفرت کا نشانہ بنایا گیا۔ اگرچہ روہنگیا کا دعویٰ ہے کہ وہ بارھویں صدی عیسوی سے میانمار میں آباد ہیں تاہم میانمار کے قانون کے مطابق روہنگیا کو 1824ء سے 1948ء کے عرصے میں انگریز حکمرانوں نے بنگلہ دیش اور بھارتی بنگال سے لا کر یہاں آبادکیا۔ 1982ء میں جو قانون منظورکیاگیاوہ موثربرماضی ہے۔ اس قانون کے مطابق 1823ء کے بعد میانمار آباد ہونے والے روہنگیا میانمار کے باشندے نہیں ہیں۔ اس طرح میانمار کی آبادی کا چار فیصد ہونے کے باوجود تیرہ چودہ لاکھ روہنگیا اپنے وطن میں بے وطن قرار دیے گئے، اب ان کا کوئی وطن نہیں۔ میانمار میں انہیں کوئی شہری قانونی تحفظ حاصل نہیں۔اقوام متحدہ کے کمیشن برائے مہاجرین کے مطابق گزشتہ برسوں کے دوران 87ہزار روہنگیا بنگلہ دیش میں پناہ لے چکے ہیں لیکن حال ہی میں اس پناہ گاہ کے راستے بھی روہنگیا پر بند ہو چکے ہیں۔ بنگلہ دیش کی وزیر اعظم حسینہ واجد نے انہیں لینے سے انکارکردیاہے۔روہنگیا کی بھاری اکثریت مسلمان ہے ۔ میانمار کی بھاری اکثریت بدھ مت کی پیروکار ہے۔ بودھ مت کے بانی شہزادہ سدھارتھ تو نے تقریباً چار ہزار قبل وسطی ہند کے ہندو برہمن سماج کے مظالم کے خلاف عدم تشدد کی تحریک چلائی تھی جو سارے ہندوستان میں پھیل گئی ۔ اس کے چند سو سال بعد وسطی ہند میں ہندو برہمنی سماج کا احیاء ہوا اور بودھ مت کے ماننے والوں کا بے دریغ قتل عام ہوا۔ بودھ مت کے ماننے والے ایک طرف افغانستان تک دوسری طرف میانمار اور ہند چینی تک ہجرت کر گئے۔ میانمار میں انہی بودھوں کی نسل آباد ہے۔ لیکن آج یہ لوگ روہنگیا کے خون کے پیاسے ہیں ۔ میانمار کی فوج ایک طرف روہنگیا کا قتل عام کرتی ہے دوسری طرف بدھ مت کے پیروکاروں کے منظم جتھے روہنگیا کے آبادیوں کو جلا کر خاکستر کرتے ہیں۔میانمار کی وزیر اعظم آنگ سانگ سوچی بھی بودھ مت کی ماننے والی ہیں۔ انہوں نے 1980ء کے عشرے میں میانمار میں فوجی حکمرانوں کے خلاف جمہوریت کی تحریک چلائی۔ ا س طویل جدوجہد کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں نوبل انعام سے بھی نوازا گیا۔ لیکن ان کی جمہوریت کی جدوجہد میں روہنگیا کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ ور نہ روہنگیا کے خلاف نسل پرست قانون نہ بنتا۔ نہ ہی ان کا نوبل انعام ان کے مذہبی تعصب پر اثر انداز ہو سکا۔ 1993ء میں جب بی بی سی سے ان کا ایک انٹرویو نشر ہو رہا تھا تو بی بی سی کی نمائندہ مشعل حسین نے ان سے میانمار میں روہنگیا پر مظالم کے بارے میں ایک سوال کیا۔ اس کا جواب دینے کی بجائے آنگ سان سوچی یہ کہتے ہوئے چلی گئیں کہ مجھے نہیں بتایا گیا تھا کہ مجھ سے انٹرویو ایک مسلمان کرے گی۔ آنگ سانگ سوچی کے اس جواب پر آنجہانی نوبل کی روح تو شاید تڑپ اُٹھی ہو گی لیکن ان کی یاد میں نوبل انعام دینے کا فیصلہ کرنے والی کمیٹی پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑا۔روہنگیا کی منظم ریاستی نسل کشی پراقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل ایک بیان جاری کرکے خاموش ہو گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کی امدادی ٹیموں کو میانمار حکومت نے ملک میں داخل نہیں ہونے دیا اس کے بعد خاموشی ہے۔ اقوام متحدہ کے کمیشن برائے مہاجرین نے ان کے لیے کسی امدادکا بندوبست نہیں کیا۔ عالمی برادری کے ضمیر کوجھجھوڑنے کی ضرورت ہے۔ اسلامی ملکوں میں خاص طور پر ترکی نے ایک قابلِ قدر موقف اختیار کیا ہے۔ سعودی عرب نے بھی کہا ہے کہ معاملہ اقوام متحدہ میں اُٹھایا جائے گا۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اسلامی ممالک ان کو پناہ دے دیں۔ پاکستان میں پہلے ہی ایک لاکھ روہنگیا آباد ہیں۔ ان کو پناہ دے کر اپنوں سے اور اپنے وطن سے دور کرنے کی بجائے عالمی برادری کو اس بات پر قائل کیا جانا چاہیے کہ انہیں میانمار میں آسمان کے ایک ٹکڑے کی ضرورت ہے جس کے نیچے وہ اپنے غیر مذہب ہمسایوں کے ساتھ امن و آشتی کے ساتھ رہ سکیں۔

متعلقہ خبریں