آرمی چیف کا عزم

آرمی چیف کا عزم

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے دہشتگردی کے خلا ف عدم برداشت کی پالیسی پر عمل پیرا ہونے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ تمام دہشتگردوں کے خلاف سیکورٹی اور خفیہ اداروں کے مربوط تعاون سے بلا امتیاز آپریشن جاری رکھاجائے،انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کو فول پروف سیکورٹی کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی ، بلوچستان میں دوردراز کے علاقوں میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی سیکورٹی اور امن کی بحالی کے سلسلے میں پاک فوج مکمل معاونت فراہم کرے گی ،صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کی جلد اور بروقت تکمیل کیلئے ان پر کام کی رفتار تیز کی جائے قانون نافذکرنیوالے اداروں کی استعدادمیں اضافے کیلئے مددکی جائیگی۔اپنے پیشرو آرمی چیف جنرل (ر)راحیل شریف کی طرح آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کا یہ عزم صرف سپہ سالارت کا عزم نہیں بلکہ یہ ہر پاکستانی کا عزم ہے اور اس عزم کے حصول کے لئے ہر محب وطن شخص ہر قسم کی قربانی دینے کو تیار ہے ۔ بلا شبہ اس عفریت سے نمٹنے کی بنیادی ذمہ داری ہمارے سیکورٹی کے اداروں ہی کی ہے جو وہ احسن طور پر نبھا رہے ہیں۔ بعض عناصر کی جانب سے جنرل (ر) راحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع کے لئے یہ جواز پیش کیا جا رہا تھا کہ ان کی ریٹائر منٹ سے دہشت گردی کے خلاف جنگ متاثر ہو گی ۔اس بارے دو رائے نہیں کہ جنرل راحیل شریف ہی دہشت گردی کے خلاف مئو ثر آپریشنز کے رہبر تھے لیکن ایک پیشہ ورانہ فوج کی حیثیت سے جس جس کو یہ عہدہ ملے گا اس کی کوشش ہوگی کہ وہ اپنے پیشروسے دو قدم آگے بڑھ کر خدمات انجام دے۔ جنرل قمر باجوہ کا عزم پوری قوم کا عزم ہے اور اس عزم کی تکمیل میں پوری قوم ان کے شانہ بشانہ اور کمر بستہ ہے ۔ آرمی چیف نے اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے ابتدائی دنوں ہی میں فوجی عدالتوں سے سزائے موت پانے والوں کے سزائوں کی توثیق کی ۔ جب بھی دہشت گردوں کی سزائے موت کے فیصلے کی آرمی چیف کی جانب سے توثیق کی جاتی ہے دہشت گردوں کے ساتھی اس کوشش میں ہوتے ہیں کہ وہ جلد سے جلد اس کا رد عمل ظاہر کریں ۔بعض اوقات ان کو کامیابی بھی ملتی ہے لیکن کچھ عرصے سے وہ کسی رد عمل کا اظہار کرنے میں ناکام رہے ہیں ۔معلوم نہیں کہ دہشت گرد اس قابل نہیں رہے یا پھر ان کی مذموم کوششوں کو سیکورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا ہو ۔ حال ہی میں مہمند ایجنسی میں دہشت گردوں کی ایف سی کیمپ کے اندر واقع مسجد میں نماز فجر کے وقت گھس کر حملہ کرنے کو ایف سی کے جوانوں نے مستعدی کے ساتھ ناکام بنایا اور جام شہادت نوش کرکے دہشت گردوں کو بھی جہنم واصل کیا وہ پوری قوم کے عزم و حوصلے میں اضافے کا باعث بنا ۔ آرمی چیف کا عہدہ سنبھالنے کے بعد جنرل باجوہ کا سب سے پہلے الیون کور ہیڈ کوارٹر اور قبائلی علاقوں کے دور ے سے ان کی ترجیحات بخوبی واضح ہیں ۔ ان کا دورہ یقینا ان مشکل علاقوں میں خدمات انجام دینے والے افسروں اور جوانوں کے لئے حوصلہ افزائی کا باعث ہوگا ۔ اس امر کے اعادے کی ضرورت نہیں کہ کور کمانڈر پشاور ہدایت الرحمن کی سربراہی میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جوانو ں کی قربانیاں اور خدمات کسی سے پوشیدہ نہیں ۔جہاں تک ترجیحات کا سوال ہے ہمارے تئیں ملکی سلامتی و دفاع میں مشرقی سرحدوں کے ساتھ ساتھ مغربی سرحدوں پر برابر کی توجہ اور بلوچستان کے حالات کو ساز گار بنانے کے ساتھ ساتھ سندھ اور خاص طور پر کراچی میں جاری حالات بھی کچھ کم اہم نہیں مستزاد جنوبی پنجاب میں دہشت گردوں کی استراحت گاہوں اور مراکزکی تطہیر بھی قومی ایکشن پلان کا حصہ ہے جو سیاسی و عسکری قیادت کے لئے یکساں توجہ کے امور ہیں۔ جہاں تک بلوچستان کے حالات کا تعلق ہے ہم سمجھتے ہیں کہ سی پیک اور گوادر پورٹ کی اہمیت اپنی جگہ اس سے بڑھ کر بلوچستان میں قومی وملکی عملداری کو مکمل طور پر مستحکم کرنا سب سے زیادہ ضروری امر ہے ۔ بلوچستان میں حالات میں بڑی حد تک بہتری آگئی ہے ۔ اگر دیکھاجائے تو بلوچستان میںحکومت کی مثبت پالیسیوں کے نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔ بلوچستان میں ناراض بلوچوں کو قومی دھارے میں لانے کیلئے ''پرامن بلوچستان''کے تحت جن اقدامات اور ترغیبات کا اعلان کیا گیا تھا اس کا مثبت جواب سامنے آیا ہے۔ بلوچستان بھی پسماندہ اور دشوار گزار علاقہ ہے جہاں بہکاوے میں آئے ہوئے عناصر کو ترغیبات کے ذریعے قومی دھارے میں لانے کی پالیسی موزوں حکمت عملی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو حکومت کی عوام کی بجائے سرداروں اور وڈیروں کی سرپرستی پر مبنی پالیسیوں کے خلاف سخت ردعمل کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا تھا۔ اسے ایک وجہ سمجھ کر دور کرنے کی حدتک تسلیم کرنے میں کوئی قباحت نہیں بلکہ مستحسن ہے لیکن اس کو جواز کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا کیونکہ کسی بھی حالت میں ریاست وحکومت کے مد مقابل آنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جاسکتی ۔بلوچستان میں قیمتی وسائل کی بھر مار ہے۔ گوادر رپورٹ اور پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے سے بلوچستان مستقبل کا دبئی بننے جارہا ہے جس کیلئے سب سے زیادہ ضروری امر پر امن بلوچستان ہے۔ خیبرپختونخوا اورملحقہ قبائلی علاقہ جات کو خارجی اور دشمن عناصر سے پاک کرنے کے عمل کی تکمیل کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں قیام امن کی ذمہ داری نبھانا۔ بلوچ عوا م کو قومی دھارے میں لانا اور ان کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنا قومی ترجیح اول ہے۔ آرمی چیف نے جس عزم کا اظہار کیا ہے وہ ہمارا قومی عزم ہے اور اس عزم کی تکمیل کی جدوجہد میں پوری قوم آرمی چیف کے ساتھ ہے ۔

متعلقہ خبریں