صراط مستقیم

صراط مستقیم

سیکھنے کا عمل نامعلوم زمانوں سے جاری ہے اور ہمیشہ جاری رہے گا ہر آنے والا دن انسانی تجربات میں نت نئے اضافے کرتا رہتا ہے انسانی فطرت میں موجودتجسس کا جذبہ اسے بہت کچھ سکھا دیتا ہے۔ بچپن میں نانی جان سے کہانیاں سننا ایک لائف ٹائم تجربہ تھا بچے پلک جھپکے بغیر حیران کن کہانیاں اسی لیے سنتے ہیں کہ اس لمحے وہ بہت کچھ سیکھ رہے ہوتے ہیں ان پر اس وقت حیران کن انکشافات ہو رہے ہوتے ہیںاس کے بعد چل سو چل !ساری عمر جاننے کا عمل جاری و ساری رہتا ہے ،کہتے ہیں جو زیادہ پوچھتا ہے وہ زیادہ سیکھتا ہے ہمیں اکثر محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے اندر کا بچہ ابھی تک بڑا مضبوط تندرست و توانا ہے جس بات کی سمجھ نہیں آتی وہ ہم بڑوں سے تو پوچھتے ہی ہیں اپنے چھوٹوں حتیٰ کہ اپنے بچوں بچیوں سے بھی پوچھتے رہتے ہیں ہم نے ایک مرتبہ اپنے ایک بزرگ دوست سے پوچھا کہ اس وقت آپ زندگی کی پچیاسی بہاریں دیکھ چکے ہیںماہ و سال کی اس دھوپ چھائوں نے آپ کو بہت کچھ سکھایا ہوگا زندگی کے بہت سے روپ ہیں بہت سے رنگ ہیں ان سب کو دیکھنا کسی کے لیے بھی ممکن نہیں ہے لیکن پھر بھی آپ نے بہت کچھ دیکھا ہوا ہے ہمیں ایک نصیحت کیجیے جو مختصر اور جامع ہو، تاکہ ہم اس پر عمل کرنے کی کوشش کرتے رہیں ! انہوں نے ہماری طرف مسکراکر دیکھا اور کہا صراط المستقیم ! نصیحت واقعی انتہائی مختصر تھی یعنی سیدھے راستے پر چلو! بعد میں جب اس حوالے سے سوچنے کا موقع ملا تو صراط المستقیم میں تو ایک جہان معنی پوشیدہ تھا یوں محسوس ہورہا تھا جیسے ہمیشہ کی کامیابی کا راز ہی سیدھی راہ پر چلنے میں ہے سیدھا راستہ ہے کیا ؟اس کی تشریح میں دفتر کے دفتر بھی لکھے جائیں تو کم ہے لیکن یہ کام تو پڑھے لکھے لوگوں کا ہے ہماری موٹی عقل میں جوبات آتی ہے وہ بڑی سیدھی سادی سی ہے اللہ پاک اور اس کے پیارے رسولۖ نے جن کاموں کے کرنے کا حکم دیا ہے وہ کریں اور جن کاموں سے روکا ہے ان سے رک جائیں تو بس یہی سیدھی راہ ہے !آگے بڑھتے جائیے تو بہت سے در کھلتے چلے جاتے ہیں، آپ بہت بڑے آفیسر ہیں آپ کی ذمہ داری بھی بہت زیادہ ہے آپ نے دن بھر بہت سے کام کرنے ہوتے ہیں کچھ لوگ آپ سے فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں ایسا فائدہ جو ان کا حق نہیں بنتا اس کے لیے وہ آپ کو مختلف حیلے بہانوں سے رشوت دیتے ہیں آپ رشوت قبول کرلیتے ہیں حقدار کا حق مارا جاتا ہے آپ کی جیب روپوں سے بھر جاتی ہے دراصل وہ روپے نہیں ہوتے سانپ اور بچھو ہوتے ہیں لیکن اس کا پتہ آپ کو بہت دیر سے چلتا ہے کبھی کبھی تو اتنی دیر ہوجاتی ہے کہ پھر اس بد دیانتی کا