اخلاقی بگاڑ کا نیا رجحان

اخلاقی بگاڑ کا نیا رجحان

انٹر نیٹ ، کیبل ، واٹس اپ، میسنجر اور اسکے علاوہ سوشل میڈیاایسے ذرائع ہیںجن سے فی زمانہ جان چھڑا نہ صرف مشکل ہی نہیںبلکہ ناممکن ہے۔میڈیا دو دھاری تلوار ہے جو ایک طرف اچھی چیزہے مگربعض اوقات ہمارے غلط استعمال کی وجہ سے یہ انتہائی خرا ب چیز بھی بن جاتی ہے۔ایک زمانے میں سوشل میڈیا، انٹر نیٹ کیبل کی اہمیت اتنی زیادہ نہیں تھی کیونکہ زیادہ تر لوگ اس کے استعمال سے نا واقف تھے مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اور دنیا کے عالمی گائوں یعنی Global Village کی شکل اختیار کرنے سے سوشل میڈیا اور علاوہ ازیں مندرجہ با لا سائنسی ایجادات انتہائی اہمیت اختیار کر چکے ہیں اور ابھی دوسری روزمرہ چیزوں کی طرح یہ ایجادات اکیسویں صدی میں ہماری بڑی ضرورت بن گئی ہے۔ بینکنگ کے نظام سے لیکر سکول کالج داخلے اور ریل گا ڑی کی ٹکٹیں تک بُک کروائی جاتی ہیں۔ مگر بد قسمتی یہ ہے کہ ہم انکو فضول کاموں کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔اس وقت انٹرنیٹ کے ذریعے دنیا میں عُر یاں اور فُحش فلمیں دیکھنے کے لحا ظ سے پاکستان صف اول کے ممالک میں شامل ہے۔ہم مملکت خداد اد اسلامی جمہو ریہ پاکستان کے شہری ہیں اور من الحیث القوم سب مسلمان ہیں۔ اور ایک اسلامی ملک اور مسلمان ہونے کے ناطے پی ٹی اے کو اس بات پر توجہ دینی چاہئے کہ ان ذرائع کو معاشرے کے بگاڑ کے بجائے مُثبت سر گر میوں کے لئے استعمال کیا جائے۔اور موثر قانون سازی کے ذریعے عوام پر چیک رکھا جائے اور عوام کو ان ایجادات کو اچھے اور کا ر آمد کاموں کے لئے استعمال کر نے کے لئے مجبو ر کیا جائے۔آج کل ایک نیا رجحان بن رہا ہے کہ سوشل میڈیا یعنی فیس بک پر کچھ اندورن ملک اور کچھ بیرون ممالک کے لڑکے اور لڑکیاںایسی بے ہود گی کے ساتھ سامنے لائیو( براہ راست) آتے ہیں جو ایک مسلم معاشرے ، اسلامی ریاست اور مسلمان کی پہچان نہیں۔لڑکے فیس بُک پر شرٹ اتار کر سکرین کے سامنے لائیو ( براہ راست) بے ہودہ باتیں اور حرکات کرتے ہیں اور گھنٹوں نوجوان اور درمیانی عمر کے مر د وزن کے ساتھ عجیب ، گری ہوئی حرکتیں کرتے ہیں۔ اور نو جوان بچے اور بچیوں کو ان حرکات اور سکنات کے ذریعے گمراہ کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔انگریزی کا ایک محا ورہ ہے کہ جس انسان کا کردار خراب ہو گیا سمجھ لو اسکا سب کچھ خراب ہوگیا۔ میں وفاقی وزیر ٹیلی کیمونیکیشن، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور پی ٹی اے سے استد عا کرتا ہوں کہ اس قسم کی فلموںپر انٹرنیٹ کنزیو مر کی خصوصی مانیٹرنگ اور چیکینگ کرنی چاہئے اورانکو فی الفور بند کرنا چاہئے اور صرف وہ لائیو پو سٹ اور چیزیں دکھا نی چاہئیں جن سے مذہب ، ہماری اخلاقی قدروں ، مشرقی روایات ، اسلامی اور پاکستانی تشخص خراب نہ ہو۔ ایسے بچے اور بچیوں کے فیس بُک اکائونٹس فوری بند کرنے چاہئیں جن سے معاشرے کو پرا گندہ اور نو جوان نسل کے اخلاق تباہ بر باد ہونے کا اندیشہ ہو ۔ ایسے لوگوں کے خلاف سائبر کرائم ایکٹ کے تحت سخت ایکشن لینا چاہیئے۔سمارٹ فونز متعارف ہونے سے انٹر نیٹ تک رسائی آسان ہو چکی ہے۔ دوسری طرف بچوں کے ہاتھوں میں بھی اب سمارٹ فونز ، ٹیبلٹ آگئے ہیں ۔ سونے پر سہا گہ مختلف موبائل فون کمپنیوں نے انٹر نیٹ کے 3.3اور 3.4کے سستے پیکچ بھی متعارف کر دیئے ہیں ۔ چھوٹے بچے اب گھر کے کسی کمرے میں چوری چھپے ان اخلاق باختہ سائیٹ کو آسانی سے تلاش کر سکتے ہیں۔ میں والدین اوربالخصوص سکول کالج اور یونیورسٹی کے اساتذہ کرام سے بھی التجا کرتا ہوں کہ وہ بچوں کی اسلامی اور مشرقی لحاظ سے تر بیت کریں کیونکہ تعلیمی اداروں میں کسی حد تک اس قسم کی تعلیم اور تربیت تو دی جاتی ہے مگر اب تعلیمی اداروں میں تربیت کا انتہائی فقدان ہے۔کسی زمانے میں والدین اور بالخصوص اساتذہ کرام طالب علموں کے لئے رول ماڈل ہوا کرتے تھے مگر بد قسمتی سے اساتذہ کرام کی خود تربیت نہ ہونے کی وجہ سے حا لات بد سے بد تر ہوتے جا رہے ہیں۔ اگر موجودہ قانون میں کمی بیشی ہے تو وفاقی حکومت اور چا روں صوبائی حکومتوں کو چاہئے کہ وہ موجودہ قانون میں وہ کمی بیشی پو ری کرے۔قومیں اچھے اخلاق اور کر دار سے بنتی ہیں۔ بُرائی اور فحا شی سے نہیں بنتی ۔آج کل پو ری دنیا اور با لخصوص مغربی ممالک میں اسلام انتہائی تیزی سے پھیل رہا ہے ۔ اور اس کے پھیلنے کی شرح 22 فی صد ہے جبکہ دوسرے مذاہب جس میں یہو دیت، ہندو ازم، سکھ، بُدھ مت ، عیسائیت اور اسکے علاوہ دیگر مذاہب شامل ہیں میں کمی آ رہی ہے اور اسکی اصل وجہ یہ ہے کہ ہمارے پیارے پیغمبر ۖ اور قر آن مجید فُر قان حمید میں جو کچھ بھی فرمایا گیا ہے وہ 15 سو سال بعد بھی اس طرح تر و تازہ ہے جس طرح 15 سو سال پہلے تھا۔ اوراکیسویں صدی میں جب انسان نے چاند اور مریخ کو اپنا مسکن بنایا ہے سائنس نے جتنی بھی ترقی کی وہ کرلی مگر ہمارے پیارے دین کی کسی بات کو نہ چیلنج کر سکتا ہے اور نہ کر سکے گا۔اب جب یورپ اور دیگر ممالک کے لوگ ہمارے ان کرتوتوں کو دیکھیں گے تو وہ مسلمان اور ہمارے مذہب کے بارے میں کیا سو چیں گے۔ ایک دانا کا قول ہے کہ جس قوم کے اخلاق تبا ہ ہو جاتے ہیں اُس قوم کو طاقت کے بل بوتے پر فتح کرنے کی کوئی ضرورت نہیں وہ خود بخود تباہ و بر باد ہو جاتی ہے۔اگر ہمیں اپنے معاشرے کو تباہی کے اندھے کنویں میں گرنے سے روکنا ہے تو ہنگامی بنیادوں پر ان بے ہودہ اور فحش مواد والی سائیٹس کے خلاف کریک ڈائون کرنا ہوگا ۔ ورنہ یہ وباء دوسری آفات سے زیادہ خطرنک ثابت ہوگی ۔

متعلقہ خبریں