انقلابی جدوجہدکی عملی تصویر

انقلابی جدوجہدکی عملی تصویر

انقلابی جدوجہدکی عملی تصویر فیڈل کاسترو کی مشت خاک کل خاک کے سپردکردی گئی مگر جو انہوں نے کہا تھا انقلاب مستقبل اور ماضی کے درمیان موت تک جدوجہد جاری رکھنے کا نام ہے اور یہ سب کچھ انہوں نے اپنی زندگی سے ثابت کردیا۔ 26نومبر جب کیوباکے عظیم رہنما اور کیوبن عوام کے نجات دہندہ فیڈل کاسترو 90سال کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوئے تو امریکہ کے نو منتخب صدر نے ان کے انتقال کو اپنے انداز میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا آج دنیا کو ایک بوچر یعنی ظالم انسان سے نجات مل گئی۔ ظاہر ہے جب آقا اس نوع کا رد عمل ظاہر کردے تو پھر حاشیہ برداروں کو ان کی رحلت پر کوئی تعزیتی بیان جاری کرنے کی کیا جرأت ہوسکتی ہے یا پھر ان کے حق میں کلمہ خیر کہہ کر انکی اس جدوجہد کا کیا ذکر کرتے جسکے نتیجے میں صرف گیارہ لاکھ کی آبادی امریکہ جیسی دنیا کی واحد طاقت کے بغل میں اپنی تمام تر نظریاتی اختلاف کے باوجود ایک خود مختار ملک کے طور پر زندہ رہی اور با وقار طریقے سے زندہ رہی۔ شنید ہے 109884 کلو میٹر پر پھیلے ہوئے اس جزیرے میں کوئی رات کو بھوکا نہیں سوتا۔ 120افراد کے لئے ایک معالج ہے۔ تنخواہ اس کی وہی ہے جو ایک مزدور کی ہوتی ہے۔ وہاں آج تک ڈاکٹروں کاکوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوا۔ ہسپتالوں میں کبھی کوئی ہڑتال نہیں ہوئی۔ وہاں کسی معالج کو پرائیویٹ پریکٹس کی اجازت نہیں۔ وہ جو کہا جاتا ہے ایک شخص اپنی کمپنی سے پہچانا جاتا ہے عظیم انقلابی چی گویرا فیڈل کاستروکا دوست تھا۔ افریقہ کا مرد حر نیلسن منڈیلا کے ساتھ ان کی نظریاتی ہم آہنگی تھی اور ان کا تیسرا ہم راز اور یارغارہو گوشاویز تھا۔ فیڈل کاسترو نے ساری زندگی سرمایہ پر پلنے والے اور عوام کا خون چوسنے والے خونخوار درندوں کو نہ صرف کیوبا کے قریب بھٹکنے کی اجازت دی بلکہ صحت' تعلیم اور سماجی شعبوں میں جدید ترقی کے سارے میدانوں میں دنیا کی ساری بڑی طاقتوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ دو کمروں کے ایک مختصر مکان میں ساری زندگی رہنے والا فیڈل کاسترو کیوبا میں پیدا ہوا۔ ماں کا نام فرشتہ بیگم تھا۔ جی ہاں اینجلہ اور باپ اینجلو کاسترو تھے۔ وہ ساری زندگی صرف اپنے عوام کے لئے زندہ رہا۔ دنیا میں کسی بھی جگہ جب کسی بھی ملک کی قوم پر کوئی آفت آئی تو عملاً ان کے مصائب کو کم کرنے میں بھرپور حصہ لیا۔ 8اکتوبر2005ء کو پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں جب ایک تباہ کن زلزلہ آیا جس میںتقریباً 80ہزار افراد لقمہ اجل بنے اور کم و بیش ساڑھے تین لاکھ بے گھر ہوگئے۔ اس المیے پر فیڈل کاسترو کا پہلا بیان یہ آیا کہ پاکستان میں اس آسمانی آفت کا سن کر میری راتوں کی نیند اڑ گئی ہے اور میں آزاد کشمیر کے تباہ حال لوگوں کے مصائب کے تصور سے بے خوابی کا شکار ہوگیا ہوں۔ انسانیت کے لئے درد دل رکھنے والے اس عظیم انقلابی نے فوری طور پر پاکستانی صدر جنرل مشرف کو 200 ڈاکٹر روانہ کرنے کی پیشکش کردی جس کے جواب میں ابتدائی طور پر50ڈاکٹرز روانہ کرنے کے لئے کہا گیا۔ زلزلے کے صرف ایک ہفتے کے اندر کیوبن طبی عملہ پاکستان پہنچ چکا تھا۔ کچھ عرصہ بعد یہ تعداد ڈھائی ہزار تک سے بھی تجاوز کرگئی جن میں نصف تعداد خواتین کی تھی۔ یہ خواتین ان ہزاروں افراد کو ہمہ وقت طبی امدادفراہم کرنے میں مصروف رہتیں جن کی خدمت میں بعض اوقات مردوں کو بھی تردد رہتا۔ کیوبا کے رضا کاروں نے ایسے علاقوں میں امدادی کیمپ کھڑے کئے جو اس وقت طبی سہولتوں سے محروم تھے۔ کیوبن رضا کاروں کی خدمات صرف زلزلے کے متاثرین تک محدود نہ تھیں بلکہ وہ ایسے لوگوں پر بھی توجہ دے رہے تھے جو ایک عرصے سے لا علاج بیماریوں کا شکار تھے۔ ان دنوں ایسی اطلاعات بھی مل رہی تھیں کہ جب کیوبا کا طبی عملہ ہمارے بہت سے پاکستانی رضا کاروں کا سامان اپنے کاندھوں پر لاد کر ایسے دشوار گزار علاقوں پر جانے کے لئے تیار ہو جاتا جہاں تک پہنچنا وہ نا ممکن سمجھتے تھے تو اس پر انہیں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ جنرل مشرف کو جفری ریو بریگیڈ کا ممنون ہونا پڑا تھا۔ یہ بریگیڈ اس امریکی رضا کار کے نام پر قائم کیا گیا تھا جس نے19ویں صدی میں کیوبا کی آزادی کی جنگ میں حصہ لیا تھا۔ یہ بریگیڈ دوسرے ملکوں کے رضا کاروں کے مقابلے میں زیادہ عرصہ تک پاکستان میں مقیم رہا اور اپنے مشن کو مئی 2006ء تک جاری رکھا۔ اس بریگیڈ نے رخصت ہوتے وقت اپنے تمام فیلڈ ہسپتال اور اس کا ساز و سامان ہماری فوج کے سپرد کردیا ۔ اس موقع پر کیوباکی حکومت نے پاکستانی طلباء کی طبی تعلیم کے لئے ایک ہزار وظائف کی پیشکش بھی کی۔ پاکستان میں شاندار خدمات انجام دینے کے بعد جب کیوبا کا طبی عملہ اور دیگر رضا کار واپس وطن پہنچا تو ان کا فقید المثال استقبال کیاگیا یہ وہ شخص تھا جس کا 90 سال کی طویل زندگی میں اس کے انتقال تک ایک ظالم' آمر اور بے رحم قاتل کے نام سے یاد کرکے مذاق اڑایاگیا۔ 2005ء میں جب پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں زلزلے نے 80ہزار افراد کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا تو اس ظالم اور بے رحم انسان نے بیان دیا تھا کہ مجھے عالمی تاریخ میں اس سے بڑی کوئی آسمانی آفت یاد نہیں پڑتی جس نے میرا سکون چھین لیا ہے۔ اس المیے کے نتیجے میں پاکستانی عوام کو ایک عظیم تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔ فیڈل کاسترو کی زندگی کو سامنے رکھ کر بجا طور پر کہاجاسکتا ہے کہ انقلاب مستقبل اور ماضی کے درمیان موت تک جدوجہد کو جاری رکھنے کا نام ہے۔ بالیقین وہ اس انقلابی جدوجہد کی ایک عملی تصویر تھے۔

متعلقہ خبریں