مداوا آپ کے بس کی بات نہیں ہوتی یہی وہ وقت ہوتا ہے جب آپ سیدھی راہ سے بھٹک جاتے ہیں! آپ دکاندار ہیں دودھ بیچتے ہیں تو دودھ میں خوب پانی ملاتے ہیں ، جنرل سٹور کے مالک ہیں جعلی پیپسی دھڑلے سے بیچ رہے ہیں، دوائیوں کا کاروبار کر رہے ہیں جعلی دوائیاں بیچتے ہیں اور خوب پیسے کماتے ہوئے دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرتے ہیں، ڈاکٹر ہیں آپ نے مرض کی صحیح تشخیص کر لی ہے کسی قسم کے ٹیسٹ کی ضرورت نہیں ہے لیکن مریض کو ٹیسٹ لکھ کر دے رہے ہیں کیونکہ لیبارٹری آپ کی ہے یہ آپ کا سائڈ بزنس ہے ضرورت سے زیادہ دوائیاںلکھ رہے ہیں کیونکہ کیمسٹ آپ کو اس کی باقاعدہ کمیشن دیتا ہے، استاد ہیں بچوں کو کلاس میں پورے خلوص سے نہیں پڑھاتے تاکہ طلبہ آپ کے ٹیوشن سنٹر جوق درجوق آئیں اور آپ اپنی تنخواہ کے علاوہ بھی خوب دولت کما سکیں، نانبائی ہیں غیر معیاری آٹے کی روٹی پکا کر بیچ رہے ہیں روٹی کا وزن بھی کم ہے ، بجلی چرارہے ہیں میٹر میں میٹر ریڈر کے ساتھ مل کر گڑ بڑ کر رکھی ہے بجلی زیادہ استعمال کرتے ہیں بل پھر بھی کم آتا ہے آپ کی استعمال کی گئی بجلی کا بل آپ کے پڑوسی دے رہے ہیںکیونکہ آپ نے جتنی بجلی خرچ کی ہے واپڈا نے تو اس کا معاوضہ ہر صورت وصول کرنا ہے!ٹھیکیدار ہیں ایکسین اور ایس ڈی او کی ملی بھگت سے ایسی عمارتیں سڑکیں اور پل بنارہے ہیں جو بہت جلد شکست وریخت کا شکار ہوجاتی ہیں بسا اوقات تو عمارت یا پل گرنے سے بہت سی قیمتی جانیں ضائع ہوجاتی ہیں ، ایکسین اور ایس ڈی او کمیشن کے نام پر وصول کی گئی رقم گھر لے جارہے ہیں،بیوی بچوں کو حرام کھلارہے ہیں ان کی رگوں میں حرام کے مال سے بنا ہوا خون گردش کر رہا ہے جس کی اپنی تاثیر ہے یہی اولاد اپنے حرامخور والدین کے لیے نہ صرف اس دنیا میں عذاب بن جاتی ہے بلکہ آخرت میں بھی اس حرام مال پر عذاب کی مشقت برداشت کرنی ہوگی جو آپ نے استعمال ہی نہیں کیا۔ بینک اثا ثوں سے بھرے رہ جاتے ہیں اور جھوٹ موٹ کا مالک اس دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے!اپنے ارد گرد غور سے دیکھیے تو آپ کو بہت سے سود خور نظر آجائیں گے، سود پر رقم دی جاتی ہے اپنی مرضی کی شرائط کے ساتھ! یہ وہ لوگ ہیں جو صراط مستقیم سے بھٹک چکے ہیںسب کچھ جانتے ہیں انہیں سب معلوم ہے ان کے اندر ضمیر نام کا ایک گھڑیال موجود ہے جو چوبیس گھنٹے ٹک ٹک کرتا رہتا ہے انہیں جگانے کی کوشش کرتا ہے انہیں بے چین رکھتا ہے لیکن یہ اپنے دل و جاں کی پوری توانائیوں کے ساتھ اس کی آواز دبانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ان لوگوں میں ہم بھی ہوسکتے ہیں آپ بھی ! اس پر ضرور سوچیے گا؟۔