39مسلمان ممالک کا دفاعی اتحاد کس کام کا؟

39مسلمان ممالک کا دفاعی اتحاد کس کام کا؟

کیا روہنگیا مسلمانوں کی قومیت کی اس تعریف پرپورے نہیں اُترتے جس پر 1981ء میں تمام مسلمان ممالک نے اتفاق کیا تھا؟ مسلمان قومیت کی اس تعریف کے مطابق ''تمام مسلمان خواہ وہ کسی بھی رنگ ' نسل ' زبان اور علاقے سے تعلق رکھتے ہوں ایک قوم ہیں۔'' جب ہم نے دنیا کے تمام مسلمانوں کو ایک قوم کافرد قرار دے دیا تو پھر برما کے مظلوم مسلمانوں کی نسل کشی پر ہمارے خون نے جوش کیوں نہیں مارا؟ ہم بے حسی کی چادر اوڑھ کر اب تک کیوں سوئے ہوئے ہیں؟ کیا ہمارا کام محض اتنا ہے کہ اس بربریت کی مذمت کریں اور زیادہ سے زیادہ اقوام متحدہ کے نام اپیل جاری کر دیں کہ وہ مداخلت کرے۔ گزشتہ سال سعودی عرب نے 39مسلمان ممالک کا جو دفاعی اتحاد بنایا تھا وہ آخرکس کام کا ہے؟ کیا اس نام نہاد اتحاد کا کام صرف بادشاہتوں کا تحفظ کرنا اور چند ملکوں کے مفادات کے لیے کام آنا ہے؟ جب آپ علاقے اور نسل کی قید سے ہٹ کر قومیت کا پیمانہ بناتے ہیں تو پھر آپ کا عمل بھی اس سوچ کے تحت ہونا چاہیے۔ ذرا تصور کیجئے کہ اگر سعودی عرب یا کسی دوسرے مسلمان ملک میں اس طرح نسل کشی کے واقعات ہوتے اور غیر مسلم اس میں ملو ث ہوتے تو کیا ان ممالک کا ردِ عمل یونہی ہوتا؟ امر واقعہ یہ ہے کہ سرحدوں کی قید سے آزاد مسلم قومیت کے دعوے تو کیے جاتے ہیں لیکن قومیت کا پیمانہ وہی قومی ریاست ہے جس کو مغرب اور دیگر دنیا نے قبول عام بخشا ہے۔ مغرب ہم سے اس لحاظ سے بہتر ہے کہ انہوں نے اپنے نظریات کے تحت جو دفاعی اتحاد بنا رکھے ہیں انہیں وہ ضرورت پڑنے پر بروئے کار لاتے ہیں۔ دوسری طرف ہم ہیں جو کبھی اوآئی سی کے نام پر بین الاقوامی سطح کی تنظیم بناتے ہیں اور کبھی 39مسلمان ممالک کی افواج پر مشتمل اتحاد تشکیل دیتے ہیں لیکن فلسطین اور کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لیے ہم کبھی بروئے کار آئے اور نہ اب روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کو روکنے میں کچھ کرنے کے ہم قابل ہیں۔ علامہ اقبال نے کہا تھا 

