دیکھ میں نے تیرا کیا رنگ کردیا ہے

دیکھ میں نے تیرا کیا رنگ کردیا ہے

شاعر جانے کس ترنگ میں تھے کہ اپنے محبوب کو خوشبوئوں کے سپرد کرکے کہنے لگے' جا' خوشبوئوں کا جھونکا تیرے سنگ کردیا ہے۔ ایک ہماری قسمت ہے' عید کے دوسرے روز حسب معمول چھڑی ہاتھ میں پکڑے صبح سیر کے لئے گھر سے نکلے تو آوارہ کتوں کی پوری ایک جماعت نے بھونکتے ہوئے ہمارا استقبال کیا۔ ان کی استقبالیہ نظم کی ٹیپ کا مصرعہ یوں لگا جیسے وہ کہہ رہے ہوں

بدبوئوں کا جھونکا تیرے سنگ کردیا ہے
دیکھ میں نے تیرا کیا رنگ کردیا ہے
ہماری بستی جنرل فضل حق کے خوابوں کے جزیرے کی گلیاں حالیہ بارشوں میں پہلے ہی سے غلیظ پانی کا جوہڑ بن چکی ہیں۔ قربانی کے جانوروں کی آلائش نے ان کا رنگ مزید چوکھا کردیا ہے۔ وجہ ایک تو اس کی یہ ہے کہ اس کچرا بستی کے تمام چھوٹے بڑے افسر صرف ڈیوٹی نبھانے یہاں روز کے روز آتے ہیں ان کی مستقل رہائش باہر کی ہے۔ ظاہر ہے بستی کا ماحول ان کی نازک مزاجی کو سوٹ نہیںکرتا۔ یہاں کے گلی کوچے' ان کے شایان شان نہیں' بستی کی حفاظت اور نگرانی انہوں نے آوارہ کتوں کے سپرد کردی ہے۔ جس راستے سے بھی گزریں پرے کے پرے آپ کو گارڈ آف آنر پیش کرتے نظر آئیں گے۔ انہیں اس بات کا کیا علم ہوسکتا ہے کہ یہاں کے خالی پلاٹ اور پارک ڈینگی مچھروں کی افزائش نسل کی نرسریاں بن چکے ہیں۔ ہمیں پورا یقین تھا کہ بستی کے ذمہ داروں کے پاس قربانی کے بعد آلائشوں کے اٹھانے کا کوئی بندوبست نہ ہوگا۔ چنانچہ ہم نے عید سے دو ایک روز پہلے ہی اپنے گرد و پیش کے ہمسایوں سے درخواست کی تھی کہ بھائیو! قربانی کے جانوروں کی باقیات کو اپنی مدد آپ کے تحت خود ہی ٹھکانے لگانا ہوگا۔ شریف لوگ ہیں ہماری بات مان گئے' آوارہ کتوں نے ہماری اس منصوبہ بندی پر احتجاج ضرور کیا لیکن ہم محلے والوں نے گڑھے کھودے اور آلائشوں کو ان میں دبا دیا۔ ہماری یہ پیش بندی اور احتیاط زیادہ کامیاب نہ ہوئی جن لوگوں کی گلیوں میں بارش کا پانی کھڑا تھا وہ غلاظتیں ہمارے گھر کے سامنے لا کر ڈھیر کرتے رہے۔ اب قربانی کے جانوروں کی یہ آلائشیں سڑکوں پر بکھری پڑی ہیں۔ آوارہ کتے ' بے سہارا بلیاں اور بھوکے کوے آنت کا کوئی ٹکڑا ہمارے مکان کی چھت پر بھی پھینک جاتے ہیں۔ ہم ضلعی انتظامیہ کے دل و جان سے شکر گزار ہیں انہوں نے ہماری یاد دہانی کے لئے جگہ بہ جگہ صفائی نصف ایمان کے بورڈ لگا رکھے ہیں۔ ہم بھی کیا بد نصیب ہیں کہ ان کی ہدایت کے باوجود اپنے نصف ایمان کی حفاظت نہیں کر پاتے۔ پہلا نصف ایمان تو ہم پہلے ہی سے اپنی بد اعمالیوں کی بھینٹ چڑھا چکے ہیں۔ ظاہر ہے دروغ گوئی' فریب کاری' ملاوٹ کے کاروبار کے سامنے ایمان کہاں سلامت رہ سکتا ہے۔ سوچتے ہیں اپنے بچے کھچے ایمان کے ساتھ پل صراط پر سے گزر بھی سکیں گے یا نہیں۔ یہی سوال ہم نے ایک گراں فروش سے پوچھا تو بڑی ڈھٹائی سے کہنے لگے ہمیں پل صراط پر سے گزرنے کی ضرورت ہی کیا ہے اس جانب ہی بیٹھے اپنا کاروبار کرتے رہیں گے۔ ہمیں اپنے گائوں بغدادہ کے لوگوں سے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ اس بار مردان شہرکی بلدیہ کی کارکردگی بہت بہتر رہی۔ اس کے کارندوں نے شام سے پہلے شہر کے بیشتر علاقے کو آلائشوں سے پاک کردیا تھا۔ ہماری بستی چونکہ بلدیہ کی حدود سے باہرہے یہاں تک ان کی رسائی نہیں چنانچہ ہم غلاظتوں کے درمیان گزر بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ لاہور کے لوگ خوش نصیب ہیں کہ خادم اعلیٰ نے شہر کا کچرا اور غلاظت اٹھانے کا کام ترکی کی کسی فرم کو دے رکھا ہے۔ بد خواہوں کی زبانیں کون بند کرسکتا ہے وہ تو اس پر بھی کہتے ہیں کہ اللہ نے ہم پر کیا حکمران مسلط کردئیے ہیں۔ اپنے گھر کی غلاظتیں بھی نہیں اٹھا سکتے۔ اپنے لیٹرینوں کی صفائی کے لئے بھی ترکی سے لوگ منگواتے ہیں بلکہ وہ تو یہاں تک کہتے ہیں
اپنی غفلت کی اگر حالت یہی قائم رہی
آئیں گے غسال کابل سے کفن چاپاں سے
مگر ہم ان کے اس رد عمل کی ہر گز تائید نہیں کرتے۔ خادم اعلیٰ کو اپنے شہر کی صفائی کااحساس تو ہے چاہے اس کا ٹھیکہ جاپان کو دیں یا پھر ترکی کے سپرد کریں۔ ہمیں ان کی اس منصوبہ بندی کی داد دینا چاہئے کہ انہوں نے اپنے نصف ایمان کی سلامتی کی ذمہ داری کسی کے سپرد تو کردی ہے یہاں تو ہمیں اپنے نصف ایمان کی حفاظت کے لالے پڑے ہیں۔ ہمارے صوبے کے حکمرانوں کو بھی خادم اعلیٰ کے پلان پر عمل کرنا چاہئے۔ ترکی اگر انہیں دور پڑتا ہے تو اپنے کسی قریب کے ہمسائے ملک سے اس ضمن میں مدد لی جاسکتی ہے۔ وہ جو پشتو میں کہتے ہیں پہ شرع کے سہ شرم دے۔ شرعی کاموں میں شرمانے کی کوئی ضرورت نہیں اور یا جو کہا جاتا ہے اخون لہ دے پئے وی اخون کو تو دودھ چاہئے۔ محاورے کا دوسرا حصہ ہم فساد خلق کے خوف سے درج نہیں کرسکتے۔ آخر میں ہم یہی دعا کرسکتے ہیں کہ اللہ ہمارے ایمانوں کی حفاظت فرمائے۔ لیکن کیا صرف دعائوں سے کام چل جائے گا یا پھر اس کے لئے کوئی عملی قدم بھی اٹھانا پڑے گا۔ نازک مسئلہ ہے یہ ہم اپنے مہربان علامہ خلیل قریشی سے پوچھ کر اگلی تحریر میں بتائیں گے۔

متعلقہ خبریں