ہیلپ لائن کو مئو ثر بھی بنانا ہوگا

ہیلپ لائن کو مئو ثر بھی بنانا ہوگا

خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے معاشرتی نا انصافیوں ، صنفی تشدد اور حقوق سے محرومی کی شکایات کے لئے ٹال فری بولو ہیلپ لائن متعارف کرانا احسن ہوگا۔ ہمارے تئیں اس ہیلپ لائن کو مئوثر اور کار آمد بنانے کے لئے حکومت کو مئو ثر اقدامات کرنے ہوں گے ۔ سب سے پہلے تو اس ہیلپ لائن کو مسخرہ پن اور مذاق کے لئے استعمال کرنے والوں کی روک تھام کرنا ہوگی۔ اس وقت بھی ریسکیو 1122اور دیگر امدادی وشکایتی نمبر وں پر غیر ضرور ت منداور غیر متعلقہ افراد کی کالوں کی بھر مار ہے۔ یہ لوگ پولیس تک کو تنگ کرنے میں اس لئے بھی نہیں چھجھکتے کہ ان کو گرفتاری اور قانون کا ڈرنہیں۔ اس قسم کے لوگ ذہنی طور پر بیمار اور بے حس قرار دیئے جاتے ہیں جو دوسروں کو اذیت دے کر اور سرکاری اداروں کو جھوٹی شکایات اور اطلاعات دے کر تسکین محسوس کرتے ہیں۔ ان کے نز یک یہ شغل اور تفریح ہوگی جس کا ان کو مزہ چکھانے کے لئے اقدامات پر توجہ کی ضرورت ہے بہر حال اس مشکل کے قطع نظر ہیلپ لائن کو مئوثر بنانے کا تقا ضہ ہوگا کہ یہاں کال کرنے والوں کو مشورے ، قانونی معاونت پولیس کی خدمت لینے اور صلح و صفائی جیسے مختلف النوع خدمات کی تسلی بخش فراہمی ہی اس کے قیام کے جواز کو مفید ثابت کرے گا ۔ تو قع کی جانی چاہئیے کہ حکومت اور متعلقہ اداروں کے علاوہ اس ہیلپ لائن کا عملہ مل کر یہاں رابطہ کرنے والوں کی سعی و تشفی واشک شوئی کا باعث ہوں گی اور ا ن کو اگر کسی قسم کے مزید مدد کی ضرورت ہوتو وہ بھی پوری کرنے کا سامان ہوگا ۔ شہریوں کو خود اُن کے مفاد میں مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اس طرح کی سہولتوں کا ذمہ دارانہ استعمال کرنا سیکھیں اس طرح کی سہولتوں کا غیر ذمہ دارانہ استعمال نہ صرف ان اداروں میں کام کرنے والوں کے لئے مشکلات کا باعث بنتا ہے بلکہ بسا اوقات لائن مصروف ملنے پر کوئی اہم اطلاع بر وقت نہیں مل پاتی یا پھر عدم اعتماد کے باعث بعض اطلاعات کی تصدیق میں وقت صرف ہوتا ہے۔ بہتر ہوگا کہ اس ہیلپ لائن کو مئو ثر بنانے کی حکومتی ذمہ داریوں میں عوام اور خاص طور پر با شعور اور مئوثر افراد اپنا حصہ ڈالیں تاکہ اسے مفید مدد گار لائن بنایا جا سکے جس پر شہری بوقت ضرورت اعتماد کے ساتھ کال کر سکیں ۔
حیات آباد میں گرانفروشی کا مسئلہ
حیات آباد کی مارکیٹوں میں اشیائے صرف کی معمول سے زیادہ مہنگائی اور کئی گنا قیمتوں پر فروخت ایک ایسا سنگین مسئلہ بن چکا ہے جس پر انتظامیہ اچھی خاصی کوششو ں کے باوجود ناکام رہی ہے ۔ انتظامی اقدامات کے ذریعے ناکامی کے بعد حکومتی اداروں کو یو ٹیلٹی سٹوروں کے ساتھ ساتھ صوبائی اور ضلعی انتظامیہ کے زیر انتظام فیئر پرائس شاپس قائم کر کے عوام کو مقررہ نرخوں پر اشیائے صرف کی فراہمی کا تجربہ کرنا چاہیئے۔ اس ضمن میں انتظامیہ علاقے کے عوام سے رائے طلب کرے تو ممکن ہے کوئی بہتر تجویز سامنے آئے ۔ پی ڈی اے کے اہلکار اور انتظامیہ حیات آباد میں مارکیٹوں سے باہر خالی پلاٹوں پر کھڑے ہو کر مرغ فروشوں اور سبزی فروشوں کے خلاف آئے روز جو کارروائی کرتی ہے از روئے قانون اس میں کوئی کلام نہیں لیکن اس سے مارکیٹ میں سبزی فروشوں اور مرغ فروشوں کی چاندی ہو جاتی ہے۔ اگر پی ڈی اے حکام اور انتظامیہ بعض موزوں مقامات پر چھوٹے چھوٹے سٹال لگانے کی اجازت دیں اور سبزی فروشو ں کو جگہیں فراہم کی جائیں تو صفائی کی صورتحال کی رعایت رکھتے ہوئے شہریوں کو سہولت دینا اور گرانفروشوں کا مقابلہ ممکن ہوگا ۔ حیات آباد کی تمام مارکیٹوں سے خریداری کرنے والے شہریوں کو معلوم ہے کہ قصابوں ، نانبائیوں تجاوزات کرنے والوں ، اشیائے خوردنی کی کھلے عام حفظان صحت کے اصولوں کے برعکس فروخت کرنے والوںسے کوئی پرسان حال نہیں ۔ جنرل سٹور ز مالکان سرکاری نرخنامے آویزاں تو کر تے دکھائی دیتے ہیں مگر اس کے مطابق نرخ وصول نہیں کئے جاتے۔ شہری آخر شکایت کریں تو کس سے کریں۔ ڈپٹی کمشنر پشاور کو شکایت کرنے کیلئے ایک ایس ایم ایس سروس کا اجراء کیاگیاتھا ابتداء میں چند نمائشی اقدامات کے بعد اب ان تلوں میں بھی تیل باقی نہیں رہا جس کے بعد عوام بے رحم تاجروں اورمنافع خوروں کے رحم وکرم پر ہیں۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک کو ا س معاملے پر فوری طور پر چیف سیکرٹری اور کمشنر کی سطح پر اقدامات کی ہدایت کرنی چاہیے تاکہ عوام کو لوٹنے والوں کو لگا م دی جاسکے۔

متعلقہ خبریں