منفعت ایک ہے اس قوم کی نقصا ن بھی ایک
کبھی بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک
آنگ سان سوچی نوبل امن ایوارڈ کی انعام یافتہ ہے اور اس کا کردار یہ ہے کہ لاکھوں مسلمان برمی فوج کی وحشت اور بربریت کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ اس خاتون کی جمہوریت کے لیے قربانیوں کا بھی بہت تذکرہ کیا جاتا ہے لیکن اس نے ایک اقلیت پرمظالم کے جو پہاڑ گرائے ہیں اس سے واضح ہے کہ یہ عورت نہ تو جمہوری ہے اور نہ امن کے انعام کی حقدار۔ روہنگیا کے مسلمانوں پر جو قیامت ٹوٹی ہے وہ سو فیصد اس نام نہاد جمہوریت پسند حکمران کی مجرمانہ خاموشی کا نتیجہ ہے۔ روہنگیا مسلمان دنیا کی سب سے زیادہ جبر سہنے والی اقلیت ہے۔ وہ برما (میانمر) میں صدیوں سے رہتے ہیں مگر انہیں برمی شہریت حاصل نہیں ہے۔ سرکاری اجازت نامے کے بغیر برما میں سفر نہیں کر سکتے اور انہیں پابند کیا گیا ہے کہ وہ لکھ کر دیں کہ وہ دو سے زیادہ بچے پیدا نہیں کریں گے۔ جو بچے پیدا ہوتے ہیں ان کی رجسٹریشن نہیں ہوتی ، جو بچہ رجسٹر بھی کیاجاتا ہے وہ جائے پیدائش کے اندراج کے بغیر کیا جاتا ہے۔ یوں روہنگیا مسلمان بچہ اپنی پیدائش کے دن سے ہی کسی ریاست کا فرد نہیں ہوتا۔ کیا یہ قابلِ رحم حالت نہیں ہے۔ کہاں وہ آنگ سان سوچی اور کہاں اس کا یہ رویہ جو کسی ڈائن سے کم نہیں ہے۔ گزشتہ دس دنوں میں 400برمی مسلمانوں کو شہید کردیا گیا ہے اور نوے ہزار روہنگیا مسلمان اپنے گھروں کو چھوڑ کرہجرت پرمجبور ہوگئے ہیں۔ بچوں اور عورتوںکو زندہ جلا دیاگیا ہے اور بے دردی سے مارے جانے والوں کے جسموں کے ڈھیر لگا دیے گئے ہیں۔ یہ مناظر اس قدر کربناک ہیں کہ دل خون کے آنسو روتا ہے مگر ان غریب اور لاچار مسلمانوں کی داد رسی کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ مغرب کے ہاتھ میں دنیا کی لگام ہے اور وہ انصاف کو مسلمان اور غیر مسلمان کے درمیان تفریق کرتا ہے۔ دوسری جانب مسلمان ممالک اور ان کے حکمران ہیں جن کااحساس مر چکا ہے۔ پیارے نبیۖ نے کہا تھا کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں ، جسم کے ایک حصے کو تکلیف پہنچے تو سارا جسم تکلیف محسوس کرتا ہے۔ یقینا ہم تکلیف محسوس کر رہے ہیں مگر ہم پر حکومت کرنے والے ایک مدت سے اس تکلیف کا احساس نہیں کر رہے۔ مسلمان قومیت بدقسمتی سے قومی ریاستوں میں بٹ چکی ہے اور کوئی نہیں ہے جو ریاستی جبر کا شکار مسلمانوں کی مدد کے لیے آگے بڑھے۔ پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے ، ہمیں تو کم از کم اپنا فرض ادا کرنا چاہیے۔ اگر سعودی عرب، مصر اور دیگر بااثر مسلم ممالک گومگو کی پالیسی اختیار کرتے ہیں اور وہ کردار ادا نہیں کرتے جو بحیثیت مسلم ممالک ان کی ذمہ داری ہے تو ہمیں ان کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے اقوام متحدہ سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے ہمیں ان کی پیروی کرتے ہوئے اقوام متحدہ سمیت تمام فورمزپراپنی آواز بلند کرنی چاہیے۔ کاش مسلمان ممالک متحد ہوتے اور اپنے اس اتحاد کے بل بوتے پر سلامتی کونسل کی مستقل نشست حاصل کرتے تو آج ہم اپنے حقوق اور دفاع کے لیے دوسروں کے رحم و کرم پر نہ ہوتے ۔ سعودی عرب کے بادشاہ نے فوجی اتحاد کا اچھا قدم اُٹھایا تھا لیکن یوں لگتا ہے کہ عالم اسلام کے دفاع اور مسلمانوں کے اغیار کے مظالم سے بچانے کے لیے یہ اتحاد کوئی خدمت انجام دے سکے گا۔

متعلقہ خبریں