پیپلزپارٹی کا انچاسواں یومِ تاسیس

پیپلزپارٹی کا انچاسواں یومِ تاسیس

پاکستان پیپلزپارٹی کے یوم تاسیس کے حوالے سے ''ہفتہ تاسیس'' منگل کے روز اختتام کو پہنچا۔ پیپلزپارٹی کا قیام لاہور میں عمل میں آیا تھا۔ ہفتہ تاسیس کی تقریبات بھی بلاول ہاؤس لاہور ہی میں منعقد ہوئیں۔ ان تقریبات میں اگرچہ کلچرل شو بھی ہوئے تاہم پارٹی کے نو عمر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی تقریریں ہی نمایاں تھیں۔ ایک اور نمایاں بات یہ تھی کہ اگرچہ لاہور میں اب بھی چند ایک نامور لوگ زندہ موجود ہیں جو اولین یوم تاسیس میں شریک تھے لیکن 49ویں یوم تاسیس میں گئے وقت کی نشانی کے طور پر بھی نظر نہیں آئے۔ اگرچہ پارٹی کے بعض بزرگ رہنما بھی ان تقریبات میں لہکتے نظر آئے تاہم یاد نہیں کہ وہ اولین یوم تاسیس میں کہیں موجود تھے۔ بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کے بعد جب محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے پارٹی کی باگ ڈور سنبھالی تھی تو انہوںنے پارٹی کے بزرگ رہنماؤں کی بجائے قیادت کے لیے نوجوان ارکان کو ترجیح دی تھی۔ انہوں نے بھی بڑے عوامی اجتماع میں سامنے آنے کے لیے لاہور ہی کا انتخاب کیا تھا اور ایک بڑے عوامی جلسے کے ہمراہ داتا دربار گئی تھیں جہاں انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی پارٹی ایجے لی ٹیرین کی سوسائٹی قائم کرنا چاہتی ہے۔ یہ انگریزی اصطلاح ان کی تقریر سننے والے جم غفیر کی سمجھ میں آئی یا نہیں لیکن انہوں نے بدلے ہوئے زمینی حقائق سے مطابقت کا ثبوت دیا تھا۔ وہ شہید بھٹو کی مظلوم بیٹی تھیں، لاہور اور سارا پاکستان ان پر نچھاور ہونے کے لیے تیار تھا۔ محترمہ نے اپنے آپ کو پاکستان کی زیرک سیاستدان ہونے کا ثبوت دیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید پاکستان آئیں انہوں نے پارٹی کی سیاسی مہم شروع کی جس کے دوران وہ شہید ہو گئیں۔ اس کے باوجود کہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو شہید کے ساتھیوں کو پارٹی کی مرکزی حیثیت سے پیچھے ہٹا دیا تھا اور پارٹی کے اسلامی سوشلزم روٹی ' کپڑا اور مکان کے اساسی نعروں (یا نصب العین) کی بجائے ایجے لی ٹیرین سوسائٹی کا نصب العین دیا تھا۔ ان کی شہادت نے پارٹی کو ایک بار پر عہدہ صدارت اور وفاق میں حکومت میں فائز کر دیا۔انچاس سال پہلے کے زمینی حقائق اور تھے ۔ دنیا بھرمیں سوشلزم کا شہرہ تھا جس کی مختلف شکلیں سامنے آرہی تھیں۔ برصغیر میں انگریز کی حکمرانی کے خلاف سیاسی سرگرمیوں اور دوسری طرف بائیں بازو کی پارٹیوں کے فیلڈ ورک نے پر فعال پڑھے لکھوں کی ایک بڑی تعداد پیدا کی تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو شہید نے ان نوجوانوں کو آواز دی' اس وقت کے زمینی حقائق کے مطابق نعرے دیے۔ آج انچاس سال بعد اگرچہ بنیادی طور پر عوام کے مسائل وہی ہیں لیکن سیاسی بیانیہ وہ نہیں ہے۔ آج یوم تاسیس پر پیپلزپارٹی سے توقع تھی کہ وہ اس سیاسی بیانیہ کے خدوخال اجاگر کرے گی جو اس کے نصب العین کے لیے سازگار ہو ، نئے نعرے عوام کو دے گی جو انہیں سیاسی شعور دیں اور متحد کر سکیں۔ پارٹی کے نعروں جیہڑاواہوے اوہوئی کھاوے' اسلام ہمارا دین ہے ' سوشلزم ہماری معیشت ہے اور جمہوریت ہماری سیاست ہے۔ مانگ رہا ہے ہر انسان روٹی کپڑا اور مکان کی تشریح آج کے حقائق کے حوالے سے کی جاتی اور عوام میں اتحاد فکر و عمل پیدا کرنے کے لیے رہنمائی دی جاتی۔ آج انچاسواں یوم تاسیس پر ایک طرف پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ 2018ء کے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے پاکستان کے وزیر اعظم بن جائیں گے۔ حالانکہ 2018ء میں وہ اس عمر کو نہیں پہنچیں گے کہ وہ آئین کے مطابق وزارت عظمیٰ کی ذمہ داریاں سنبھال سکیں۔ انہوں نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ 2018ء کے عام انتخابات میں ان کی پارٹی چاروں صوبوں میں شاندار کامیابی حاصل کرے گی۔ انہوں نے بار بار اپنے چار مطالبات دہرائے جو اگر تسلیم نہیں کیے جائیں گے تو وہ 27دسمبر سے گو نواز گو کی مہم چلائیں گے۔ اس میں انہوں نے ایک نیا مطالبہ وزیر داخلہ (چوہدری نثار علی خان) کو تبدیل کرنے کا بھی شامل کر دیا ۔ فرض کیجئے وزیر اعظم نواز شریف کی حکومت پاناما انکشافات کے حوالے سے پیپلزپارٹی کے بل کی (قومی اسمبلی میں) منظوری دے دے' وہاں سے یہ بل سینیٹ میں چلا جائے اور قانون بن کر عدالت میں چلا جائے اور عدالت اس کے مطابق از سرِ نو پاناما انکشافات کے معاملے پر غور شروع کر دے تو اس سے پاکستان کی سیاست یا پاکستان کے عوام کے مسائل پر کیا اثر پڑے گا اور پیپلزپارٹی کی اس میں کیا کامیابی دکھائی دے گی؟ اقتصادی راہداری پر اے پی سی کی قراردادوں پر عمل کرنے پر تیار ہو جائے۔ ایک وزیر خارجہ بھی تعینات کر دے اور پارلیمنٹ کی نیشنل سیکورٹی کمیٹی کی از سرِ نو تشکیل پر بھی راضی ہو جائے بلکہ چوہدری نثار کی جگہ کسی اور مسلم لیگی کو وزیر داخلہ تعینات کر دے تو اس سے پیپلز پارٹی کو ایسا کیا سیاسی فائدہ حاصل ہو جائے گا جس کی بنا پر بلاول بھٹو زرداری 2018ء کے عام انتخابات میں پیپلزپارٹی کو چاروں صوبوں میں کامیابی دلوا سکیں گے اور خود وزیر اعظم بن سکیں گے؟ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف تین بار وزیر اعظم بننے کے باوجود اس عہدہ کی ذمہ داریاں نبھانے کو تیار نہیں تو یہ کام وہ خود کر لیں گے۔ جو مطالبات انہوں نے وزیر اعظم کے سامنے پیش کیے ہیں کیا یہی وہ ذمہ داریاں ہیں جنہیں پوری کرنے میں وزیر اعظم نواز شریف کامیاب نہیں ہوئے۔ اگر بلاول کا اشارہ بعض دوسری ذمہ داریوں کی طرف ہے تو وہ ان کا ذکر کرنے کی بجائے چار مطالبات پر کیوں زور دے رہے ہیں۔ یوم تاسیس کے حوالے سے توقع تھی کہ پارٹی آج کے حالات میں پارٹی کے نصب العین اور عوام کے مسائل کے حل کے بارے میں غور و فکر کرے گی۔ پارٹی کی تنظیم اور عوامی رابطے کے بارے میں کوئی رہنما اصول مرتب کرے گی اور پارٹی پر لگنے والے الزامات سے پارٹی کو پاک کرنے کے لیے لائحہ عمل مرتب کرے گی۔ ایسی کوشش نظر نہیں آئی۔ 

متعلقہ خبریں